Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

امریکا نے وکی لیکس رپورٹس اپنے سیاسی مقاصد کیلئے جاری کی ہیں.صدر محمود احمد نژاد

 

تہران (اے پی پی ) ایرانی صدر محمود احمد نژاد نے وکی لیکس کی رپورٹ کو غیرحقیقی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے امریکا کے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے جاری کیا گیا ہے۔ پیر کو تہران سے جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک ایک دوسرے کے دوست ہیں اور وکی لیکس کی رپورٹ ان تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم افزودگی کا پروگرام ایران کا حق ہے اور اس پر کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
ایرانی صدر نے وکی لیکس دستاویزات میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے بارے میں عرب ملکوں کے سربراہوں کے بیانات کو محض پروپیگنڈا قرار دیا۔

ایرانی ٹیلی وثرن پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی ان معلومات پر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

’ ہم یہ نہیں سمجھتے کے یہ خفیہ معلومات افشاء ہوگئیں، بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قصداً شائع کرائی گئیں ہیں۔‘

وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع کردہ معلومات میں شامل پیغامات سنہ 1966 سے فروری سنہ 2010 کے درمیان بھیجے گئے ہیں اور ان میں دنیا بھر کے ممالک میں واقع دو سو چوہتر امریکی سفارتخانوں کی جانب سے واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ کو بھیجی گئی معلومات شامل ہیں۔

ایرانی صدر محمود احمدی نثراد نے کہا ہے وکی لیکس میں شائع ہونے والے تمام سفارتی پیغامات دراصل ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ ہیں۔

انھوں نے کہا وکی لیکس کی معلومات ایران کے عرب ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

تاہم ہمارے نامہ نگار جیمز رینلڈ کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ ایک واضح ثبوت سامنے آیا ہے کہ ایران تنہا اور خطرے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت اس بارے میں اپنی تشویش کا ذکر بر سر عام نہیں کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی صدر کا بیان اس امر کا عکاس ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر امریکی اقدام بہت منظم اور اسلامی دنیا میں اختلافات کو ہوا دینے کے لیے ہوتا ہے۔


ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی لارن بوتھ نے ایران میں اسلام قبول کرلیا۔



لندن (اردونیوزمیگزین رپورٹ ) برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی (سالی) لارن بوتھ نے ایران میں قیام کے دوران اسلام قبول کرلیا ، شیری بلیئر کی بہن43 سالہ لارن بوتھ صحافی اور براڈ کاسٹر ہیں اب وہ گھر سے نکلتے ہوئے حجاب پہنتی ہیں، پانچوں وقت کی نماز پڑھتی ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے مسجد بھی جاتی ہیں۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کافیصلہ 6 ہفتے قبل ایران کے شہر قُم میں حضرت فاطمہ معصومہ کے مزار کی زیارت کے دوران کیا، برطانوی اخبار آبزرور کے مطابق انھوں نے اپنے قبول اسلام کے فیصلے کاذکر کرتے ہوئے بتایا یہ منگل کی شام کا واقعہ ہے کہ وہ مزار پر بیٹھی ہوئی تھیں کہ انھیں ایک روحانی سرشاری، بہت زیادہ خوشی اور طمانیت محسوس ہوئی ۔بعد ازاں وہ برطانیہ واپس آگئیں اور برطانیہ واپسی پر انھوں نے مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے کافیصلہ کیا۔لارن بوتھ نے جو ایران کے انگریزی چینل سے وابستہ ہیں،نے خنزیر کھانا ترک کردیا ہے وہ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرتی ہیں، انھوں نے شراب نوشی بھی ترک کردی ہے اور ان کاکہنا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انھیں شراب نوشی کی خواہش نہیں ہوتی،ایران میں اسلام کی روشنی سے فیضیاب ہونے سے قبل بھی وہ اسلام کی ہمدرد تھیں اور انھوں نے فلسطین میں بھی خاصہ وقت گزارا تھا ،انھوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ میرے قبول اسلام سے ٹونی بلیئر کو اسلام کے بارے میں اپنے خیالات تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔


