Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

بھارت کی چوبیس ریاستوں میں قائم انقلابی تحریک کے بارے میں معلوماتی اورتحقیقی مضمون
بارودی سرنگیں نکسل باغیوں کاسب سےموثرہتھیار


بھارتی وزیر داخلہ نےتسلیم کیاہےکہ نسکل باڑیوں کا پاکستان یا لشکر طیبہ سے کوئی تعلق نہیں

فیصل مجاہد کی رپورٹ

یہ اس سال چھے اپریل کی بات ہے، جب دانتے واڑ میں بھارتی پولیس کےنوے جوان ایک ساتھ قتل کردیےگئے۔ پورےانڈیا میں ایک کہرام مچ گیا۔ دراصل یہ وہ جوان تھے جنہیں خاص طور پر نکسل باڑیوں سے لڑنے کی تربیت دی گئی تھی۔ دوسرا خوفناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسی ضلعے میں ایک مسافر بس کو نشانہ بنا کر پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مسافر بس پر نکسل باڑیوں کی طرف سے یہ پہلا حملہ تھا۔ ہوا یہ کہ اس بس میں چھپ کر بہت سے فوجی جوان بھی ڈیوٹی سے واپس جا رہے تھے۔ نکسل نے مخبری ہونے پر پوری بس کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا۔

بارودی سرنگیں نکسل باڑیوں کا سب سے موثر ہتھیار ہیں۔ اس سے پہلے دو ہزار چھے میں بھی نکسل باڑی [جنہیں نکسل باغی، مائوسٹ، مائو نواز، نکسالائٹس، سرخے بھی کہا جاتا ہے]ایک ایسی کاروائی کر چکے ہیں۔ جب ایک ایسے قافلے کے نیچے بارودی سرنگ اڑا دی گئی جو حکومت کی حمایت اور نکسل باڑیوں کی مخالفت میں مظاہرہ کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ علاقے کے عوام ان کے خلاف ہیں۔ اس حملے میں چھبیس افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئےتھے۔ بھارت کے کرتا دھرتا حیران تھے کہ بارودی سرنگیں آخر پھٹنے کے بعد ہی کیوں نظر آتی ہیں۔ سارا دن گشت کے باوجود بھارتی فورس یہ جاننے میں ناکام رہتی کہ بارودی سرنگیں آخر کب اور کیسے بن جاتی ہیں۔ لیکن پھر جب حقیقت معلوم ہوئی تو وزیر داخلہ سمیت پوری حکومت بغلیں جھانکنے لگی۔ حقیقت بہت خوفناک اور نیدیں اڑا دینے والی تھی۔ دراصل جب سڑک بنتی تھی اسی وقت یہ سرنگیں بچھائی جاتی تھیں۔ اس کارروائی میں ٹھیکے دار اور نکسل باغی دوںوں ملی بھگت سے کام کرتے تھے۔ یعنی وہی طریقہ جو طالبان افغانستان میں معمولی تبدیلی کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ان سرنگوں کا پتا ہمیشہ حادثہ ہونے کے بعد چلتا تھا۔

 

بارودی سرنگوں سے نپٹنے کے لیے اور اپنے بہادر سپاہیوں کی جان بچانے کے لیے بھارتی سرکار نے اہم اقدامات کئے ۔ ان اقدامات پر اربوں روپے لاگت آئی۔ ان سب اقدامات میں سب سے اہم لوہے کی انتہائی موٹی تہ دار چادر والی مائن پروف گاڑیاں تھیں۔ بھاری قیمت پر خریدی گئی گاڑیوں پر سپاہی بے خوف ہو کر صرف دن کے وقت نکسل علاقوں میں گشت کرتے تھے۔ اسی جھانسے میں سرکار نے بہت سے ایسے نوجوانوں کو اس علاقے میں تبادلے پر آمادہ کیا جو بیس ریاستوں کے دو سو بیس اضلاع میں کام کرنے پر استعفے کو ترجیج دیتے تھے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ اپریل 2010 میں وہی گاڑی ایک بارودی سرنگ میں اس طرح پھٹی کہ اندر بیٹھا ایک بھی جوان زندہ نہ بچ سکا۔ اس پر طُرہ یہ کہ جو بھارتی سپاہی اپنے ساتھیوں کی خیریت معلوم کرنے آئے وہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس طرح کل ملا کر ایک سو جوان نکسل باغیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے اور وہ بھی چند گھنٹوں میں۔ عوام سے زیادہ حکومت حیران تھی کہ یہ ہوا کیا؟ کیسے لوہے کا ٹینک ایک معمولی بارودی سرنگ سے تاش کے پتوں کی طرح بکھر گیا؟

کرپشن۔ جی ہاں یہی حاصل تھا اس تحقیق کا۔ پتا یہ چلا کہ بارودی سرنگوں سے بچنے کے لیے جو گاڑیاں خریدی گئی تھیں وہ پانچ طرف سے لوہے میں ڈھکی تھیں صرف چھٹی طرف یعنی نیچے سے خالی تھیں۔ یعنی بارودی سرنگ کے علاوہ یہ گاڑی ہر طرح کی فائرنگ کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ یہی کچھ ممبئی حملوں میں بھی ہوا تھا۔ جب بلٹ پروف جیکٹیں پہنے ہوئے تمام جوان گولیوں سے چھلنی ہو گئے تھے۔ شکر ہےاب بھارت کے وزیر داخلہ نے نسکل باڑیوں کے پاکستان سے کسی بھی تعلق سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "ان کا لشکر طیبہ سے کوءی تعلق نہیں"

