سعد حریری کا اقوام متحدہ سے اپنے والدرفیق حریری کے قتل میں اسرائیلی کردار کی تحقیقات کامطالبہ
.jpg)
اقوام متحدہ(اردونیوزمیگزین )لبنان کے وزیراعظم سعدحریری نے اقوام متحدہ سے اپنے والدرفیق حریری کے قتل میں اسرائیلی کردار کی تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ انہوں نے حزب الله کے رہنما حسن نصرالله کی پریس کانفرنس کے بعد کیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیاتھا کہ سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل ملوث ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیلی جاسوس طیاروں نے رفیق حریری کے قتل سے کچھ دن قبل ان کے گھر سے پارلیمنٹ تک کے راستے کی نگرانی اور وڈیو فلمیں بنائیں جو حزب الله نے اپنے ذرائع سے حاصل کی ہیں ۔ لبنانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے اس معاملہ کی تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حسن نصرالله کی طرف سے اس حوالہ سے پیش کئے گئے ثبوت بے حد اہم اورحساس ہیں اور انھیں نظرانداز نہیں کیاجاناچاہیے۔
ترکی نےایشیاء سیکورٹی اجلاس طلب کرلیا
اسرائیلی جارحیت کےخلاف متفقہ پالیسی بنانےپرغور
.jpg)
غزہ امدادی قافلے پر اسرائیلی فوج کی کارروائی اگلے ہفتے استنبول میں ہونے والے ایشیا سیکیورٹی اجلاس کا مرکزی موضوع ہو سکتی ہے۔ ترک حکام کے مطابق اس اہم معاملے کو ہرگز بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
منگل کو ایشیا کے مخلتف ممالک کے سربراہان ترک شہر استنبول میں سلامتی کے موضوع پر ہونے والی سربراہ کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے اسرائیل کو بھی مدعو کیا گیا ہے تاہم ابھی تک اسرائیل کی جانب سے سمٹ میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ترکی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں کہا کہ عام حالات میں شاید اس اسرائیلی کارروائی کو اجلاس میں اہم موضوع کی حیثیت حاصل نہ ہوتی، لیکن اس کارروائی کے بعد عالمی سطح پر رائے عامہ میں جس طرح کی تبدیلی دیکھی گئی ہے، وہ اس موضوع پر سوچ بچار کی متقاضی ہے. اس امدادی قافلے کی نمائندگی ترک بحری جہاز کر رہا تھا
’’منگل کو ہونے والی اس سربراہ کانفرنس کا موضوع سلامتی کے حوالے سے گفت و شنید اور ایشیائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوشش ہے، تاہم موجودہ حالات میں اگر اسرائیلی کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات پر گفتگو ہوتی ہے، تو یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہو گی۔‘‘
مسلم ممالک میں ترکی وہ واحد ملک تھا، جس کے اسرائیل سے دیرینہ تعلقات تھے تاہم غزہ جنگ کے بعد ان تعلقات میں تناؤ اور کشیدگی دیکھی گئی۔گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کی ترک تنظیم کے زیرانتظام دُنیا بھر کے انسانی حقوق کے کارکنوں اور چھ جہازوں پر مشتمل ایک بحری قافلہ ناکہ بندی کی پرواہ کئے بغیر غزہ تک امدادی سامان پہنچانے نکلا تھا۔ تاہم گزشتہ پیر کو ایک اسرائیلی کمانڈو ایکشن کے نتیجے میں ان جہازوں اور امدادی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کارروائی میں نو افراد ہلاک ہوئے اور ان سب کا تعلق ترکی سے تھا۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اس واقعے پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ یروشلم کو اس کارروائی کی سزا دی جانی چاہیے جبکہ دوسری جانب ترک حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کم ترین سطح پر لانے پر غور کر رہی ہے۔ ترکی نے اس واقعے کے بعد تل ابیب سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا۔ اس کے علاوہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ مجوزہ فوجی مشقیں بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
6جون 2010 |