طالبان نےدوامریکی فوجیوں کواغواء کرلیا۔
امریکہ کی جانب سےاطلاع دینےوالوں کو 20ہزارڈالر دینےکااعلان

کابل(اردونیوزمیگزین رپورٹ)
افغان طالبان نےامریکی فوجوں سےجھڑپوں کےبعددوامریکی فوجیوں کواغواء کرکےنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا ہے۔اس واقعہ سےامریکی فوجیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔23جولائی کو جمعہ کےدن پانچ امریکی فوج بھی طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے مختلف واقعات میں ہلاک ہوگئے تھے۔
افغانستان میں اطلاعات کے مطابق طالبان نے مشرقی صوبے لوگر میں ایک جھڑپ کے دوران دو امریکی فوجیوں کو پکڑ لیا ہے۔
ایک افغان اہلکار نے بتایا ہے کہ جمعہ کو ایک جھڑپ کے بعد دونوں امریکی فوجیوں کو پکڑا گیا ہے۔
صوبہ لوگر کے گورنر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں امریکی فوجی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے فوجی بیس سے باہر چلے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیس طالبان کے ایک مضبوط گڑھ میں واقع ہے۔
ترجمان کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے بعد دونوں فوجیوں کو پکڑا گیا۔
نیٹو نے کے زیرقیادت بین الاقوامی فوج نے بھی دو امریکیوں کے پکڑے جانے کی تصدیق کی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ ایساف کے ترجمان کے مطابق لاپتہ ہونے والے دو فوجی امریکی تھی۔
نیٹو کے مطابق دونوں فوجی جمعہ کو کابل میں اپنی بیس سے باہر گئے اور اس وقت سے لاپتہ ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دونوں فوجیوں کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے۔
امریکی فوج نے پکڑے گئے فوجیوں کےبارے میں کوئی اطلاع دینے پر بیس ہزار ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مقامی ریڈیو چینلز سے پیغامات نشر کیے جا رہے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی اطلاع دینے والوں کو انعام دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ جمعہ روز پانچ امریکی فوج بھی طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے مختلف واقعات میں ہلاک ہوگئے تھے۔
.jpg)
طالبان سے مفاہمت کی حمایت،2014ء تک افغان فورسز مکمل کنٹرول سنبھال لیں گی، کابل میں عالمی ڈونرز کانفرنس
کابل(اردونیوزمیگزین رپورٹ)
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغانستان کیلئے امدادی کانفرنس سےایک زبردست دھماکے کی آوازسنی گئی،تاہم ابھی تک دھماکے کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔
عالمی ڈونرز کانفرنس نے القاعدہ سمیت عالمی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق نہ رکھنے اور تشدد چھوڑ کر آئین کا احترام کرنے والے طالبان کے ساتھ افغان حکومت کی مفاہمتی پالیسی کی حمایت کر دی اور اس بات کا اعلان کیا گیا ہے کہ 2014 تک افغان فورسز ملک کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گی۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان کیلئے ترقیاتی امداد کا کم از کم 50 فیصد حصہ افغان حکومت کے ذریعے استعمال کیا جائیگا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نے گزشتہ روز افغانستان کیلئے12 کروڑ50 لاکھ ڈالر کے قرضے کا بھی اعلان کیا۔ انٹرنیشنل ڈونرز کانفرنس میں 80 کے قریب ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی صدارت افغان صدر حامد کرزئی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جان کی مون نے مشترکہ طور پر کی۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو 50 سال کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا۔ ہیلری کلنٹن نے کہا کہ مسلسل محنت اور کام کے ذریعے افغانستان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد سے کامیابیوں اور کمزوریوں کے جائزہ لینے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا دہشت گردی کے مشترکہ دشمن سے نمٹنے کیلئے افغانستان کے ساتھ کھڑی ہے انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے شہریوں کی تنقید اور اتحادی فوجیوں کی ہلاکتوں کے باوجود مغرب انتہا پسندی کیخلاف جدوجہد کیلئے پرعزم ہے ہمیں ان سوالات کے جوابات اپنے اقدامات کے ذریعے دینا ہوں گے۔کانفرنس سے خطاب میں افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ2014 تک ان کا ملک اپنی سکیورٹی کا خود ذمہ دار ہو جائے۔ آئندہ تین سالوں تک افغانستان کے پاس کافی غیر ملکی فنڈ موجود ہیں۔ اپنے افتتاحی خطاب میں صدر کرزئی نے اجلاس کے شرکاء کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جو افغان حکومت نے ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرعزم ہیں کہ ان کی حکومت عالمی برادری کی مدد سے اور ملک میں موجود بڑی تعداد میں معدنی وسائل کو بروئے کار لا کر افغان عوام کی مدد کرینگے جبکہ بھارتی وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ عالمی برادری دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے امتیازی سلوک ترک کرے اور دہشتگرد تنظیموں سے مذاکرات نہ کئے جائیں۔
طالبان کی باڈی لینگوئج
امریکی فوجی ہتھیارڈال دیں،ان سےاچھاسلوک کریں گےسراج الدین حقانی
فیصل مجاہد کی رپورٹ
برطانوی اور امریکی افواج کے سربراہان اپنی سیاسی حکومتوں سے ہٹ کر بیان بازی کر رہے ہیں۔ برطانوی آرمی چیف تو طالبان سے بات چیت کرنے کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں جبکہ ان کی حکومت اور امریکی حکومت اس آپشن پر بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سب سیاسی چالبازیاں ہیں، سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ بیان بھی ملی بھگت سے دیا جاتا ہے اور تردید بھی پہلے سے تیار شدہ ہوتی ہے۔ ہم یہ آپ کو پکی بات بتا دیں کہ بات چیت کرنے کے پر زور کوششیں جاری ہیں۔ کچھ بلواسطہ رابطے بھی ہوئے ہیں لیکن طالبان کا موقف انہی کی زبان سے ہم آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ یہ وہ انٹرویوز ہیں جو ابھی چند دن پہلے لیے گئے ہیں۔
سراج الدین حقانی:
س: کیا امریکی حکومت یا کرزئی حکومت نے آپ سے رابطہ کیا ہے؟
ج: بالکل انھوں نے پیغام بھیجا ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ ہم جیت رہے ہیں تو ہم بھلا کیسے ہارنے والوں سے مذاکرات کریں گے۔ امریکی فوج الحمد اللہ پسپا ہو گی اور ہو رہی ہے بالکل ایسے جیسے برطانوی اور روسی فوجیں ہوئیں تھیں۔
س: اگر آپ کو امریکیوں سے بات کرنا پڑے تو کن شرائط پر کریں گے؟
ج: ہماری ایک ہی شرط ہے کہ امریکی ہتھیار ڈال دیں۔ ہم ان کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔ ہم امریکیوں کی طرح جھوٹے اور دغا باز نہیں ہیں۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔
س: امریکہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کو آپ سے بات چیت کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے ان کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج آج بھی آپ کی پشت پر ہے۔ کیا یہ تاثر درست ہے؟ اور پاکستان کے رابطے پر آپ کا جواب کیا ہو گا؟
ج: اگر پاکستانی فوج ہماری مدد کرتی تو آج ہم اس سے بہت زیادہ کامیاب ہوتے۔ لیکن دکھ تو یہ ہے کہ جب امریکی فوجوں نے ہم پر حملہ کیا تو دنیا میں کسی ملک نے ہماری حمایت نہیں کی۔ پاکستان میں بھی ہم پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا۔ ہمارے بہت سے لوگ شہید یا گرفتار کر لیے گئے۔ ہمیں آج کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ ہم آج اگر اتحادی فوجوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں تو اس مقام تک ہم تن تنہا پہنچے ہیں۔ اور انشا اللہ اکیلے ہی امریکی و اتحادیوں کے لیے کافی ہوں گے۔
س: کیا اسامہ بن لادن سے کوئی رابطہ ہے؟
