Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

اسرائیل امریکہ گٹھ جوڑ،کیا تیسری عالمی جنگ شروع ہونیوالی ہے؟

اسرائیل نے امدادی قافلےپرحملہ کرکےامت مسلمہ کی غیرت کوللکاراہے۔۔۔۔۔۔۔

ہےکوئی جومظلوم فسلطینیوں کی مددکوآئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیصل مجاہد کی رپورٹ

 

دو میں سے ایک بات ہو گی:
تیسری عالمی جنگ یا اسرائیل کی سرپرستی کا خاتمہ
اسرائیل نے حسب توقع بین الاقوامی قوانین اور فیصلوں کو ماننے سے پھر انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ کی اس پیش کش کو بھی مسترد کر دیا کہ فورٹیلا جہاز پر ہونے والے کشت و خون کی تحقیقات کروائی جائیں۔ اس ساری صورت حال میں ہمیں ایک بڑا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ جس میں اسرائیل کی بربادی، تیسری عالمی جنگ یا پھر مسلمانوں کی آخری حد تک پسپائی میں سے کوئی ایک صورت کا ظہور پزیر ہونا یقینی ہو گیا ہے۔ لیکن میں سب سے بڑا خطرہ تیسری عالمی جنگ کا ہے۔ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ دو وجوہ ہیں۔
پہلی وجہ:
اسرائیل کا تیل ترکی سے ہو کر اس تک پہنچتا ہے۔ اگر ترکی اسرائیل کا تیل بند کر دے تو اسرائیل کا پنجابی میں حقہ پانی بند ہو جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے امریکی فوج کو پاکستان سے تیل پہنچتا ہے۔تاریخ اس ستم کو کبھی فراموش نہیں کرے گی کہ عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں کو ایندھن مسلمانوں کے سب سے طاقتور ملک ہی بھیجتے تھے۔ ترکی کے وزیر اعظم نے اس بات پر صلح مشورہ شروع کر دیا ہے کہ غزہ کے محسورمظلوموں کے لیے ایک عدد جہاز لے کر ترکی بحریہ کے پہرے میں غزہ کے ساحلوں پر پہنچے گا۔ اگر ترک وزیر اعظم اپنی اس مجاہدانہ خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چل پڑتے ہیں تو اسرائیل کے پاس صرف دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس جہاز پر بھی فائرنگ کرے اور اسے روکنے کی کوشش کرے جس سے ایک کھلی جنگ چھڑ جائے گی۔ دوسرا راستہ اس سے بھی خطرناک ہے۔ وہ یہ کہ اسرائیل جہاز کو بہ حفاظت غزہ جانے دیا جائے۔ یہ بہت اچھا اقدام ہے لیکن اسرائیل کی سیاسی اور فوجی شکست کی مانند ہو گا اس لیے وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے امریکہ طالبان کے لیے آنے والے امدادی جہازوں کو بلاروک ٹوک پہنچنے دے۔ اس لیے اسرائیل ہر قیمت پر ترک وزیر اعظم کو روکے گا۔ جس سے ایک عالمگیر تصادم جنم لے گا اور دنیا ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھے گی جو براہ راست کفر اور شرک کی جنگ ہو گی۔

دوسری وجہ:
جس سمندر میں اسرائیل کی دہشت گرد فوج نے پر امن جہاز پر بزدلانہ حملہ کی وہ بین الاقوامی سمندر ہے۔ یعنی وہ ساری دنیا کا سمند ر ہے۔ اس میں آپ بھی اپنا جہاز لے کر جائیں تو سوائے سمندری ڈاکوں کے کوئی آپ کوتنگ نہیں کر سکتا۔ لیکن اسرائیل نے ایسا کیا۔ اب ایرانی انقلابی گارڈز جو اسرائیل کے دشمن نمبر ایک ہیں، نے اسی کھلے سمندر میں غزہ جانے والی کشتیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب یا تو وہ ایسا کریں گے اور یا کہے سے مکریں گے۔ دوسری بات کا امکان کم ہے۔ یہ تو طے ہے کہ اسرائیل کبھی ایسا ہونے نہیں دے گا۔ وہ چاہے گا کہ اول تو کوئی چیز غزہ سے میں نہ جانے پائے اور نہ ہی خبر سمیت کوئی چیز باہر آئے لیکن اگربین الاقوامی دبائو کے تحت وہ ایسا کرنے پر مجبور بھی ہو تو امداد اسرائیل کو دی جائے وہ خود میں خوردبرد کر کے اقساط میں آگے پہنچائے گا ۔ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل ایسا نہیں کرنے دے گا تو لازمی بات ہے کہ ایرانی انقلابی گارڈز اور اسرائیل کے فوجیوں میں تصادم ہوگا۔ اور یہ تصادم ظاہر ہے نہ اسرائیل ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرے گا اور نہ ہی ایران۔ ایران پر امریکہ بھی دبائو نہیں ڈال سکتا اس لیے تصادم ناگزیر ہو گا۔

