Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

 

غزہ محاصرے میں۔۔۔

بچوں کی ٹافیاں اور چاکلیٹ بھی بند کر دی گئیں

فیصل مجاہد کی رپورٹ
غزہ محاصرہ جون دو ہزار سات میں شروع ہوا تھا جس کو اسرائیل اور مصر نے مشترکہ طور پر کامیاب کرنے کا عہد کیا تھا۔  اب اس کو تین سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ادویات اور سیمنٹ سمیت جو چیزیں غزہ میں نہیں جا سکتیں ان کی فہرست طویل ہے لیکن ان میں سے چند ایک کی فہرست ذرا ملاحظہ فرمائیں:
سیمنٹ، مچھلی پکڑنے والی ڈوری، مچھلی پکڑنے والا جال، کشتی ٹھیک کرنے کے اوزار، ہر قسم کا تازہ گوشت، خشک گوشت، گھوڑے، بکریاں، بھیڑ، گدھے، مرغیاں، خشک میوہ جات، لکڑی، لوہا، گلوکوز، پلاسٹک یا سخت موٹے گتے کی پیکنگ میں کوئی بھی چیز، چاکلیٹ، جام،بسکٹ، ٹافیاں، آلوکے چپس، بیج اور مونگ پھلی، اخروٹ، انجیر، گیس، پلاسٹک شیٹس،  ان سلے کپڑے، کپڑے سینے کی مشینیں، نائیلون کی رسیاں، سبز شیٹس جو سائے کیلئے استعمال ہوتی ہے، کاشکاری کے جملہ آلات، پائپس، ٹریکٹروں کے پرزہ جات، ہیٹرز، بیٹریاں، اے فور سائز کے کٹے ہوئے پیپرز، پیپرکٹرز،آلات موسیقی، لیپ ٹاپ، پین اور پنسلیں، کھلونے، بلیڈز، جان بچانے کی ادویات، زچہ بچہ کے لیے ضروری ادویات اور سامان سرجری، کتابیں، اخبارات، کیمرے، موبائل فونز، اور یہ فہرست اتنی ہی لمبی ہے جتنی شیطان کی آنت۔۔۔

یہ ان اشیاء میں سے محض چند اشیاء کی فہرست ہے جو اسرائیل نے غزہ پر پچھلے تین سال سے بند کر رکھی ہیں۔ ان سالوں میں صرف آٹا ہی ایسی چیز تھا جو ضرورت سے بہت کم غزہ میں بھیجا جا رہا تھا۔ لیکن اس آٹے کو پکانے کے لیے گیس، لکڑی اور لوہے یا سٹیل کے توے کو غزہ میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔  اس بات کا اعتراف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یورپی یونین نے بھی کیا کہ غزہ میں ضرورت کی اشیاء مناسب مقدار میں نہیں پہنچ رہیں لیکن اس کے تدارک کے لیے اقوام متحدہ نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کا تدارک کسی حد تک حماس نے کیا۔

غزہ میں حماس کا مضبوط کنٹرول ہے۔ انھوں نے اس خوفناک محاصرے کا ایک عارضی حل یہ نکالا تھا کہ زیر زمین سرنگیں بنائیں جو مصر کے صحرائے سینا میں نکلتی تھیں۔ یہ وہی صحرائے سینا ہے جس میں بنی اسرائیل چالیس سال تک بھٹکتے رہے تھے۔ یہ سرنگیں کئی کئی کلومیٹر طویل ہیں۔ مصر نے اسرائیل کو ان سرنگوں سے آگاہ کر دیا جس کے بعد اسرائیل نے بمباری کر کے ان سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں سیکنڑوں فلسطینی شہید ہوئے جو سرنگوں میں ہی دب کر خالق حقیقی سے جا ملے۔ اس کا جواب حماس نے خوب دیا۔ جفاکش کارکنان نے ڈیڑھ سو سے زائد سرنگیں کھود ڈالیں جو مصر میں اخوان المسلمین کے کارکنان کے گھروں اور دفتروں میں کھلتی تھیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہیں سے لمبے لمبے پائپ جوڑ کر کچھ سرنگوں میں دو اہم انتظام کئے۔ سرنگ میں دو  پائپ گرزتے ہیں ایک میں بجلی کی تار، دوسرے میں ہوا۔ بجلی سے سرنگ میں روشنی کی جاتی ہے۔ جبکہ ہوا کا مقصد ظاہر ہے سرنگ تباہ ہونے پر اندر پھنسے جوان کو زندگی کی امید دلانا ہے۔  اسرائیل اور مصر مل کر ان سرنگوں کو ناکام بنانے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن خرگوش کے بلوں کی طرح حماس مزید سرنگیں مسلسل کھودتی رہتی ہے۔ اب تو کچھ سرنگوں میں اخوان کی مدد سے دودھ کا پائپ بھی لگا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ ہے لیکن اس سب کو ہم اپنی زبان میں جگاڑ کہتے ہیں۔ اصل حل یہی ہے کہ محاصر ختم کیا جائے یا کروایا جائے اور پھر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے ۔