ج: براہ راست تو کوئی رابطہ نہیں لیکن ملا عمر اور اسامہ دونوں سے بالواسطہ رابطہ ہے۔ الحمد اللہ ہم مل کر منصوبہ بندی سے کام کر رہے ہیں۔ تمام بڑے آپریشن ہم مشترکہ حکمت عملی سے طے کرتے ہیں۔
گل بدین حکمت یار:
س: کیا آپ حامد کرزئی کی حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں؟
ج: ہم کسی کٹھ پتلی اور بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر بات کرنے والی حکومت سے بات کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔
س: کیا آپ کا اسامہ بن لادن سے کوئی رابطہ ہے؟
ج: برسوں بیتے جب میں اسامہ سے ملا تھا۔ سنا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور صحت مند ہیں۔
س: امریکیوں سے کیا مطالبہ ہے؟ میرا مطلب ہے آپ کس مقصد کے لے ان کے خلاف صف آرا ہیں؟
ج: بس وہ یہاں سے چلے جائیں یا جانے کی قریب ترین تاریخ دیں۔ ہم نے ان پر حملہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ اس ک باوجود کہ انھوں نے ہم پر حملہ کیا ہم ان پر حملہ نہیں کر رہے بس وہ چلے جائیں ورنہ افغانستان ان کا قبرستان ہو گا۔
تین اہم نکات:
اس انٹرویو اور دوسرے بہت سے انٹرویوز سے تین باتیں اظہر من الشمس ہیں:
۱۔ طالبان ، حقانی نیٹ ورک اور گلبدین کی حرکت اسلامی ، تینوں پاکستانی فوج کے اس طرح ہاتھوں میں نہیں ہیں جیسے امریکہ سمجھ رہے ہیں۔ اس لیے اب ان کی آخری امید کہ پاکستان ان کے کامیاب مذاکرات امریکیوں کی شرائط پر کروا دے ، تقریباً ناممکن ہے۔
۲۔ طالبان اس موڈ میں بالکل نہیں کہ حامد کرزئی کی حکومت سے کسی طور مزاکرات یا مفاہمت کریں اور وہ بھی اتحادی افواج کی شرائط پر۔ طالبان کی باڈی لینگوئج طویل جنگ کے لے تیاری اور اپنی حکومت کا قیام ہے۔ وہ اصلاً کابل کے علاوہ پورے ملک پر قائم ہے۔ لگتا یوں ہے کہ طالبان صرف امریکی فوج کے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد کابل پر چڑھائی کرنے کا ان کا پورا ارادہ ہے۔ سراج الدین حقانی نے ایک انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ افغان فوج اور پولیس کا ہر بڑا افسر ہم سے رابطے میں ہے۔ کچھ ہمدردی میں اور کچھ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی اور مستقبل کے لیے۔ اس لیے یہ سوچنا کہ امریکہ کے جانے پرافغان حکومت طالبان سے اس طرح لڑ سکے گی جیسے پاکستانی فوج نے اندرونی دہشت گردوں پر قابو پایا ، خام خیالی ہے، دیوانے کا خواب ہے، مجذوب کی بڑھ ہے لیکن حقیقت بالکل نہیں۔
۳۔ القاعدہ ، جس کی تلاش اور خاتمے کا بہانہ بنا کر امریکہ کے جنگ پسند حکمران افغانستان پر چڑھ دوڑے تھے ، اب پہلے سے زیادہ منظم، مضبوط اور فعال ہے۔ یہ پوری دینا اور خاص طور پر امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ اور پاکستان بھی اس صورت حال سے پریشانی کا شکارہو سکتاہے۔ کیونکہ امریکہ کے بعد پاکستان نے مجبوری میں بہت سے ایسے اقدامات کئے جن سے القاعدہ اور طالبان کے مختلف گروہ ناراض ہیں۔
امریکی ڈالرافغان طالبان کی جیبوں میں جا رہے ہیں
افغان طالبان امریکی ڈالروں سےہی امریکہ کےخلاف جنگ لڑرہےہیں۔

فیصل مجاہد کی چونکا دینےوالی رپورٹ
امریکہ نے ایک انوسٹی گیشن رپورٹ میں خوفناک حقیقت تسلیم کر لی ہے۔ اسی صفحات پر مشتمل رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ امریکی جو ٹیکس ادا کر رہے ہیں اس کا ایک حصہ امریکہ ہی کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ وہ ایسے کہ امریکہ جو سالانہ اربوں ڈالر افغانستان میں خرچ کر رہا ہے وہ ظاہر ہے امریکہ ٹیکس دہندگان کی جیب سے آ رہے ہیں۔ انہی ڈالرز کی سب سے بڑی تعداد امریکی اور نیٹو کی افواج کو سامان رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جتنے کا سامان ہوتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ خرچ اس کی نقل و حمل پر اٹھتا ہے۔ یہ سامان امریکی فوج یا پاکستان کا کوئی سرکاری ادارہ افغانستان نہیں پہنچاتا بلکہ امریکہ نے یہ کام ٹھیکے پر دیا ہوا ہے۔ پچھلے سال یہ ٹھیکہ دو ارب ڈالر کا تھا۔ آپ جانتے ہوں گے کہ امریکہ اور نیٹو کی یہ سپلائی لائن بہت کم حادثے کا شکار ہوتی ہے۔ نوے فیصد یہ بحفاظت منزل تک پہنچتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹھیکے دار سمندر سے لوڈ کرنے سے لے کر منزل تک پہنچانے کے لیے طالبان کو بہت زیادہ معقول حصہ دیتے ہیں جس کے جواب میں طالبان اپنا مطلب پورا کر کے سامان جانے دیتے ہیں۔ اس سے ان کا کام بھی چلتا رہتا ہے اور امریکہ و نیٹو افواج بھی بھوکوں مرنے سے بچ جاتی ہے۔ لیکن جب طالبان کو مطلوبہ ڈالر یا سامان نہیں ملتا تو وہ اتحادی فوجوں اور سامان رسد کے ٹرکوں پر حملے کرتے ہیں۔ اگر مطالبات پور ے کر دئیے جائیں تو وہ بروکر جن کے ذریعے یہ ڈیل ہوتی ہے ضامن کے طور پر رائفلیں پکڑ کر اپنے اپنے علاقے سے ٹرکوں کو بحفاظت گزار دیتے ہیں۔
اس امریکی رپورٹ نے یہ انکشاف کر کے امریکی میڈیا میں بھونچال کا سماء پیدا کر دیا ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان براہ راست طالبان کی مالی امداد کر رہے ہیں۔ اب بتائیے طالبان کے زیادہ مدد گار آئی ایس آئی والے ہیں یا خود امریکی۔ لیکن ہم اپنے پچھلے مضمون میں بتا چکے ہیں کہ طالبان کا دوسرا بڑا مالی مددگار ہندو ٹھیکے دار ہے جو افغانستان میں سڑکیں اور دوسرے منصوبے چلا رہا ہے، وہ بھی اپنی جان اور اپنے ٹھیکے کی پر امن تکمیل کے لیے طالبان کمانڈروں کو باقاعدگی سے چندہ دیتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی راستے پر یا ایک ہی علاقے میں دو دو تین تین گروہ سامنے آ جاتے ہیں اور سب کو خوش رکھنا ان ٹھیکے داروں کی مجبوری ہوتی ہے۔ کیونکہ بصورت دیگر یہ گروہ سامان رسد کی ترسیل بند کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی فوج اور نیٹو یہ حقیقت پہلے دن سے جانتے تھے لیکن آفرین ہے امریکیوں پرکہ وہ اسے خوبصورت الفاظ جیسے مقامی خود انحصاری، میں چھپاتے رہے پرایک دن بھی سچ بولنے کی جرات نہیں کر سکے۔
مسئلہ کبھی نہ کھلتا اگر امریکی جرنیل کھل کر اوباما کے سامنے نہ آ جاتے۔ جنرل میک کرسٹل نے تو کھلے عام اوباما کی افغانستان پالیسی کو طنز کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔ جس کی پاداش میں شاید آج کل میں اسے فارغ بھی کر دیا جائے۔ اوباما نے کئی بار طالبان کے ذریعہ آمدن کو معلوم کرنے کا کام اپنے جرنیلوں کو سونپا لیکن وہ ہر بار اپنے ہی صدر کو چکمہ دے کر بات گول کر جاتے یا پاکستان پر الزام لگا کر بات ٹال جاتے لیکن جب اوباما نے ایک نئی ٹیم کو اس خصوصی ٹاسک پر بھیجا تو وہ حقیقت آشکار ہو گئی جسے برسوں سے ڈالر خور امریکی جرنیل چھپائے بیٹھے تھے۔ اب عنقریب دنیا کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ امریکی جرنیلوں اور بش دور کے دفاع کے مشیروں نے ذاتی خواہشات اور انتہائی سفلی جذبات کی تسکین کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے کئی ٹرلین ڈالر افغانستان اور عراق میں پھونک ڈالے۔ لیکن ہمیں یقین ہے اس سے پہلے اوباما کا کوئی نہ کوئی بندوبست ہو چکا ہو گا۔
اس رپورٹ سے دو بہت چونکا دینے والے نکتے نکلتے ہیں:
پہلا یہ کہ امریکی اور نیٹو کی فوج کی ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ طالبان کو مطلوبہ ڈالر اور سامان ٹھیکے دار پہنچا بھی رہے ہیں۔ اب ذرا تصور کریں کہ طالبان کو یہ ڈالرز کی سپلائی بند ہو جائے کر دی جائے یا طالبان اپنے وعدے سے مکر جائیں تو اس سپلائی لائن کا تو خاتمہ سمجھیں ساتھ میں گورے فوجیوں کی لاشیں کتنے گنا بڑھیں گے اس کا کوئی اندازہ نہیں۔ یعنی آج امریکی قبضے کے تقریبا نو سال بعد بھی دنیا کی طاقتور ترین فوج ان طالبان کے رحم و کرم پر ہے جن کو اپنی دانیست میں وہ ایک ہفتے میں نیست و نابود کر دینے والے تھے۔
