فٹ بال کی عالمی جنگ شروع ہوگئی
دنیا بھرمیں کروڑوں شائقین کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی
میزبان ٹیم جنوبی افریقہ کا پہلا میچ برابر

(اردونیوزمیگزین 11جون 2010 )
فٹ بال ورلڈ کپ جمعہ کو جنوبی افریقا کے مختلف شہروں میں شروع ہورہا ہے، عالمی فٹ بال پر حکمرانی کے لیے دنیا کی بہترین 32 ٹیمیں صف آرا ہوچکی ہیں۔ اس ملک کی سرزمین کو ملکوں میں سٹے بازی اور دھوکا دہی کے حوالے سے بھی شہرت حاصل ہے مگر فٹ بال کی رنگینی، رسہ کشی، شور شرابے، نعرے بازی،کھلاڑیوں کی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی جستجو کے سامنے عالمی کپ میں میچ فکسنگ کے امکانات دم توڑ جائیں گے۔ دنیائے فٹ بال کی 32/ معروف ٹیموں کے شہرہ آفاق فٹ بالر ایک ماہ تک دنیائے کھیل کے شیدائیوں کے دلوں پر راج کریں گے۔ 19ویں ورلڈ کپ فٹبال کا آغاز آج سے گروپ اے کے جنوبی افریقا اور میکسیکو ، یوروگوائے اور فرانس کے درمیان میچ سے ہوگا۔بفانا بفانا سوکر سٹی اسٹیڈیم میں میکسیکو کے مد مقابل ہوگی جبکہ یوروگوائے اور فرانس کے درمیان مقابلہ کیپ ٹاؤن میں ہوگا۔فرانس یوروگوائے اور میکسیکو عالمی رینکنگ میں ٹاپ 20ٹیموں میں سے ہیں جبکہ جنوبی افریقا 83ویں پوزیشن پر موجود ہے۔لیکن ورلڈ کپ کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میزبان ملک دوسرے راؤنڈ میں نہ پہنچا ہو۔میزبان ٹیم کے پاس کوئی عالمی شہرت یافتہ فٹبالر تو موجود نہیں ہے لیکن برازیل، جرمنی اور جنوبی افریقا میں ہونے والے وارم اپ میچز میں جنوبی افریقا کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ جنوبی افریقا گذشتہ 12وارم اپ میچز میں ناقابل شکست رہی ہے۔جبکہ میکسیکو کی ٹیم نوجوان اور تجربہ کار پلیئرز کا مجموعہ ہے۔ میکسیکو اب تک 13مرتبہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرچکی ہے لیکن اب تک کوئی عالمی کپ نہ جیت سکی ہے۔جبکہ میزبان ملک کا یہ پہلا ورلڈ کپ ہے۔ دوسری جانب یوراگائے اور فرانس کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔ یوروگوائے اس وقت 16ویں جبکہ فرانس 9ویں نمبر پر ہے۔یوروگوائے اب تک دو مرتبہ ورلڈ چیمپئن بن چکی ہے جبکہ فرانس محض ایک بار ٹائٹل حاصل کرسکا ہے۔واضح رہے کہ فرانس گذشتہ تین ورلڈ کپ میں سے 2کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہا ہے۔جنوبی افریقا کے صدر جیکب زوما امید کر رہے ہیں کہ 11جولائی کو وہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنی ٹیم کو دیں لیکن مداحوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کی پہلے راؤنڈ میں کامیابی بڑی بات ہوگی جبکہ سیمی فائنلز میں رسائی معجزے سے کم نہ ہوگا۔میزبان جنوبی افریقا کی سپورٹ کے لئے ملک کا ہر شخص قومی ٹیم کی جرسی میں ملبوس نظر آتا ہے میکسیکو میں بھی اپنی ٹیم کی کامیابی کے لئے لوگوں میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ جنوبی افریقن کوچ کارلوس البرٹو پریرا کے لئے افتتاحی میچ دباؤ سے بھرپور ہوگا کیونکہ گراؤنڈ میں ہزاروں شائقین کے علاوہ 40/ممالک کے سربراہان بھی موجود ہونگے۔ پریرا اس سے قبل 5/ بار عالمی چیمپئن رہنے والی برازیلین ٹیم کے کوچ تھے۔
.jpg)
آسٹریلیا نے 2018کے ورلڈ کپ کی میزبانی کی دوڑ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔آسٹریلین فٹبال فیڈریشن کے سربراہ نے کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے فیفا آفیشلز سے مذاکرات جاری تھے جس کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 2018کی میزبانی یورپین ممالک کے لیے چھوڑ کر ورلڈ کپ 2022 کی میزبانی کے لیے تیاریاں کی جائیں۔