اسرائیل نے فلوٹیلا والے واقعے کے بعد اب اعلان کیا ہے کہ ہم پابندیاں نرم کر رہے ہیں۔ نرمی یہ ہے کہ اب اگر کوئی جہاز غزہ کی مدد کو آیا تو اس کا سامان اسرائیل رکھ لے گا اور "مناسب" چھان بین کے بعد جس سامان کی جتنی ضرورت ہو گی غزہ میں بھیج دیا جائے گا۔ لیکن سمندر کی طرف سے کوئی بھی چیز غزہ میں داخل ہونے یا غزہ والوں کو ان کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد میں بھی مچھلیاں پکڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس اعلان پر عرب اور مسلم دنیا سے کوئی خاص رد عمل تو نہیں آیا لیکن یورپی ممالک کی مشترکہ پارلیمنٹ پیس نے سخت موقف اختیار کیا ہے کہ محاصرہ مکمل ختم کیا جائے۔اس کے علاوہ ترکی جس نے اپنے نو شہری محاصرہ ختم کروانے کے لیے شہید کروائے تھے ، نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے محاصے کو پھر چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔  اسرائیل کے اخبارات میں یہ خبر شہہ سرخیوں میں چھپی ہے کہ یورپی وزرائے اعظم اسرائیل پر محاصرے کے مکمل خاتمے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ لیکن چلتے چلتے ہم آپ کو یہ پکی خبر دے دیں کہ زیر زمین القسام برگیڈ اپنی تیاریاں تقریبا مکمل کر چکی ہے۔ اب اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو اسے اور اس کے اتحادیوں کے حیران ہونے کی باری ہے۔
 


 

اسرائیل نے فلسطینیوں کیلئےامداد لیکرجانیوالےکارکنوں پرحملہ کردیا20ہلاک

 

غزہ پٹی کے لئے امدادی سامان لے جانے والے سمندی قافلے پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد20ہو گئی ہے جبکہ 50سے زائد زخمی ہیں۔ ایک عرب ٹی وی کے مطابق صبح چار بجے ہونے والی اس کارروائی کا حکم اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے دیا۔قافلے میں ترکی اور یونانی سمیت چھ کشتیاں شامل ہیں ۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے لئے امدادی سامان لانے والے "آزادی بیڑے"میں شامل کسشتیوں پر غزہ کے ساحل سے نزدیک سمندر میں حملہ کردیا۔اسرائیلی فوجیوں کی ایک بڑی تعدادنے ہیلی کاپٹروں سے کشتیوں پر دھاوا بول دیا۔اس دوران جھڑپوں میں 20امدادی کارکن ہلاک اور 50سے زیادہ زخمی ہوگئے، اسرائیل نے اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔کشتیوں میں سوارکارکنوں اور میڈیا اہل کاروں کو حراست میں لے اسرائیلی بحریہ نے امدادی کارکنوں کو آگاہ کیا کہ ان کے پاس واحد آپشن اسدود کی بندرگاہ کا رخ کرنا ہے تاکہ 10ہزار ٹن امدادی سامان میں سے کچھ کو اسرائیلی حکام غزہ منتقل کرسکیں ۔اسرائیلی کارروائی کے بعد ترکی نے انقرہ میں اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا جب کہ مشتعل افراد نے استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے پر دھاوا بولنے کی بھی کوشش کی ۔ اقوام عالم نے غزہ میں امدادی بیڑے پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے کہاکہ حملے پر انہیں صدمہ پہنچا ہے اور میں اس کی مذمت کرتاہوں۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مکمل تحقیقات کرائی جائیں اورامیدہے کہ اسرائیل فوری طورپر مکمل وضاحت کرے گا۔فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہاہے کہ اسرائیل کی جانب سے غیر ضروری طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔فرانسیسی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے سفارت کار کو طلب کرکے انہیں وضاحت دینے کیلئے کہاگیاہے۔وزیر خارجہ برناڈ کوشز نے کہاکہ کوئی بھی بات اس قسم کے طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کیسربراہ کیتھرائن نے کہاکہ انسانی جانوں کے زیاں پرافسوس ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس جارحیت پر گہرے دکھ کااظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کامطالبہ کیاہے۔ترک وزارت خارجہ نے واقعے مذ مت کی ہے ۔ایران کے صدر محموداحمدی نژاد نے اپنے بیان میں کہاکہ یہ غیر انسانی فعل طاقت نہیں بلکہ کمزوری کو ظاہر کرتاہے اورصہیونی ریاست کا خاتمہ اب قریب ہے۔ واقعے پرترکی ،سویڈن ،یونان اور سپین نے اسرائیلی سفیروں کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایاہے ۔لبنان کے گروپ حزب اللہ نے کہاہے کہ اسرائیل کا حملہ دہشت گردی ہے جسے عالمی طور پر سزا دینے کی ضرورت ہے ۔عرب لیگ کے سربراہ امرموسیٰ نے کارروائی کو جرم قراردیا ۔انہوں نے کہاکہ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔لبنان کے وزیر اعظم سعدحریری نے اس اقدام کو پاگل پن قراردیتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیاکہ وہ ایکشن لیں ۔آئرلینڈ،کویت،ڈنمارک نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔
اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے غزہ کے متاثرین کے لئے امداد لے جانے والے بحری جہاز میں گھس کر کئی امدادی کارکنوں کو ہلاک کرنے کے خلاف پیر کے روز وائٹ ہال میں ڈاؤننگ سٹریٹ پر ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اس واقعہ کے خلاف نعرے درج تھے اور مظاہرین یہ نعرے لگا رہے تھے کہ ”فلسطین کو آزاد کرو، اسرائیل کو غزہ میں جنگی جرائم سے روکا جائے اور غزہ کا مجرمانہ محاصرہ ختم کیا جائے“ مظاہرین نے وائٹ ہال کو مکمل طور پر بلاک کر دیا اور زبردست نعرہ بازی کی۔ مظاہرے کا اہتمام فلسطینیوں کے حامی گروپوں نے کیا تھا۔ ”کمپئن فار نیوکلیئر ڈس آرممنٹ“ کی چیئرپرسن کیٹ ہڈسن نے اپنے ساتھیوں سمیت اس مظاہرے میں شرکت کی اور اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا یہ حملہ امدادی سامان اور ورکرز پر کیا گیا ہے جس کی پرزور مذمت کرنا سب کا فرض ہے۔