دوسرا نکتہ یہ کہ جب اس جنگ سے جرنیلوں اور طالبان دونوں کی دیاڑھیاں لگی ہوئی ہے تو کون بیواقوف اس جنگ کو ختم کرنا چاہے گا؟ اب آپ کو سمجھ آرہا ہو گا کہ کیوں اوباما جنگ ختم کرنا چاہتا ہےاور امریکی جرنیل جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہ حقیقت بھی جلد آشکار ہونے والی ہے کہ ٹھیکوں میں نیٹو جرنیلوں کا بھی ٹھیک ٹھاک حصہ ہوتاہے۔ اس بات کا واضح ذکر ہماری معلومات کے مطابق ہالبروک نے صدر زرداری سے ملاقات کے دوران بھی کیا ہے۔
افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں۔
اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل کااعتراف

(اردونیوزمیگزین رپورٹ)
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ افغانستان میں سلامتی کی صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں سڑکوں کے کنارے نصب کئے جانے والے بموں کے دھماکوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
بان کی مون کی جانب سے بیان کردہ یہ نتائج اقوام متحدہ کی ایک سہ ماہی رپورٹ میں شامل ہیں، جو کابل میں اقوام متحدہ کے مشن نے ہفتہ اُنیس جون کو جاری کی ہے۔ یہ رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا ہے کہ 2010ء کے پہلے چار مہینوں میں گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں سڑکوں کے کنارے نصب کئے جانے والے بموں کے حملوں میں 94 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والے خودکش حملوں کی ہفتہ وار اوسط تعداد تین ہے، جن میں سے نصف افغانستان کے جنوبی پشتون علاقوں میں ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون
اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں اُن وارداتوں کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے، جن میں افغان حکام کو قتل کیا گیا۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اپریل تک کے عرصے میں افغانستان کے حکومتی اہلکاروں کے قتل کی کارروائیوں میں گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ افغان جنگ بہتر رُخ اختیار کرنے سے پہلےبدتر ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کچھ مہینوں میں لڑائی میں بہت شدت آنے والی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات میں کہا تھا کہ افغان مشن میں ہونے والی پیش رفت سے انحراف نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے ساتھ ہی اس جنگ میں درپیش پیچیدہ چیلنجز سے بھی آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔
افغان مشن میں شامل غیرملکی فوجیوں میں سب سے زیادہ امریکی ہیں جبکہ رواں برس اب تک وہاں 200 سے زائد غیرملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے کم از کم 130 امریکی ہیں۔ وہاں تعینات اتحادی فوجیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار ہے۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون اچانک افغانستان پہنچ گئے
مزیدفوج افغانستان بھیجنےسےانکار
.jpg)
اردونیوزمیگزین 11جون 2010
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ افغانستان میں مزیدفوج نہیں بھیجی جائے گی، نیٹو فورسز کو روڈ سائیڈ بموں کے دھماکوں سے بچانے کیلئے برطانیہ 67 ملین پاؤنڈ فراہم کرے گا۔ان خیالات کا اظہار برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے غیر اعلانیہ طور پر اچانک افغانستان کے پہلے سرکاری دورے پر کابل پہنچ کر کیا۔کابل میں صدارتی محل میں افغان صدر حامد کرزئی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان برطانوی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ملک ہے اور وہ افغانستان کے عوام کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے افغانستان کیساتھ تعلقات کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مزید فوجی نہیں بھیجیں گے، افغانستان میں تعینات فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ایکسپرٹ کی کمی ہے جس کی وجہ سے بروقت روڈ سائیڈ بموں کو ناکارہ نہیں بنایا جا سکتا جس کے نتیجے میں بہت سارے فوجی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔افغانستان کے دورے کے موقع پر برطانوی وزیراعظم افغانستان میں تعینات برطانوی افواج اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔
کابل میں امن جرگےپرحملہ
حامدکرزئی کی تقریرکےدوران دھماکے۔

افغان دارالحکومت کابل میں آج سہ روزہ امن جرگے کا آغاز طالبان جنگجوؤں کے خود کُش اور راکٹ حملوں کا شکار ہوکر رہ گیا
سرکاری ذرائع کے مطابق کابل سے نزدیک اُس مقام پر جہاں اس روایتی جرگے کے شرکاء کے لئے بہت بڑا خیمہ لگایا گیا تھا تین راکٹ برسائے گئے۔ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کے باوجود تین مسلحہ برقع پوش نے سلامتی اہلکاروں کی طرف سے بنائے گئے حفاظتی گھیرے کو توڑتے ہوئے جرگہ کی طرف جانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ ان جنگجوؤں کا تصادم ہوا۔ جرگہ کے منتظم اعلیٰ فاروق وردک نے اس جھڑپ میں دو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ تیسرے کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ فاروق وردک نے جرگہ میں شریک مندوبین سے کہا کہ حالات قابو میں ہیں۔ تاہم اس واقعے کے بعد بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔
جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے حامد کرزئی نے ملک میں پائیدار امن کے اپنے منصوبے کو متعارف کرانے کی کوشش کی
حملے کےوقت جرگے میں افغان صدر حامد کرزئی سمیت تقریباً 1600 افغان لیڈر اور قبائلی اکابرین موجود تھے۔ پہلا دھماکہ عین اُس وقت سنائی دیا جب صدر کرزئی نے ملک سے طالبان عناصر کو پسپا کرنے اور انہیں مکمل طور پر غیر مسلحہ کرنے سے متعلق اپنے حوصلہ مند امن منصوبے سے آگاہ کرنا شروع ہی کیا تھا۔ یہ دھماکہ کابل سے مغرب کی طرف ایک کھلے میدان میں گرنے والے راکٹ سے ہوا۔ اس موقع پر صدر کرزئی نے جرگہ کے شرکاء کو تسلی دیتے ہوئےکہا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ حامد کرزئی نے تمام مندوبین سے بیٹھ جانے کوکہا کیونکہ ان میں سے اکثر حراساں نظر آ رہے تھے اور وہ جرگے کے خیمے سے نکلنا چاہتے تھے۔ بعد از ایں افغان صدر نے اپنی تقریر کو مختصرکرتے ہوئے حفاظتی قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق متعدد ہیلی کاپٹرز صدر کرزئی کے قافلے کی حفاظت کے لئے فضا میں گردش کرتے دکھائی دیے۔ امن جرگہ کے انعقاد کے لئے کابل میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
کابل میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ نگار ہارون میر نے ایک بیان میں کہا کہ ’ آج جرگہ کے انعقاد کے موقع پر ہونے والا یہ حملہ دراصل کابل میں اس سال منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس کے لئے ایک اشارہ ہے‘۔ یاد رہے کہ جولائی کی 20 تاریخ کوافغانستان میں ایک اہم کانفرنس کا انعقاد ہونا ہے۔ تجزیہ نگار ہارون میر کےبقول کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مغربی ممالک کے کتنے مندوبین ایسے خطرناک حالات میں کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ امن جرگہ کئی صدیوں سے افغانستان کی ثقافت کا حصہ رہا ہے۔ تاہم اس بار کے اس اجلاس میں طالبان باغیوں کے نمائندوں کو دعوت نہ دینا ایک پریشان کن بات سمجھی جا رہی ہے۔
2جون2010
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد عراق سےبڑھ گئی۔
ایک طرف امریکہ طالبان کےخلاف بڑے آپریشن کی تیاری کررہاہےاوردوسری طرف امریکی فوجیوں کا مورال مسلسل ڈاؤن ہورہاہے۔
.jpg)