دوسری قسط
نکسل باغی، طالبان سے بہت مختلف ہیں
بھارت کی چوبیس ریاستوں میں قائم انقلابی تحریک کے بارے میں معلوماتی سلسلے کی

 


نکسل باغی، طالبان سے بہت مختلف ہیں۔ کچھ لوگ شاید یہ سمجھ رہے ہوں کہ جیسے طالبان پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اسی طرح نکسل باغی بھی پیسے کے لالچ اور انتقام کی آگ میں اپنی تحریک چلا رہے ہیں۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔بنیادی فرق یہ ہے کہ طالبان کو دنیا کا کوئی ملک شناخت دینے کو تیار نہیں۔ جبکہ نکسل باغی جس نظام کے لیے کوشش کر رہے ہیں وہ کئی ممالک میں رو بہ عمل ہے۔ نکسل باغیوں کا سب سے بڑا لیڈر چین کا انقلابی رہنما مائو تھا۔ نیپال میں الیکشن جیتنے والی پارٹی سو فیصد وہی نظریات رکھتی ہے جو نکسل باغی رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ہمسایہ ممالک نیپال اور چین میں تو وہ پارٹیاں حکومت میں ہیں جو نکسل نظریات کی ہی حامل ہیں۔ اس کے برعکس دنیا میں کوئی بھی حکومت طالبان کے تشریح کردہ نظام سے اتفاق نہیں کرتی۔ بلکہ کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت بھی اس نظام کی حمایت نہیں کرتی۔ جبکہ نکسل کی حمایت کا اندازہ آپ ان تصاویر سے کر سکتے ہیں کہ دو ہمسایہ ممالک کی حکومتوں اور نکسل باغیوں کے جھنڈے تک میں کوئی فرق نہیں ہے۔


نکسل باغیوں کو نیپال اور چین کی خفیہ حمایت حاصل ہے۔ نیپال سے تعلق کا اس وقت پتہ چلا جب ۲۰۰۱ میں نیپال مائوسٹ گوریلے چھتیس گڑھ میں نکسل باغیوں سے ملنے آئے۔ چین سے تعلق کا ثبوت تو نہیں ہے لیکن پچھلے سال کے آخر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے بھارت میں نفسیاتی طور پر ایٹم بم پھوڑ دیا۔ ہوا یہ کہ یو اے ای سے آنے والے ایک چینی مال بردار جہاز نے نکسل باغیوں کے جنگل میں اسلحے سے بھرا ہوا کئی ٹن وزنی بیگ پھینکا۔ لیکن اس بار شاید نشانہ غلط ہو گیا تھا۔ بیگ تھوڑا جنگل سے باہر چیک پوسٹ کے قریب گر گیا۔ بس پھر کیا تھا، بھارتی میڈیا اور سرکار میں تھرتھلی مچ گئی۔ چینی جہاز روک لیا گیا۔ کچھ دیر بعد ٹی وی پر خبریں بھی روک دی گئیں اور جہاز کا تو ظاہر ہے وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔ اس واقعے نے پہلی بار چین کی نکسل باغیوں کو واضح مدد دینے کا راز افشا کیا۔ اس واقعے میں اصل بات یہ تھی کہ نجانے کتنا اسلحہ اب تک اس طرح سے پھنکا جا چکا ہے اور آگے پھنکا جائے گا۔ اس کے علاوہ برمااور بنگلہ دیش میں بھی ان کے لاتعداد حامی اور مددگار موجود ہیں۔ جبکہ روسی عوام میں بھی نکسل باغیوں کی حمایت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

چین کی مدد کا دوسرا بڑا واقعہ اپریل ۲۰۱۰ میں اس وقت پیش آیا جب دلائی لامہ کے کمپیوٹرز کی سیکیورٹی کے لیے بھارتی انجینئرز کام کر رہے تھے ۔ اس وقت پتہ چلا کہ وہ پنتیس کمپیوٹرز جن میں خاص طور پر علیحدگی پسند تنظیموں کا ڈیٹا جمع کیا جاتا تھا، سالوں سے "بھوت نٹ ورک" سے جڑے ہوئے ہیں۔ یعنی ان میں جمع کیا جانے والا ہر حرف ، کہیں اور بھی سٹور ہو رہا ہے۔ ان کمپیوٹرز میں سب سے زیادہ ڈیٹا نکسل باغیوں کے بارے میں ہی تھا۔

پچھلی قسط میں ہم نے شکر ادا کیا تھا کہ ابھی تک نکسل باغیوں کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں جوڑا گیا۔ لیکن پچھلے دو دن میں دو اہم واقعات اسی بارے میں پیش آئے ۔ ایک یہ کہ بھارتی میڈیا نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ نکسل باغی آئی ایس آئی کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ نکسل باغی لشکر طیبہ سے رابطے میں ہیں۔

جاری ہے



 

نکسل باغی
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com