جنوبی افریقی کپتان گریم اسمتھ فٹبال ورلڈ کپ میں اپنے ملک کے میچز دیکھنے کیلئے خواہشمند ہیں۔ جنوبی افریقا کی ٹیم ا س وقت ویسٹ انڈیز کیخلا ف ٹیسٹ سیریز میں مصروف ہے جس کی وجہ سے وہ ورلڈ کپ کیمیچز براہ راست نہیں دیکھ سکیں گے۔جنوبی افریقا کی فٹ بال ٹیم اپنا پہلا میچ میکسیکو کیخلاف کھیلے گی تو کرکٹ ٹیم بھی کالی آندھی کیخلاف ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ کھیل رہی ہوگی۔ جنوبی افریقا کرکٹ ٹیم کے کپتان گریم اسمتھ کا کہنا تھا کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ کو شدت سے مس کر رہے ہیں اور جوہانسبرگ میں موجود رہ کر اپنی ٹیم کو سپورٹ کر نا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹرز ڈریسنگ روم میں ورلڈ کپ کے میچز نہیں دیکھ سکیں گے لیکن اس کی ریکارڈنگ دیکھنے کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم کا ہر کرکٹر فٹبال ٹیم کی سپورٹ کررہا ہے، پلےئرز یہ تو نہیں کہتے کہ جنوبی افریقہ ورلڈ کپ جیت جائے گا لیکن ان کی یہ خواہش ضرور ہے کہ ٹیم میگا ایونٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کرے۔
ادھر امریکا کے نائب صدر جوبائیڈن ورلڈ کپ فٹ بال کے افتتاحی میچ میں شرکت کے لئے جنوبی افریقا پہنچ گئے۔ امریکن سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق بائیڈن میزبان جنوبی افریقا اور میکسیکو کے درمیان افتتاحی میچ میں شرکت کریں گے۔ وہ ہفتے کو اسٹن برگ میں ہونے والے امریکا اور انگلینڈ کے درمیان میچ میں بھی شرکت کریں گے
برازیل اور دنیا کے عظیم فٹ بالر پیلے نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے ملک کی ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں کسی افریقی ملک کا سامنا کرے گی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یورپی چیمپئن اسپین کی ٹیم ورلڈ کپ کے فیصلہ کن معرکہ تک رسائی حاصل کرے گی۔ برازیل کے ساتھ ٹورنامنٹ میں شامل مضبوط ترین ٹیم ہے البتہ ہم جرمنی، انگلینڈ اور اٹلی کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے۔
جاپان اور زمبابوے کے درمیان آخری دوستانہ میچ ڈرا ہوگیا۔ کوئی بھی ٹیم گول نہ کر سکی۔ جاپان کی ٹیم میچ میں فتح حاصل نہ کرنے پر مایوسی کا شکار ہے لیکن یہ بات خوش آئند ہے کہ جاپان کی ٹیم مسلسل4 شکستوں کے بعد اس مقابلے میں ڈرا کھیلی ہے۔
ایک طرف تومیچزکےدوران زبردست ڈانس کانتظام کیا گیا ہےتودوسری طرف
جرمن مڈ فیلڈر ماکو مارین نے ٹورنامنٹ میچز کے دوران روایتی ساز واووزیلا پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ واضح رہے کہ انتہائی تیز آواز والے اس باجے پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جارہی ہے لیکن مقامی شائقین میں یہ بہت مقبول ہے اور واووزیلا بڑی تعداد میں جرمنی سے درآمد کئے جاتے ہیں۔
ایشین فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر محمد بن حمام نے توقع ظاہر کی ہے کہ جنوبی افریقا میں ہونے والے ورلڈ کپ فٹ بال میں دو ایشین ٹیمیں میگاایونٹ کا دوسرا راؤنڈ کھیلنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔انہوں نے کہاکہ ان کی خواہش ہے کہ ورلڈ کپ کا ٹائٹل ایشیائی ملک جیتے،تاہم وہ اس حوالے سے کسی بھی ٹیم کو فیورٹ قرارنہیں دے سکتے۔ ایشین کنفیڈریشن ٹیموں میں آسٹریلیا ‘ جاپان ‘ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا شامل ہیں۔
ایشیا کپ کیلئےپاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان
فردوس عاشق اعوان کی سفارش پر شعیب ملک بھی ٹیم میں شامل،شعیب اخترکی قسمت بھی جاگ اٹھی

ایشیا کپ کیلئے پندرہ رکنی قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا،شعیب ملک اور شعیب اختر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ ایشیاکپ کے لئے پندرہ رکنی قومی ٹیم کے انتخاب کے سلسلے میں سلیکشن کمیٹی کا اجلاس قذافی اسٹیڈیم لاہورمیں ہوا۔ چیف سلیکٹرمحسن حسن خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سلیکٹرز، کپتان شاہد آفریدی اورکوچ وقاریونس کی مشاورت سے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا۔
اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس کے دوران پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ،محسن حسن اورکپتان شاہد آفریدی نے ٹیم کا اعلان کیا۔ٹیم میں کپتان شاہدآفریدی،نائب کپتان سلمان بٹ،عمراکمل ،شہازیب حسن ،اسد شفیق،عمران فرحت، عمرامین، عبدالرزاق، شعیب ملک، محمد عامر، محمدآصف، شعیب اختر،عبدالرحمان،سعید اجمل،کامران اکمل شامل ہیں جبکہ فواد عالم،اظہر علی،محمد عرفان ،ذوالفقار بابرریزرو کھلاڑی ہیں۔
ایشیا کپ کیلئے قومی ٹیم کا کنڈیشننگ کیمپ پانچ سے دس جون تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہورمیں لگے گا۔ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ پندرہ سے چوبیس جون تک سری لنکا میں کھیلا جائے گا۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیرفردوس عاشق اعوان نےشعیب ملک کو ٹیم میں شامل کرانے میں اہم کرداراداکیا۔اعجازبٹ نے کوئی نئی محاذآرائی کرنے کی بجائے وفاقی وزیرکی سفارش کوقبول کرنےمیں ہی بہتری سمجھی۔3جون2010
اعجازبٹ اورسینیٹرزمیں ٹھن گئی
سینیٹرہمایوں اختر،سینیٹرطارق عظیم اوراعجازبٹ کےایک دوسرےپرالزامات
اصل حقیقت کیاہے،کیاخفیہ ایجنسیوں سےمددلیناپڑےگی؟
.jpg)
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ”کلین چٹ“ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کا کوئی کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث نہیں ہے۔ میچ فکسنگ کی باتیں احمقانہ ہیں۔ سینیٹرز طارق عظیم اور ہارون اختر ایک ٹھیکیدار کو گیارہ کروڑ روپے کی اضافی ادائیگی کے لیے پی سی بی ہیڈ کوارٹر آئے تھے، میں نے ادائیگی سے انکار کردیا۔ باہر جاکر سینیٹرز نے میچ فکسنگ کا شوشا چھوڑ دیا۔ پی سی بی نے تمام کھلاڑیوں کو سزائیں آئین کے مطابق دی ہیں۔ میں اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔ وہ اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں گورننگ بورڈ کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی میچ فکسنگ کو کنٹرول کرنے والی اتھارٹی نہیں ہے، یہ کام آئی سی سی کا ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی سیریز میں میچ فکسنگ کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ آئی سی سی کا عملہ میچ فکسنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرتا ہے۔ ٹیموں کے ڈریسنگ روم میں منیجر کے علاوہ کسی کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہورہی ہے کہ باربار پاکستانی کھلاڑیوں کو کیوں کر میچ فکسنگ میں ملوث کیا جاتا ہے۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ دنیا میں کوئی جینیس نہیں ہے جو میچ کی آخری گیند پر میچ فکسڈ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کو سینیٹرز طارق عظیم اور ہارون اختر قذافی اسٹیڈیم میں کام کرنے والی کمپنی کے ٹھیکیدار کا کیس لے کر آئے تھے۔ پی سی بی کمپنی کو 25، 26کروڑ ادا کرچکا ہے لیکن میں نے اضافی گیارہ کروڑ کا بل ادا کرنے سے انکار کردیا۔ چیئرمین کی حیثیت سے میرا کام پی سی بی کے مفادات کو تحفظ دینا ہے۔ میں کسی کے دباؤ میں آکر ناجائز کام نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹرز بھی میچ فکسنگ کا غلط الزام لگارہے ہیں، اگر کوئی کہتا ہے کہ میچ فکسنگ ہوئی ہے تو ثبوت فراہم کرے۔ میچ فکسنگ کے الزامات کی وجہ سے یونس خان جیسا کھلاڑی سخت ذہنی اذیت کا شکار ہوا اور اس کا کیریئر تباہی کے دہانے پرپہنچ گیا۔ کوئی سینیٹرز سے یہ سوال نہیں کرتا کہ میچ فکسنگ کس طرح ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹرز سے دو گھنٹے کی میٹنگ میں میچ فکسنگ کا ایک بار بھی ذکر نہیں آیا۔ اعجاز بٹ نے کہا کہ پی سی بی نے تمام کھلاڑیوں پر سزائیں اور جرمانے آئین کے مطابق لگائے ہیں۔اب کھلاڑیوں کی اپیلوں کا جائزہ لاہورہائیکورٹ کے سابق جج لے رہے ہیں۔ جج اپیلوں پر فیصلہ کریں گے جس کے بعد یہ معاملہ گورننگ بورڈ کے سامنے پیش ہوگا۔ محمد یوسف نے اپیل نہیں کی اور ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ اس کو ٹیم میں کس طرح شامل کیا جائے۔ ضرورت پڑی تو یوسف کو ریٹائرمنٹ واپس لینے کے لیے کہا جائے گا۔ انہوں نے کامران اکمل کے کورٹ میں جانے کے دعوے کو پی سی بی کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور کہا کہ وقت آنے پر ہر چیز سامنے لاؤں گا۔ کھلاڑیوں کو سزائیں اس لیے دی گئیں تاکہ وہ ڈسپلن کی پابندی کریں لیکن سزا دے کر کسی کھلاڑی کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔
سینیٹرزہارون اختراورسینیٹرزطارق عظیم اعجاز بٹ سےناراض

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ آئے دن نت نئے محاذ کھولنے کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔ اتوار کو لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے سینیٹرز طارق عظیم اور ہارون اختر پر سنگین الزام لگا کر ایک نیا محاذ کھول دیا اس تنازع کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل نے اعجاز بٹ کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا ہے۔ 31 مئی کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین عبدالغفار قریشی نے کہا کہ اعجاز بٹ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے سینیٹرز پر الزامات سے سینئرز کا استحقاق مجروح ہوا ہے ان کے خلاف جلد سینیٹ میں تحریک استحقاق پیش کی جائے گی۔ 31مئی کے اجلاس میں پی سی بی کے مالی اور انتظامی معاملات زیر بحث آئیں گے۔ سینیٹر ہارون اختر نے کہا کہ اعجاز بٹ جھوٹے ہیں انہوں بھولنے کی عادت ہے۔ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود وہ غلط بیانی کررہے ہیں۔ سینیٹرز کو پی سی بی نے میچ فکسنگ کے شواہد فراہم کئے تھے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ میچ فکسنگ کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے، اعجاز بٹ کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ سینیٹرز نے ٹھیکیدار کو اضافی رقم ادا کرنے کے لئے دباؤ ڈالا تھا۔ ہارون اختر نے کہا کہ ٹیم کی خراب کارکردگی پر کسی کھلاڑی پر بھاری جرمانہ اور سزا کس طرح عائد کی جاسکتی ہے۔ اعجاز بٹ کو پی سی بی کو چھوڑنا ہوگا تاکہ پاکستان میں کرکٹ کو فروغ مل سکے۔
کھلاڑیوں کےبیان کی ویڈیوجسٹس ریٹائرڈ عرفان قادرنےفراہم کی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے پی سی بی کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے کیمرے کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا تھا۔ پی سی بی کے ترجمان ندیم سرور نےمیڈیاکو بتایا کہ جب یونس خان بیان ریکارڈ کرانے آئے تو انہوں نے کیمرے کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد کیمرے ہٹا دیئے گئے البتہ پی سی بی کے پاس یونس خان کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق کھلاڑیوں کے وکلاء کو ویڈیو فوٹیج جسٹس (ر) عرفان قادر نے فراہم کی تھی اور وہیں سے ویڈیو باہر آئی۔ البتہ پی سی بی نے جسٹس عرفان قادر کو کہا تھا کہ وہ کھلاڑیوں کے وکلاء کو ویڈیو ریکارڈنگ دکھا دیں لیکن انہوں نے کھلاڑیوں کے وکلاء کو تمام کارروائی کی فوٹیج فراہم کردی۔
ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ اور پی سی بی کی اکیڈمی کے ڈائریکٹر انتخاب عالم نے کہا ہے کہ میں نے کامران اکمل پر میچ فکسنگ کا الزام نہیں لگایا۔ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا ہے۔ دورہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی ویڈیو فوٹیج میں انتخاب عالم اور عاقب جاوید کامران اکمل کے خلاف شکوک و شبہات ظاہر کررہے ہیں۔ کامران اکمل نے دونوں کو شواہد فراہم کرنے یا معافی مانگنے کے لیے کہا ہے۔ کامران اکمل نے کہا کہ اگر دونوں نے معافی نہیں مانگی تو میں عدالت سے رجوع کروں گا۔ انتخاب عالم نے کہا کہ میں نے کامران اکمل کومیچ فکسنگ میں ملوث قرار نہیں دیا تھا۔
|