Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

 

 

قابل اعتراض پروگرام اوراشتہارات روکنےکیلئےپانچ چیمرزفوج کےحوالے

پاکستان کے خلاف ثقافتی اور پراپیگنڈہ کے محاذ پر جویلغار ہے اس کے مقابلہ کیلئے سب کومتحد ہوکرکوششیں کرنا ہوں گی،

اردونیوزمیگزین رپورٹ

 

سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے اطلاعات ونشریات نے الیکٹرانک چینلوں پر بھارت سمیت غیرملکی تیارشدہ اشتہارات دکھانے کے حوالہ سے یکساں پالیسی کی تیاری اور اشتہارات کی پاکستان میں نشریات سے قبل اسکریننگ کیلئے کمیٹی کی تشکیل پراتفاق کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان میں جمعرات کومجلس قائمہ کا اجلاس چیئرمین حاجی غلام علی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سینیٹر طارق عظیم کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراض پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) کے چیئرمین مشتاق ملک نے بتایا کہ ہم نے اس مسئلہ کو پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے ) سے پہلے بھی اٹھایا ہے کیونکہ اشتہارات میں ایسے مناظربھی شامل ہیں جوبچوں کی حفاظت کے نکتہ نگاہ سے مناسب نہیں،ہماری تجویزہے کہ اس ضمن میں پاکستان سنسربورڈ کی طرزپر ایک ادارہ قائم کیا جائے جو ایسے اشتہارات کے نشرہونے سے قبل ان کی اسکریننگ کرے اور جانچ پڑتال کے بعد ان کونشر کرنے کی اجازت دے۔چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ پیمرا ایسی کسی بھی شکایت پر کارروائی کرتی ہے،21سے زیادہ کیبل آپریٹروں کا سامان ضبط کیا گیا ہے، اس طرح منافرت اورملکی سلامتی کے منافی پروپیگنڈے کوروکنے کیلئے 5 جیمرز آرمی کے حوالے کئے گئے ہیں جو سوات اورمتعلقہ علاقوں میں استعمال ہوں گے، شکایات کونسل کے ارکان کی تقرری کی پیمرا مجازنہیں۔ چیئرمین پیمرا نے کہا کہ یہ ادارہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں قائم ہونا چاہئے تاکہ اشتہارات کی اسکریننگ کے عمل میں تاخیرنہ ہو۔ اس موقع پر ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان نے موقف اختیار کیا کہ وزارت اطلاعات ونشریات کی طرف سے ہدایات کی وجہ سے پی ٹی وی بھارتی یا غیرملکی اشتہارات نشر نہیں کرتا اور ایسے اشتہارات چلانے سے انکارکرنے کی بناء پر لاکھوں روپے ضائع ہوئے لہٰذا ایک یکساں پالیسی اختیارکی جائے۔ چیئرمین پیمرا نے مجلس قائمہ کوبتایا کہ صحت سے متعلق اشتہارات اس وقت تک نہیں چلائے جاسکتے جب تک وزارت صحت اس کی اجازت نہ دے۔ چیئرمین مجلس قائمہ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ سینیٹر طارق عظیم نے کیبل آپریٹروں کی طرف سے بھارتی چینل اورفلمیں دکھانے اورغیرملکی نشریاتی اداروں کی جانب سے نشریاتی مواد کی جانچ پڑتال نہ ہونے پر تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ 28ہزار کیبل آپریٹرزہوگئے ہیں اور انہیں کیبل آپریٹر کی جگہ چینل آپریٹر بنا دیا گیا ہے جو ہماری معاشرتی اقدار، روایات اورثقافت کو غیروں کے رحم وکرم پرچھوڑنے کے مترادف ہے۔ سیکرٹری وزارت اطلاعات ونشریات منصور سہیل نے کہا کہ منتخب جمہوری حکومت ملک میں ذرائع ابلاغ کی مکمل آزاد ی اور عوام تک اطلاعات کی رسائی کے حق پر یقین رکھتی ہے ، پاکستان میں الیکٹرانک چینلوں کے اچانک فروغ کی بناء پر مطلوبہ انداز میں قوانین کی تیاری نہیں ہوسکی ، اب اس ضمن میں توجہ دی جارہی ہے۔ کمیٹی کے ارکان نے اس امرکا اظہارکیا کہ چینلوں کے پروگراموں اوراشتہارات میں پاکستان کی معاشرتی اقدار، روایات اور تہذیب کے پہلو کومدنظر رکھا جائے اورغیرملکی تہذیب اور بیرونی منفی پراپیگنڈے کی روک تھام ہونی چاہئے۔ کمیٹی نے چیئرمین پیمرا سے کہا کہ گذشتہ 2سال کے دوران کیبل آپریٹروں اورغیرملکی چینلوں کی نشریات کی روک تھام کے حوالہ سے کئے گئے اقدامات اورجرمانوں کی تفصیل پیش کی جائے۔ اجلاس میں ریڈیو پاکستان کے مالی او انتظامی امور پربھی غورکیا گیا۔ ڈی جی ریڈیو مرتضیٰ سولنگی نے ادارے کی کارکردگی ، درپیش مشکلات ’مالی بحران اور اس میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی ۔ کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کی جانب سے 200ملین روپے کا بزنس کرنے کی کاوش کو سراہا۔ چیئرمین کمیٹی حاجی غلام علی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ثقافتی اور پراپیگنڈہ کے محاذ پر جویلغار ہے اس کے مقابلہ کیلئے سب کومتحد ہوکرکوششیں کرنا ہوں گی، ذرائع ابلاغ کا کردار بہت 4جون 2010


