منحرف چینی مصنف کیلئے نوبل انعام، چین کا ناروے سے احتجاج

بیجنگ/اوسلو ( اردونیوزمیگزین رپورٹ ) چین نے منحرف مصنف لو زیباوٴ کو امن کا نوبل انعام برائے 2010ء دینے پر ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج کیا۔ چینی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناروے کی نوبل کمیٹی نے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور منحرف مصنف لوزیباوٴ کو امن کا نوبل انعام دینے سے اوسلو کے ساتھ چین کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں ۔ اس سے قبل سال 2010ء کا نوبل پیس پرائز چینی مصنف لو زیباوٴ کو دیا گیا ہے جو آزادی تقریر کیلئے منشور لکھنے کے الزام میں 11 سال کی قید کاٹ رہا ہے۔چینی ترجمان نے مزید کہ امن کا نوبل انعام ان لوگوں کو دینا چاہئے جو نسلی ہم آہنگی ، بین الاقوامی دوستی اور عدم تشدد کو فروغ دیں اور امن کے اجلاسوں کا انعقاد کریں، اور یہی الفرڈ نوبل کی خواہش تھی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ لو زیباوٴ چینی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے اور انہیں چینی عدالت نے سزا دی ہے۔
صدرآصف علی زرداری کادورہ چین
.jpg)
پاک چین دوستی اور تعاون جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث ہیں، چین گوادر کی بندرگاہ سے بھرپور استفادہ حاصل کرے۔
اردونیوزمیگزین 9جون 2010
صدر آصف علی زرداری نے چینی وزیراعظم وین جیابائو کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ پاک چین دوستی اور تعاون جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث ہیں، چین گوادر کی بندرگاہ سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔ دونوں ممالک کو ایشیائی مارکیٹوں تک رسائی کیلئے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ جبکہ دونوں رہنمائوں نے سٹریٹجک تعلقات اور اقتصادی تعلقات کیلئے عوامی رابطے پر اتفاق کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے بیجنگ میں چینی وزیراعظم وین جیا بائو کے ساتھ باضابطہ ملاات میں دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ صدر زرداری نے کہاکہ چین نے بینظیر شہید کے دورحکومت میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ پی پی کی موجودہ حکومت چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے چین کی ویسی ہی امداد کی خواہاں ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ سڑکوں، تیل پائپ لائن اور آپٹک فائبر کے ذریعے رابطے قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس موقع پر چینی وزیراعظم نے کہاکہ چین عطاء آباد جھیل کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ پاک چین دوستی کی 60 ویں سالگرہ بھرپور انداز میں منائی جائے گی۔ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے عالمی برادری کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کے لئے آگے آئے۔ انہوں نے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے چینی عوامی مشاورتی کانفرنس کے چیئرمین جیاچنگ لن سے عظیم عوامی ہال میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
شمالی کوریا اورجنوبی کوریا میں جنگ کا خطرہ
ہیلری کلنٹن چین پہنچ گئیں،شمالی کوریا اورایران پرپابندی لگوانے کی کوششیں
.jpg)
بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین اقتصادی اور سیاسی تعاون پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے بعد یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ چین اور امریکہ کی طرف سے جزیرہ نماکوریا کی بحرانی صورتحال کے فوری حل کے لئے دئے گئے بیان کے بعد بھی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر الزام عائد کیا ہے کہ سیول حکومت سمندری حدود کی خلاف وزری کی مرتکب ہو رہی ہے اور اگر یہ عمل نہ روکا گیا تو وہ عسکری کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
گزشتہ ہفتے ایک بین الاقوامی غیر جانبدانہ تحقیقاتی کمیشن نے انکشاف کیا تھا کہ 26 مارچ کو جنوبی کوریا کا جنگی بحری جہاز محض ایک حادثہ کی وجہ سے نہیں ڈوبا تھا بلکہ اسے شمالی کوریا نے دانستہ طور پرتباہ کیا تھا۔ اس واقعہ میں جہاز میں سوار 46افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے مابین تعلقات ایک مرتبہ دوبارہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوبی کوریا کے بحری جہاز کو ایک تارپیڈو حملےکے ذریعے تباہ کیا گیا۔ شمالی کوریا ایسے تمام الزامات کو مسترد کر رہا ہے۔
اس واقعہ کے بعد جزیرہ نما کوریامیں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور روایتی حریف ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر آن پہنچے ہیں۔ منگل کوامریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن حکومت چین سمیت فریقین کے ساتھ مل کر اس کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے ضروری اقدامات کرے گی۔
عالمی منظر نامے پر شمالی کوریا کے حلیف سمجھے جانے والے چین نے ابھی تک اس واقعہ کی مذمت نہیں کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پیونگ یانگ پر پابندیاں لگانا بھی مشکل ہو گا کیونکہ چین کے پاس ویٹو کا حق ہے۔
جہاز تباہ ہونے کے نتیجے میں چھیالیس افراد بھی ہلاک ہوئے تھے
چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ جزیرہ نما کوریا میں بحرانی صورتحال کے خاتمے کے لئے امریکہ سے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔
چینی اسٹیٹ کونسلر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور امریکہ سمجھتے ہیں کہ مشرقی ایشیا اور جزیرہ نما کوریا میں قیام امن نہایت اہم ہے۔ اس پریس کانفرنس میں دیگر اعلیٰ امریکی حکام کے علاوہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی موجود تھیں ۔ کلنٹن نے بھی کہا کہ واشنگٹن اور بیجنگ خطے میں قیام امن کے لئے مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا:’’ شمالی کوریا کے طرف سے بحری جہاز تباہ کرنے کے جارحانہ عمل کے بعد پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کو درست کرنا ہو گا۔‘‘
دوسری طرف روسی صدر نے اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب سے ملاقات کے بعد زور دیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں جنگ نہیں ہونی چاہئے۔ میدویدف نے کہا کہ اطراف اس معاملے کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
خیال رہے کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین سمندری حدود پر تنازعات پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان متعدد بارسمندری جھڑپیں بھی ہوئیں ہیں۔

جنوبی کوریا کے ایک بحری جہاز کی غرقابی کے بعد جزیرہ نماکوریا پر شمالی اور جنوبی حصوں کی ریاستوں کے مابین کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے جملہ تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کی طرف سے اس کے ایک بحری جہاز ڈبونے کا الزام شمالی کوریا پر لگائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے سیئول نے پیانگ یانگ کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہو۔ ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن کے مطابق جنوبی کوریا کا یہ بحری جہاز کمیونسٹ کوریا کے بحری دستوں کی طرف سے فائر کئے گئے ایک تارپیڈو کی وجہ سے غرق ہوا تھا۔
26مئی 2010 |