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2003 کے بعد پہلی بار عراق کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی ہے۔ اُدھر پینٹاگون نے عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر کو نئی ذمہ داری سونپنے کا اعلان کردیا گیا۔ پینٹاگون کے جاری اعدادو شمار کے مطابق افغانستان میں اسوقت 94ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جبکہ عراق میں یہ تعداد 92ہزار ہے۔ 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کیلئے کیے گئے امریکی حملے کے بعد پہلی بار عراق کے مقابلے میں افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔ اسے صدر باراک اوباما کے تحت امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات کا عکاس قرار دیا جارہا ہے۔ دوسری طرف پینٹاگون ترجمان کے مطابق عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل رے اوڈیئرنو کو نئی ذمہ داری سونپی جارہی ہے۔ صدر اوباما نے ان کی جگہ لیفٹننٹ جنرل کلائیڈ آسٹن کا نام تجویز کیا ہے جبکہ جنرل اوڈیئرنو کو یو ایس جوائنٹ فورسز کمانڈ کی سربراہی کیلئے نامزد کردیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ وہ ستمبر میں نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
برطانوی دفاعی حکام نے کہا ہے کہ برطانوی فوج کے ٹاپ بم ڈسپوزل افسر نے افغانستان میں اپنی ٹیم پر شدید دباؤ کی وجہ سے استعفی دیدیاہے، کرنل باب سیڈون نے اپنا استعفی پرنسپل ایمبونیشن ٹیکنیکل افسر رائل لاجسٹک کور کے عہدے سے دیاہے تاہم وہ جنوری میں سروس چھوڑیں گے، افسران نے کہاکہ افغانستان میں امپروائزڈ ایکسیلوزیو ڈیوائسز سے نمٹنے کے لئے افرادی قوت میں کمی اور افسران کی دماغی صحت کی وجہ سے انہیں تشویش تھی، طالبان شدت پسند، نبرد آزما فوجیوں کو بموں سے نشانہ بناتے ہیں اور یہ ڈیوائسز فوجیوں کیلئے خطرناک ہیں، کرنل باب سیڈون نے کہاکہ افغانستان میں دباؤ کی وجہ سے مجھے تشویش ہے، بی بی سی ڈاکومنٹری میں کرنل نے کہاکہ افغانستان طویل عرصے سے مشکل اور خطرناک ذمہ داریاں نبھانے والے افسران کی دماغی صحت کے بارے میں پریشانی ہے، انہیں اپنے اس کام کی نفسیاتی قیمت چکانا پڑے گی، آرمی مزید ٹیموں اور آئی ای ڈی آپریٹرز کی مدد سے افغانستان میں اچھا کام کرسکتی ہے، ڈیفنس سیکرٹری لیام فاکس نے کہاکہ افغانستان میں برٹش فورسز کو آئی ای ڈی سے درپیش خطرات سے نمٹنا مخلوط حکومت کی ترجیح ہے اور ہم اس کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، کرنل باب سیڈون کا استعفیٰ برٹش فارن سیکرٹری ولیم ہیگ، لیام فاکس اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سیکریٹری اینڈریو مچل کے ساتھ پہلے دورہ افغانستان کے اختتام کے بعد سامنے آیا، افغانستان میں10000 برطانوی فوجی فرائض انجام دے رہے ہیں جو امریکہ کے 130000 فوجیوں کے بعد نیٹو کے تحت دوسری بڑا دستہ ہے، افغانستان میں جنگ کے دوران 286 برطانوی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
25مئی2010
نوجوان افغان طالبان کاحامد کرزئی اورامریکہ سےمذاکرات سےانکار
ناراض افغان طالبان کسی کی بات سنننے کیلئےتیارنہیں
افغانستان میں امریکہ ،حامد کرزئی اورطالبان تینوں ناکام
.jpg)
فیصل مجاہد کی رپورٹ
یہ وہ طالبان نہیں ہیں جن سے شمالی اتحاد اور روس لڑ چکے ہیں۔ یہ بہت بدلے ہوئے ہٹ دھرم ناراض لڑکے ہیں
ملا برادر کے گرفتار ہونے سے ایک ماہ پہلے کی بات ہےکہ ایک چھبیس سالہ طالبان کمانڈر ملا جمعہ خان کو ایک دکاندار پر جاسوسی کا شک گزرا۔ اسے شک تھا کہ یہ تاجر طالبان کی اہم معلومات امریکیوں کو فراہم کرتا ہے۔ لیکن تفتیش کرنے پر جب کچھ ثابت نہیں ہوا تو اسے مارنے کے بجائے ملا جمعہ نے اسے ہلمند صوبے سے نکل جانے کا حکم دیا۔ تاجر چلا گیا لیکن جنوری کے آغاز میں ملا عبدالغنی برادر جو ملا محمد عمر کے بعد سے بڑا کمانڈر اور ملا عمر کا دست راست تھا، کے ایک خط کے ساتھ واپس آیا ۔ خط میں لکھا تھا کہ اسے صوبہ بدر نہ کیا جائے بلکہ اپنے گھر میں رہنے دیا جائے۔ یہ ایک طرح سے کلیئرنس سرٹیفکیٹ تھا۔ ملا جمعہ خان نے خط پھاڑ دیا اور تاجر سے کہا ‘‘ اگر برادر تم کو ملے تو اسے کہنا کہ ہم پر اس طرح حکم نہ چلائے، ہم اپنے سر ہتھیلی پررکھ کےامریکیوں سےلڑ رہے ہیں اور وہ پاکستان میں چکن اور بریانی کھا رہا ہے۔’’
