مسلم دنیا کےضمیرفروش حکران
شاہ عبدالله کی امریکی صدراوبامہ سےملاقات اپنی مکمل حمایت اوروفاداری کی یقین دہانی

اردونیوزمیگزین 30 جون 2010
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات میں ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی لئے عالمی برادری کی کوششوں کی مکمل حمایت کردی گئی۔ پاکستان اور افغانستان کی صورتحال پر غور کے علاوہ فلسطینی ریاست کے قیام اور انتہاپسندی کیخلاف مل کر لڑنے پر بھی زور دیا گیا۔صدر اوباما نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں فلسطینیوں کے ایسے وطن کے قیام کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جو ایک محفوظ اور خوشحال اسرائیل کے ساتھ رہ سکے۔ جبکہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی بھی حمایت کی گئی۔ اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ بالواسطہ بات چیت براہ راست مذاکرات کی بحالی کا ذریعہ بنے گی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق شاہ عبداللہ نے دو ہزار دو کے اس منصوبے کی حمایت کا اعادہ کیا جس کے تحت مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرلیا جائیگا۔ صدر اوباما اور شاہ عبداللہ نے ایرانی جوہری پروگرام روکنے کے سلسلے میں عالمی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کی گئی۔ صدر اوباما نے بتایا کہ ملاقات میں عالمی معاشی بحالی اور اقتصادی ترقی کیلئے سعودی عرب اور امریکا کے مل کر کام کرنے پر بھی بات کی گئی۔
ادھر امریکہ کےایک اوروفادار متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی روشنی میں جوہری سیکیورٹی قائم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانا شروع کردیے ہیں۔ ابوظہبی میں Global Initiative To Combat Nuclear Terrorism کے دو روزہ اجلاس کے موقع پر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی میں عرب امارات کے مستقل نمائندے حماد ال کعبی نے بتایا کہ یو اے ای جوہری سلامتی یقینی بنانے کے علاوہ ایٹمی مواد کے غیر پُرامن مقاصد کے استعمال کی روک تھام کیلئے بھی کوششیں کررہا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے اماراتی فورسز نے بھی ممنوعہ سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے۔ اور ایسے کئی بحری جہازوں کو روکا جاچکا ہے جن پر ہتھیار بنانے میں استعمال ہونے والے ممنوعہ کارگو کی شپمنٹ کا شبہ تھا |