Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

 کرغیزستان میں خانہ جنگی سےمتاثرین کی تعداد 10 لاکھ سےتجاوزکرگئی 

اقوام متحدہ کی عالمی برادری سے امدادکی اپیل


 
 آبرو ریزی، لوٹ مار، اور غارت گری، یہ وہ الفاظ ہیں جو پرانے زمانے کے بحری قزاقوں اور وحشیوں کے حوالے سے استعمال کیے جاتے تھے۔ لیکن آج جنوبی کرغزستان  اسی وحشیانہ  پاگل پن کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں کرغز اکثریت کے ہاتھوں ازبک اقلیت پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔

آٹھ دن کے تشدد میں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 200  افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن کرغزستان کی عبوری لیڈر روزا وتان بائیوا  کے مطابق  اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔   افراتفری  میں مرنے والوں کی تعدادمعلوم کرنا آسان کام نہیں ۔ دوکانیں اور کاروباری مراکز کو لوٹا گیا ہےاور جلا دیا گیا ہے ۔ گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق، چار لاکھ افراد کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑا ہے ۔بہت سی نوجوان لڑکیوں کی آبرو ریزی کی اطلاعات  بھی ملی ہیں۔

متلیبا اکرامووا نے بتایا کہ  اوش کے شہر میں جب ان کی رشتے دار 16 سالہ لڑکی  جو چُھپی ہوئی تھی، اپنے زخمی باپ کے سر کی مرہم پٹی کرنے باہر نکلی، تو ایک ہجوم نے اسے گھیر لیا۔اکرامووا نے بتایا کہ ان لوگوں نے اس لڑکی کے باپ کے سامنے اس کی عزت لوٹ لی۔ انھوں نے  اس بچی کے ساتھ جو کچھ کیا ، وہ وحشی درندے بھی نہ کرتے۔

اوش میں ایک ازبک ڈاکٹر نے رپورٹروں کو بتایا کہ  بہت سے لوگ اتنے زیادہ دہشت زدہ ہیں کہ ان پر جو کچھ بیتی ہے، وہ اسے بیان   بھی نہیں کر سکتے۔

ہیومن رائٹس واچ  کی ایک تحقیق اینا نئیستات کہتی ہیں کہ مظالم کا شکار ہونے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ چلانا مشکل ہے۔’’میں نے ابھی ابھی ایک عورت سے بات کی ہے جس کی آبرو ریزی کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اور بھی کیس ہوں گے ۔ میرے خیال میں اسی جگہ پر اور بہت سی عورتوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ سب کتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔‘‘

علی شیر خادموف جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں وسط ایشیا پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ انھو ں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مجرموں کے ٹولے لوگوں کو اغوا بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا’’وہ مالدار ازبک شہریوں کو اغوا کر رہے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے تاوان طلب کر رہے ہیں۔ سرکاری ادارے امن و امان قائم کرنے میں بالکل ناکام ہو گئے ہیں۔‘‘

اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینوں کو مدد فراہم کی ہے ۔سرحد پار  ازبکستان میں داخل ہو جانے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ تک ہو سکتی ہے ۔ بہت سے پناہ گزیں کرغزستان کی سرحد کے پاس جمع ہیں۔

حالیہ واقعات کی وجہ سے پناہ گزینوں کو بہت  مصائب برداشت کرنا پڑے ہیں لیکن  آنے والا وقت ان کے لیے اور زیادہ مشکل ہو گا۔ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز سے وابستہ ذہنی صحت کے ماہر، ڈاکٹر کیلون وائٹ  پناہ گزینوں کے ایک کیمپ میں کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہر نئے دن کے ساتھ ، اپنے مستقبل کے بارے میں ان کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ اصل پریشانی اس وقت شروع ہو گی جب وہ سوچیں گے کہ اب کیا ہوگا۔ ہم کہاں جائیں گے۔‘‘

ایک اور سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ ظلم ڈھائے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ علی شیر خادموف کہتے ہیں  کہ شاید کچھ بھی نہیں۔’’گذشتہ چند دنوں میں جو جھڑپیں ہوئی ہیں ان میں کئی ہزار نوجوان  شریک تھے۔ مشکل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی شناخت بہت مشکل ہے کیوں کہ جیسے ہی فسادات ختم ہوئے ان نوجوانوں نے تیزی سے اپنا بھیس بدل لیا۔ اب وہ عام سویلین آبادی میں شامل ہو گئے ہیں۔‘‘