31مئی2010

 


حماس کا اسرائیل سےمذاکرات سےانکار

اسرائیل اورامریکہ قابل اعتبارنہیں،حماس رہنماء

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان باالواسطہ مذاکرات کی توثیق کردی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ اس بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے گی۔ امریکہ کی گارنٹی ایک دھوکہ ہے ۔حماس نے کہا اسرائیل کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے جبتک وہ فلسطینی علاقوں کو خالی نہیں کر دیتا۔


قاہرہ میں لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل امر موسٰی کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس باالواسطہ بات چیت میں شرکت اور اس میں فلسطینی موقف کی پشت پناہی کے لیے تیار ہیں۔

فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ باالواسطہ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی گارنٹی ایک دھوکہ ہے ۔حماس نے کہا اسرائیل کے ساتھ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے جبتک وہ فلسطینی علاقوں کو خالی نہیں کر دیتا۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ صرف بات چیت کرلینا کافی نہیں ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کہتے ہیں کہ وہ نئی یہودی بستیاں تعمیر نہیں کر رہے لیکن انہیں اسرائیل کے اس بیان کی حقیقت کو بھی جانچنا ہوگا۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطینوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرت اگلے ہفتے سے شروع ہوں گے۔

امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں رپورٹروں کو بتایا کہ مشرقی وسطیٰ کے لیے امریکہ صدر کے خصوصی ایلچی جارج مچل اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ پہنچیں گے۔

پچھلے ماہ بالواسطہ مذاکرت اس وقت ناکام ہوگئے تھے جب امریکی نائب صدر کے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیل نے مشرقی یورشلم میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکہ نے اسرائیلی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا اور دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہ امریکہ سرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے عمل کو جلد سے جلد شروع کرانا چاہتا ہے۔

اسرائیل نے امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ادھر عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان باالواسطہ مذاکرات کی توثیق کردی ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ وہ اس بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے گی۔ قاہرہ میں لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سیکرٹری جنرل امر موسٰی کا کہنا تھا۔ کہ وہ اس باالواسطہ بات چیت میں شرکت اور اس میں فلسطینی موقف کی پشت پناہی کے لیے تیار ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ گفتگو کرلینا کافی نہیں ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کیا ہورہا ہے، ہمیں اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کہتے ہیں کہ وہ نئی یہودی بستیاں تعمیر نہیں کر رہے لیکن انہیں اسرائیل کے اس بیان کی حقیقت کو بھی جانچنا ہوگا۔

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com