 

دہشت گردتنظیم جندالله کا زاہدان کی مسجد میں خودکش حملہ 30شہید


اردونیوزمیگزین رپورٹ
زاہدان. .. . . .. .امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت پرجشن کے دوران ایران کے شہرزاہدان میں دو خودکش حملے کیے گئے ہیں جس سے 30افرادشہید اورسوسے زائد زخمی ہوگئے ہیں ۔سرکاری طورپر20افرادکےشہید ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔کالعدم تنظیم جنداللہ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔حضرت امام حسین علیہ السلام کے یوم ولادت کے موقع پرجشن میں سینکڑوں افراد مسجد میں موجودتھے اورجاں بحق افراد میں انقلابی گارڈز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ایک اہلکار نے بتایاکہ جامع مسجدمیں خاتون کالباس پہنے خودکش حملہ آورنے داخل ہونے کی کوشش کی تواسے روکاگیاجس پراس نے دھماکاکردیا۔اورلوگ امدادکے لیے دوڑے تواس دوران دوسراخودکش حملہ ہوا۔ اور اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 سے زائد ہے جب کہ سرکاری طور پر صرف 20 افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیم جنداللہ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔
اس دہشت گردتنظیم کو امریکہ کی مدد حاصل ہے،جس کا اعتراف اس تنظیم کا سرغنہ عبدالمالک ریگی اپنی زندگی میں کئی مرتبہ کرچکاہے۔

 


امریکی دباوکےباوجودپاک ایران گیس پائپ لائن منصوبےپرحتمی دستخط

پائپ لائن پرکام شروع ہوگیا،سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سےامریکی دباو مستردکرنےکاخیرمقدم

اردونیوزمیگزین 14جون 2010

پاکستان اورایران نے گیس پائپ لائن منصوبے پرباضابطہ دستخط کردیئے ہیں جس کے تحت ایران پاکستان کو گیس کی سپلائی 2014ء سے شروع کرے گا اور روزانہ 21ملین کیوبک میٹرگیس فراہم کی جائے گی۔ معاہدے پر حتمی دستخط کے بعد منصوبے پر آج سے کام شروع ہوجائے گا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر باضابطہ دستخط کی تقریب تہران میں ہوئی جس میں ایرانی نائب وزیر تیل جواد اوجی اورپاکستان کی طرف سے سیکریٹری پٹرولیم کامران لاشاری نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیکریٹری پٹرولیم کامران لاشاری نے کہاکہ پاکستان تین سال میں نواب شاہ سے ایرانی سرحد تک 700 کلومیٹرپائپ لائن بچھائے گا جس کی جائزہ رپورٹ بنانے میں ایک سال لگے گا۔ گیس پائپ لائن منصوبے پرباضابطہ دستخط کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیرتیل نے کہاکہ آج کادن ہمارے لئے خوشی کاباعث ہے، گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان کو 2014ء سے گیس کی سپلائی شروع ہوگی اورروزانہ کی بنیاد پر 21 ملین کیوبک میٹر گیس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایران( آج) پیر سے ہی گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے کام کاآغاز کردے گا اور ایران شہر( Iranshahr) سے پاکستانی سرحد تک تین سوکلومیٹرپائپ لائن بچھائی جائے گی۔ ایرانی نائب وزیر تیل جواد اوجی نے کہا کہ دہائیوں کے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط کئے گئے جو خوش آئند ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔ واضح رہے کہ یہ گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان، ایران اوربھارت کے درمیان تھا تاہم بعد ازاں بھارت پاکستان کے راستے گیس کی فراہمی کے حوالے سے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے اس منصوبے سے دستبردار ہوگیا تھا جبکہ پاکستان اورایران نے منصوبے پرپیشرفت جاری رکھی۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اس منصوبے پرباضابطہ دستخط ایک ایسے وقت میں ہوئے جب سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پرمزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں اورامریکا اوردیگرمغربی ممالک کے ایران کے ساتھ تجارتی واقتصادی تعلقات ختم کرنے پر زوردے رہے ہیں۔