 

حامد میر کےخلاف خواجہ خالد کےقتل کا مقدمہ درج کرنےکی درخواست

کیاواقعی حامد میر نےہی خالد خواجہ کوقتل کرایا؟

آئی ایس آئی کےسابق افسر اورافغان طالبان سےقریبی تعلق رکھنےوالےخالد خواجہ کےپنجابی طالبان کےہاتھوں قتل کےبعدعالمی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اورجیوکےاینکر حامدمیر کی ویڈیو کیسٹ منظرعام پرآئی ،جس کےبعدحامد میر پرالزام لگاکہ وہ خالد خواجہ کےقتل میں ملوث ہے۔خالد خواجہ کا بیٹاحامد میرکےخلاف قتل کامقدمہ درج کراناچاہتاہے۔

 اسلام آباد میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد
خواجہ کے قتل کی رپورٹ درج کرنے پر غور کر رہے ہیں اور اس بارے میں فیصلہ جلد متوقع ہے۔
خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد نے منگل کی رات تھانہ شالیمار میں اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریری درخواست دی تھی۔ درخواست میں معروف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر، عثمان پنجابی اور اغواء کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم ایشین ٹائیگرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مارگلہ سرکل کے ڈی ایس پی نعیم اقبال نے میڈیاکو بتایا ہے کہ اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق ان کی حدود سے ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست پر مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ آج رات یا کل تک کر دیا جائے گا۔

خالد خواجہ کو ایشن ٹائیگرز نامی ایک غیرمعروف تنظیم نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دستاویزی فلم بنانے کے لیے قبائلی علاقے گئے تھے۔

اوسامہ نے درخواست دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے انہیں انصاف ملے گا۔ ’میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ جب تک آڈیو ٹیپ نہیں آئی تھی وہ بھی ابہام کا شکار تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی۔‘

ان کے وکیل ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں ہر وہ حوالہ دیا ہے جس کا اس قتل پر اثر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ معلومات آڈیو سے اور کچھ مدد وزیرستان کے لوگوں سے ملی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اعلی عدالت سے بھی انصاف کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔

ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے درخواست میں جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے لیے ثبوت مناسب وقت پر مہیا کریں گے۔ ’ان میں بعض باتیں قومی سلامتی سے متعلق ہیں جنہیں اسی وقت ظاہر کیا جائے گا۔‘

جیو ٹی وی کے میزبان حامد میر نے اس معاملے پر یہ کہتے ہوئے تبصرے سے انکار کیا ہے کہ انہیں ان کے وکیل نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے درخواست پر ان کا لیگل ونگ غور کر رہا ہے اورجلد اس پر کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔
27مئی 2010


اربوں روپےکمانےوالاجیوٹی وی ڈیفالٹرنکلا

اشتہاری کمپنیوں سےٹیکس وصول کرلیالیکن حکومت کےخزانےمیں جمع نہیں کرایا

میرشکیل الرحمن اورمیرابراہیم الرحمن کی موجیں

چندہزارروپےٹیکس نہ دینےپرغریبوں کےگھرقرق،امیروں کو اربوں معاف

چیف جسٹس صاحب کیا یہ کھلا تضاد نہیں!!