ہلمند ہی کے ایک پچیس سالہ کمانڈر نے بتایا کہ ملا برادر کی گرفتاری سے ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ‘‘ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے پاس اپنی کلاشن کوف اور راکٹس ہیں۔ ہم اپنے فوری فیصلوں سے جیتے اور مرتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی ایک چوروں کے ایک ایسے گروہ کو قتل کیا تھا جن کے بارے میں ملا برادر کی ہدایات تھیں کہ انھیں چھوڑ دیا جائے۔’’
حکم عدولی کی ایسی مثال طالبان میں نئی بات ہے۔ لیکن اب یہ تقریباً ہر جگہ پھیل چکی ہے۔ دراصل اس وقت میدان کارزار میں جو جوان امریکہ اور دوسری مغربی افواج سے بر سر پیکار ہیں شاید اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جب ملا برادر روسی ٹینکوں کو گھات لگا کر اڑا رہے تھے۔ ان میں سے اسی فیصد اس وقت دودھ پیتے بچے تھے جب ملا محمد عمر کابل پر فتح کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ تیس سال سے اوپر کے تجربہ کار کمانڈر قریب قریب ختم ہو چکے ہیں۔ کچھ تو پکڑے گئے زیادہ ترلڑائی میں کام آ گئے۔ اس وقت نوے فیصد کمانڈر بیس اور تیس سال کے درمیان ہیں۔ جبکہ لڑاکوں کی عمریں انیس سال کےقریب ہیں۔ طالبان اس کو اچھا شگون سمجھتے ہیں کہ نیااورجوشیلہ خون ہی اتنی سخت اوربے رحم جنگ لڑسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملاعمر کی عزت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
طالبان کے ایک بوڑھے رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جہادیوں کی یہ فصل ہم سے بہت مختلف ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم میں اور ان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا زمین اور آسمان میں۔ ‘‘اس وقت جس قوت سے یہ نوجوان لڑ رہے ہیں اس کے پاس روسیوں اور شمالی اتحاد سے کہیں زیادہ طاقت، بے رحمی اور ہتھیار لے کر آئے ہیں۔ نوجوان طالبان نے ہم سے بہت زیادہ سخت حالات میں آنکھ کھولی ہے اس لیے یہ ہم سے بہتر لڑاکے ہیں۔ ’’

ایسا نہیں کہ یہ نوجوان کسی کی نہیں سنتے۔ عبدالکریم ذاکر وہ کمانڈر ہے جسے یہ دل سے چاہتے ہیں۔ عبدالکریم ذاکر ، ملابرادر کے بعد ملا عمر کا دست راست ہے۔ اس کی حکمت عملی ملا برادر سے بہت مختلف اور جارحانہ ہے۔ ملا برادر اس بات پر زور دیا کرتے تھے کہ طاقت سنبھال کررکھو، امریکیوں کو جانے دو پھرلڑائی لڑیں گے۔ اسی لیے وہ امریکیوں سے بات چیت کےحامی تھے۔ لیکن عبدالکریم ذاکران نوجوانوں کے بہت قریب ہیں جوامریکی فوج سےدو دو ہاتھ کرنا چاہتے ہیں۔ ملا برادر پچھلے نو سال سے افغان طالبان سے عملی طور پر کٹے ہوئے اور پاکستان میں روپوش تھے۔ لیکن عبدالکریم ذاکر نے ابھی تمام یونٹس کاخود دورہ کیااور نوجوان طالبان کی ہمت بڑھائی۔ عبدالکریم ذاکر امریکہ کی بدنام زمانہ جیل گوانتاناموبے بھی بھگت چکے ہیں اور اب امریکیوں سے کسی بھی بات چیت کے مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اصطلاح ‘‘برے طالبان’’ میں ہر دل عزیز ہیں۔
ایک طالبان انٹیلی جنس کمانڈر نے بتا یا کہ جو فوج طالبان کے پاس ہے وہ امریکیوں سے امن کا لفظ بھی سننے کو تیار نہیں۔ اس لیے ہمیں ایسے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے کہ امریکہ کی امن کوششوں کو تقویت ملے۔ ایک بزرگ استاد نے بہت بے چارگی سے بتایا کہ افغانستان کا مستقبل بہت تاریک ہے۔ کیونکہ ایک طرف کرزئی کی نااہل کرپٹ حکومت ہے، دوسری طرف امریکیوں کا جبراورمقابلے میں وہ نوجوان طالبان ہیں جوحالات کےجبرمیں بزرگوں کی عزت کرنا بھی بھول گئے ہیں۔ دراصل خوفناک جنگ، بے شمار ہلاکتوں، ڈیزی کٹربموں اورمسلسل نقل مکانی نے نئی نسل سے ان اقدار کو بہت حد تک چھین لیا ہے جو قبائلیوں کا خاصہ تھیں۔
کابل: عالمی امدادی کانفرنس کےقریب دھماکہ |