 


امریکہ تاریخی موقع گنوائےبغیر جوہری ایندھن معاہدےکوتسلیم کرلے،ایران

اوبامہ نےاس موقع کواستعمال نہیں کیاتوایران مزید موقع نہیں دےگا،صدراحمدی نژاد

ایران نے امریکہ سے کہاہے کہ وہ تاریخی موقع کو گنوائے بغیر جوہری ایندھن کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کو تسلیم کرے۔ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہاہے کہ امریکہ اور روس جوہری ایندھن پر ہونے والے معاہدے کی حمایت کریں جبکہ انہوں نے تنبیہ کی کہ جوہری ڈیڈ لاک کوحل کرنے کایہ آخری موقع ہوسکتاہے۔انہوں نے کہاکہ ایندھن افزودگی کے حوالے سے اعلامیہ تہران ایک بہترین موقع ہے جبکہ ہم نے ایک اہم قدم اٹھایاہے اور اب کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ٹیلی ویژن تقریر میں ایرانی صدر نے مزید کہاکہ ڈیل ہم منصب بارک اوباما کیلئے ایک تاریخی موقع فراہم کررہی ہے اور اگر وہ اس موقع کواستعمال نہیں کرتے توپھر ایرانی ان کو نیا موقع نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ دنیا اور امریکہ میں ایسے لوگ موجودہیں جو بارک اوباماکو پوائنٹ آف نوریٹرن کی طرف لے جارہے ہیں اورایسا کچھ کرنے پر مجبورکررہے ہیں کہ ایرانیوں کیساتھ دوستی کاراستہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے۔احمدی نژاد نے کہاکہ ہم امید رکھتے ہیں کہ روس توجہ دے گااور ایران کوروس کے تاریخی دشمنوں کی صف میں نہیں کھڑا کرے گا۔دوسری جانب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے جدہ میں سعودی شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کی۔ان کا کہناہے کہ خلیجی ممالک اور بالخصوص یو اے ای مشرق وسطیٰ کے امن عمل اور ایران کے ساتھ تعلق میں اہم کردارادا کرسکتا ہے۔ادھرآسٹریلیا نے کہاہے کہ وہ غاصب اور عدم استحکام کاسبب بننے والی حکومتوں کیخلاف فوری اورآسانی سے نافذ العمل پابندیوں کے قوانین متعارف کرائیگا۔وزیرخارجہ سٹیفن سمتھکاکہناہے کہ آزادپابندیوں کابل پارلیمنٹ میں لایاجائیگا جس کے بعد ان کاملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کاانتظارکرنے کے بجائے خود بائیکاٹ کرسکے گا۔انہوں نے کہاکہ بل کے نتیجے میں وہ ایران اورشمالی کوریا کے ایشوز پر فوری رد عمل دے سکے گا۔
    
27مئی2010


سی آئی اے کے ایجنٹ اوردہشت گردعبدالحامد ریگی کو پھانسی دیدی گئی

عبدالحامد ریگی ،دہشت گرد عبدالمالک ریگی کا بھائی تھا،دونوں ایران اورپاکستانی بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

 

(اردونیوزمیگزین رپورٹ)

کالعدم دہشت گرد تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبد المالک رگی کے بھائی عبد الحامد رگی کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ انہیں رشتہ داروں کے سامنے سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان کی جیل میں تختہ دار پر لٹکا یا گیا۔

ایرانی صوبے سیستان بلوچستان میں محکمہ ء انصاف کے اہلکار ابراہیم حامدی نے کہا ہے کہ سلامتی کے بعض خدشات کی وجہ سے اس سزائے موت پر عملدرآمد ان لوگوں کے سامنے کیا گیا۔ 

 رپورٹس کے مطابق عبد الحامد نے امریکی سی آئی اے کی معاونت سے ایران میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کا جرم قبول کیا تھا۔