جیوٹی وی اورروزنامہ جنگ گروپ کےمالک میرشکیل الرحمن

 

 

14مئی 2010(اردونیوزمیگزین)

پاکستان کےپرائیویٹ ٹی وی چینلزاشتہارات اورخفیہ فنڈز سےاربوں روپےکمارہےہیں لیکن ٹیکس دینےکیلئے تیارنہیں۔ 14مئی کوپاکستان کے وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نےقومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ ٹیکس نادہندگان میں بارہ نجی ٹی وی چینلز بھی شامل ہیں اور ان کی طرف حکومت کے تقریباً پونے تین ارب روپے کے ٹیکس بقایاجات ہیں۔
جمعہ کو حکومت اور حزب مخالف کے بعض اراکین کے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اِن ٹی وی چینلز نے یہ رقم اشتہارات کے مد میں حاصل تو کی ہے لیکن حکومت کو ادا نہیں کر رہے۔

خورشید شاہ کے مطابق ٹیکس نادہندگان میں سرِفہرست جیو ٹی وی ہے جس کے ذمے ایک ارب ارسٹھ کروڑ روپے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اے آر وائی ون انتالیس کروڑ ستر لاکھ روپے، ٹی وی ون آٹھ کروڑ، پلے ٹی وی دو کروڑ، سماء ٹی وی ایک کروڑ اڑتیس لاکھ، ہم ٹی وی ستاون لاکھ، انڈس ٹی وی سولہ کروڑ جبکہ ایم ٹی وی ساٹھ کروڑ روپے کا ڈیفالٹر ہے۔

 توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے پوچھا گیا تھا کہ ایک کروڑ یا اس سے زیادہ رقم کے ٹیکس نادہندگاں کی فہرست میں کون کون شامل ہیں اور ان کے نام ایوان میں پیش کریں لیکن ایوان میں مالیات کے وزیر کی جگہ جواب دیتے ہوئے سید خورشید شاہ نے صرف میڈیا گروپس کے نام پیش کیے اور بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی کے مد میں تراسی افراد/ کمپنیوں کے ذمے چالیس کروڑ روپے کے ٹیکس بقایاجات ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے رکن ریاض فتیانہ نے کہا کہ سیاستدان تو اگر آبیانہ یا کسی گیسٹ ہاؤس کے چارجز ادا نہ کرے تو وہ انتخاب نہیں لڑ سکتا لیکن اتنے بڑے ڈیفالٹرز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نادہندہ کوئی بھی ہو حکومت ان سے ٹیکس وصول کرے ۔ ان کے مطابق اگر پاکستان میں بڑے بڑے مگر مچھ ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں تو ملک کو کشکول لے کر پھرنے اور قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آئے روز ٹی وی چینلز پر حساب مانگا جاتا ہے اور آج پتہ چلا ہے کہ میڈیا خود ڈیفالٹر ہے۔ انہوں نے کہا ’آئندہ ہم ان سے سوال کریں گے کہ پہلے خود ٹیکس دو پھر ہم سے پوچھیں‘۔

جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ انیس سو ستتر سے لے کر آج تک بینکوں سے قرض معاف کرانے اور ٹیکس چوری کرنے والے سیاستدانوں، میڈیا گروپس، کاروباریوں اور دیگر کی فہرست آئندہ اجلاس میں ایوان میں پیش کریں گے۔

شیخ وقاص اکرم، ریاض فتیانہ اور عبدالقادر خانزادہ نے کہا کہ سیاستدانوں کا بھی بتائیں کہ کون کتنا ٹیکس دیتا ہے؟۔ جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ وہ یہ تفصیلات بھی آئندہ ایوان میں پیش کریں گے۔
 

 

سائنس
سپورٹس
تاریخ
میڈیا
ستارے
فوٹوالبم
نوجوان
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com