اسرائیلی حمایت کے خاتمے کے دو امکانات:
پہلی وجہ:
تیسری جنگ کا خطرہ اس صورت میں ہے اگر امریکہ اور یورپی یونین اسرائیل کا بھرپور ساتھ دے۔ لیکن یہاں بھی ایک پیچدگی آگئی ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل کے اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ صرف مخالفت ہی نہیں بلکہ برطانیہ لندن کے سابق مئیر نے دنیا کا سب سے بڑا امدادی جہاز لے کر غزہ جانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین نے اسرائیل کی اس خواہش کو رد کر دیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات نہ کروائی جائیں۔ اس وقت اسرائیل بہت کمزور پچ پر ہے۔ اگر مسلمان اور عرب ممالک {معاف کیجئے کہ مسلمان اور عربوں کو دو الگ قوموں کے طور پر لکھا ہے لیکن کیا کریں عرب خود یہی چاہتے ہیں} اس موقع کو بہتر طور پر استعمال کریں تو اسرائیل کے سرپرست اپنی مجبور یوں کے بھرم میں اسرائیل سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں یہودیوں پر پڑی لعنت ایک بار پھر دنیا دیکھے گی۔ امریکہ سے بھی یہ اسی طرح نکلیں گے جیسے جرمنی اور روس سے نکلے تھے۔

دوسری وجہ:
اسرائیل کا موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو ایک ایسے یہودی کا بیٹا ہے جس نے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے مہاجر کمپوں پر گولہ باری کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ خوب بھی ریٹائرڈ کمانڈو ہے جس کے ہاتھ ہزاروں بےگناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ امریکہ صدر باراک اوباما سے کئی بار فون پر نیتن یاہو کی جھڑپ ہو چکی ہے۔ اوباما اور یاہو کے تعلقات کے بارے میں یہ خبریں عام ہیں کہ یہ دو انتہائوں کا ملاپ ہے۔ اوباما ایک بار اور لیڈی سیکرٹری کلنٹن دو بار یاہو کو فون پر جھاڑ پلا چکی ہیں جس کے جواب میں یاہو نے بھی اپنے کس بل دکھائے۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد امریکہ میں یہ سوچ مضبوط ہو گی کی امریکی امن کے لیے اسرائیل کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔


 

جنگ ہوئی تواسرائیل کےبحری جہازوں کوڈبودیں گے،سیدحسن نصرالله

اسرائیل ،امریکی امدادکیلئےحزب الله پرسکڈمیزائیل حاصل کرنےکالزام لگارہاہے۔

بیروت. . . . . . . .حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر جنگ مسلط کی تو اس کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بیروت میں جنوبی لبنان سے22سال بعد اسرائیلی فوج کے انخلاکی دسویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب میں حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ جارحیت یا سمندری ناکابندی ہوئی تو حزب اللہ بحیرہ روم سے گزرکر مقبوضہ فلسطینی حدود جانے والے اسرائیل کے تمام فوجی، سویلین اور کمرشل بحری جہازوں پر حملے کرے گی۔اسرائیلی کشتیوں کے علاوہ ایئرپورٹ اور دیگر اسٹرٹیجک تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل شام پر حزب اللہ کو اسکڈ میزائل فراہم کرنے کا الزام اس لیے لگارہا ہے تاکہ اسے مزید امریکی مالی امداد مل سکے۔

26مئی2010

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com