ایرانی حکام کو بڑی تگ و دو کے بعد ڈرامائی انداز سے رواں سال فروری میں جند اللہ کے سربراہ عبد المالک کو گرفتار کرنے میں کامیابی ملی تھی جبکہ سزائے موت پانے والے ان کے بھائی کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔

جند اللہ نے سیستان بلوچستان میں ایرانی انقلابی گارڈز کے پندرہ اہلکاروں سمیت چالیس افراد کی ہلاکت کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی تھی

عبد المالک کو پھانسی دینے کے لئے پہلے گزشتہ سال جولائی کا مہینہ منتخب کیا گیا تھا، پھر مزید حقائق کی کھوج کی خاطر معاملہ دسمبر تک ملتوی کیا گیا اور آخر کار اب جاکر اسے پھانسی دے دی گئی۔

جند اللہ نامی تنظیم پر ایران میں متعدد  دہشت گردانہ کارروائیوں کے الزامات ہیں۔ ان میں سیستان بلوچستان ہی میں کیا گیا ایک دہشت گردانہ حملہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی بلوچستان سے ملحقہ  اس علاقے میں کی گئی کارروائی میں پاسداران انقلاب گارڈز کے پندرہ اعلیٰ عہدیداروں سمیت چالیس افراد مارے گئے تھے۔

گزشتہ سال جولائی میں بھی جند اللہ سے وابستگی کے الزام پر تیرہ افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔جند اللہ کے سربراہ کو رواں سال ڈرامائی انداز سے گرفتار کیا گیا ہے ۔جس پر امریکہ اوریورپی ممالک دنگ رہ گئے تھے۔

یہ دہشت گرد  گروہ کو منشیات اور اغوا کاری کے دھندے میں بھی ملوث سمجھا جاتا ہے۔ ایرانیوں کو یقین ہے کہ جند اللہ کو امریکی سرپرستی حاصل ہے۔

24مئی2010


ایران نے ترکی اور برازیل کیساتھ جوہری ایندھن کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔

ایران کےخلاف نئی امریکی  پابندیوں کا مسودہ بھی سامنےآگیا۔

18  مئی2010 اردونیوزمیگزین)

ایران نے ترکی اور برازیل کے ساتھ جوہری ایندھن کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ ترک خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق معاہدے کی تفصیلات تینوں ممالک کے وزراء خارجہ کے 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں طے پائیں تاہم اس معاہدے کے باوجود ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرانے کی امریکی کوششوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔ ایرانی ٹی وی چینل العالم کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت ایران 12 سو کلوگرام کم افزودہ یورینیم ترکی کے حوالے کرے گا۔ ٹی وی چینل نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پراست کے حوالہ سے مزیر بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل پیر کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد، ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے ایک ملاقات میں دی۔ دریں اثناء واشنگٹن میں ایرانین۔امریکن کونسل کے سربراہ ٹریٹا پارسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایران کے خلاف چوتھی بار پابندیاں عائد کرنے کا بل کانگریس میں ضرور پیش کیا جائے گا تاہم ہو سکتا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما کو اس بل پر کانگریس کے بعض ارکان کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔

ترک اور برازیلی رہنماؤں سے مذاکرات کے بعد ایران نے یورینیم کو افزودگی کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان کا ملک ریسرچ ری ایکٹر کے لیے جوہری ایندھن کی فراہمی کے بدلے بارہ سو کلو کم افزودہ یورینیم ترکی بھیجنے کو تیار ہے۔

یہ معاہدہ ایران سے بہتر تعلقات کے حامل ممالک برازیل اور ترکی کی مدد سے مذاکرات کے نئے سلسلے کے بعد ہوا ہے اور اس پر تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دستخط کیے ہیں۔
اسی معاہدے کے سلسلے میں برازیل کے صدر ڈی سلوا لولا اور ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان بھی ایران پہنچے تھے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ایران ممکنہ طور پر سلامتی کونسل کی پابندیوں سے بچ جائے گا۔ گزشتہ برس مغربی قوتوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایران اپنے کم افزودہ یورینیم کے ذخائر روس اور فرانس منتقل کر دے جو اسے جوہری ری ایکٹر کے ایندھن میں تبدیل کر کے واپس ایران بھیجیں گے۔