اقوامِ متحدہ نے اُن دَس لاکھ سے زیادہ افراد کی مدد کے لئے ایک اپیل جاری کی ہے، جو وسطی ایشیائی ریاست کرغزستان میں حالیہ نسلی ہنگاموں کا شکار ہوئے ہیں۔
اِسی دوران بحران زدہ جنوبی علاقوں میں تشدد کے تازہ واقعات کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ایک روز قبل کرغزستان کی عبوری صدر روزا اوتُنبائیوا نے متاثرہ علاقے کے ایک دورے کے موقع پر اعتراف کیا تھا کہ مرنے والوں کی اصل تعداد اب تک بتائی جانے والی سرکاری تعداد 192 سے دَس گنا زیادہ یعنی ممکنہ طور پر دو ہزار تک ہو سکتی ہے۔ اِسی دوران متاثرہ جنوبی شہر اوش کے شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے ہنگاموں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔  کرغزستان کی عبوری صدر روزا اوتُنبائیوا
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بشکیک حکومت کی اُن کوششوں کی حمایت کی ہے، جن کا مقصد متاثرہ خطے میں امن و امان بحال کرنا اور وہاں امداد پہنچانا ہے۔ ہفتہ کو نائب امریکی وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور رابرٹ بلیک بشکیک میں کرغزستان کی عبوری حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔
 اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بتایا ہے کہ یہ عالمی ادارہ کرغزستان کے لئے 71 ملین ڈالر کی ایک ہنگامی اپیل جاری کر رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتے اِسی طرح کی ایک اپیل اُزبکستان کے لئے بھی جاری کی جائے گی، جہاں حالیہ ہنگاموں سے بچنے کے لئے فرار ہونے والے تقریباً ایک لاکھ اُزبک باشندوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ بان کی مون کا کہنا تھا:
’’اُزبکستان کے لئے اپیل اگلے ہفتے جاری کی جائے گی۔ اَشیاء کی فراہمی کے فُقدان، نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور لُوٹ مار کی وجہ سے کرغزستان کے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور بجلی کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ہسپتال اور دیگر ادارے کم طبی سامان ہی کی مدد سے اپنا کام چلا رہے ہیں۔‘‘
بان کی مُون  کے مطابق حالیہ ہنگاموں کے 1.1 ملین متاثرین کے لئے اگلے چھ مہینوں میں 71.15 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جن کے حصول کے لئے اقوام متحدہ کی ہنگامی امدادی کارروائیوں سے متعلق رابطہ کار جون ہومز نے  امداد فراہم کرنے والے ملکوں سے رابطوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ خود ہومز کا کہنا ہے کہ جس بڑے پیمانے پر تشدد روا رکھا گیا، لوگوں کو ہلاک اور زخمی کیا گیا، آگ لگائی گئی، جنسی تشدد روا رکھا گیا، اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا اور سرکاری اور  نجی املاک  کو لوٹا گیا، اُسے جان کر اُنہیں زبردست دھچکہ پہنچا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن
سب سے زیادہ متاثرہ کرغز شہر اوش کے باسیوں کا کہنا ہے کہ عبوری صدر اوتُنبائیوا کی طرف سے اُزبک اقلیت کے رہائشی علاقوں کو جانے والے راستوں پر بنائی گئی عارضی رکاوٹیں ہٹانے کے اعلان کے بعد اُزبک آبادی خود کو نئے ہنگاموں کے لئے تیار کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے ایک تریسٹھ سالہ شہری پُلات شیخانوف نے کہا:’’اگر وہ یہ رکاوٹیں ہٹانے کے لئے آئے تو وہ ایک بار ہمیں فائرنگ کا نشانہ بنائیں گے۔ فوج ہمارے خلاف ہے اور حکومت ہمارے خلاف لڑ رہی ہے۔‘‘ اِس اُزبک شہری کا کہنا تھا کہ وہ کسی سے بھی خیر کی توقع نہیں کر رہے ہیں اور جب تک یہ تمام اُزبک باشندوں کو یہاں سے نکال نہیں لیں گے، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ واضح رہے کہ کرغزستان کی مجموعی آبادی 5.4 ملین ہے، جن میں سے 14 فیصد اُزبک ہیں۔
جہاں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اِن ہنگاموں کا اصل سبب کیا ہے، وہاں ہمسایہ اُزبکستان کے صدر اسلام کریموف کا کہنا ہے کہ کرغز اور اُزبک آبادی کے درمیان ان خونریز ہنگاموں کے پیچھے نسلی منافرت کارفرما نہیں ہے۔ کوئی نام لئے بغیر کریموف نے کہا کہ ’یہ تخریبی کارروائیاں ہیں، جو باہر بیٹھے عناصر کر رہے ہیں۔‘

 

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com