اس پیشکش کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے امکان سے باز رکھتے ہوئے جوہری توانائی کے فوائد مہیا کرنا تھا۔ ایران نے اس پیشکش پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا تھا اور وہ اب یورینیم فرانس یا روس کی جگہ ترکی بھیجنے پر رضامند ہوگیا ہے۔
معاہدے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رمین مہمان پرست نے کہا کہ ’ ترکی ہی وہ جگہ ہے جہاں ایران کا ساڑھے تین فیصد کم افزودہ یورینیم جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہ سکو کلو گرام یورینیم ترکی بھیجا جائے گا اور ایران اس سلسلے میں آئی اے ای اے کو ایک ہفتے کے اندر اندر مطلع کر دے گا۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں یہ واضح نہیں کہ یہ کم افزودہ یورینیم ایندھن کی تیاری میں استعمال ہو گا یا اسے بطور ضمانت رکھا جائے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اس معاہدے کو سلامتی کونسل کی سخت پابندیوں سے بچنے کی کوشش قرار دے سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ترکی اور برازیل دونوں سلامتی کونسل کے رکن ہیں اور انہیں ان پابندیوں پر رائے شماری میں بھی حصہ لینا تھا۔
معاہدے کے بعد ترک وزیرِ خارجہ احمد دعوتوگلو نے کہا ہے کہ اب ایران کے خلاف نئی پابندیاں لگانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران ایک تعمیری راہ کھولنا چاہتا ہے۔ اب نئی پابندیوں یا دباؤ کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘۔

اس معاہدے کے بعد ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ نئے سرے سے مذاکرات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایران سے ایمانداری، انصاف اور باہمی احترام پر مبنی بات چیت کا وقت ہے‘۔

خیال رہے کہ ایران سلامتی کونسل کی نئی پابندیوں کے نفاذ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں ایرانی وزیرِ خارجہ سلامتی کونسل کے تمام پندرہ رکن ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ تہران میں ایرانی صدر کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ اپنے برازیلی ہم منصب سے ملاقات میں انہیں آمادہ کرسکیں کہ برازیل سلامتی کونسل میں اپنی نشست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر مجوزہ پابندیوں کے خلاف ووٹ دیں۔

 (19مئی 2010)  دوسری طرف امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں  جوہری پروگرام جاری رکھنے پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ سامنے آگیا ہے۔قرارداد پر ووٹنگ اگلے ماہ متوقع ہے۔اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر سوسن رائس کی جانب سے سلامتی کونسل کے غیر مستقل ارکان کو دیے گئے دس صفحات پر مشتمل مسودے کے مطابق ایران پردوسرے ممالک میں یورینیم ذخائرمیں سرمایہ کاری کرنے پرپابندی عائدہوگی۔ کوئی ملک ایران کوٹینک،فوجی گاڑیاں،جنگی جہاز،وارشپ اوربھاری ہتھیارفروخت نہیں کرسکے گا۔ ایرانی بحری جہازوں کے میزائل یا جوہری پروگرام سے متعلق کارگو کی انسپکشن بھی کی جاسکے گی۔ قرارداد کے تحت ایران کی بینکنگ اور دیگر انڈسٹریوں کے علاوہ انقلابی گارڈز کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا جاسکے گا۔ مغربی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ قرارداد پر ووٹنگ جون کے شروع میں ہوگی۔ امریکی ذرائع ابلاغ کےمطابق قرارداد کے مسودے پر امریکا سمیت چین، برطانیہ، روس،فرانس اور جرمنی نے اتفاق کیا ہے۔ قرارداد کا مسودہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران مغربی خدشات دور کرنے کیلئے یورینیم کو افزودگی کیلئے ترکی بھجوانے پر رضامندی ظاہر کرچکا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں سے ایران کے ساتھ تجارتی روابط متاثر نہیں ہوں گے۔

 

 

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com