خطے میں بدامنی کے اصلی ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل ہیں، سید حسن نصراللہ
.jpg)
: لبنان ۔۔اردو نیوزمیگزین رپورٹ ۔۔حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے خطے میں پائی جانے والی بدامنی اور بحرانوں کا حقیقی ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اسرائیلی سوچ پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل سکتی ہے۔
العالم نیوز چینل کے مطابق حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کل رات حزب اللہ کے شہداء کمانڈرز کی یاد میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں انجام پانے والے ناگوار واقعات جیسے امریکہ یا افغانستان میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے پیچھے اسرائیلی سوچ کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان میں عوام قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، عوام پر حملہ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی یہودیوں کا شاخصانہ ہے، قرآن پاک میں بیان ہوا ہے کہ یہودیوں نے کیسے اپنے نبیوں کو قتل عام کیا تھا، تقدسات کی پامالی اور دنیا میں مذہبی جنگ کی آگ پھیلانا اسرائیلی سوچ ہے۔
خطے کی بدامنی اور قتل و غارت کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں حالیہ بم دھماکوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جگہوں پر کار بم دھماکے معمول بن چکے ہیں اور اب تک کئی لاکھ عراقی شہری اس طرح کے بم دھماکوں یا قابض امریکی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موت کی نیند سو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ نے عراق پر فوجی قبضہ کیا تو ہم کہتے تھے کہ اسرائیل عراق کو نابود کرنے کے درپے ہے کیونکہ اگر عراق کو موقع دیا جاتا تو وہاں ایک طاقتور حکومت قائم ہو سکتی تھی جسکے پاس وافر مقدار میں وسائل بھی موجود تھے، ہم سب جانتے ہیں کہ عراق ایک انتہائی مہذب قوم ہے لہذا اس صورت میں دنیا میں ایک نئی قوت ابھر کر سامنے آ سکتی تھی۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی نہیں چاہتے عراق ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے کیونکہ صہیونیست اچھی طرح جانتے ہیں کہ آخرکار مشرق کی جانب سے عراق اور ایران سے آنے والے طوفان اس غاصب رژیم کو نابود کر دیں گے۔
خطے میں امریکہ اور اسرائیل نواز تکفیری گروہوں کا اثر و رسوخ:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جاسوسی ایجنسیز سے وابستہ تکفیری گروہ بڑی حد تک خطے میں اثر و رسوخ پیدا کر چکے ہیں، ہم پاکستان اور صومالیہ میں دیکھتے ہیں کہ ہر روز کئی افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آج عرب ممالک میں انجام پانے والی قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے اسرائیلیوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے خطے کے ممالک پر اسرائیلی عزائم کے مقابلے میں ہوشیار اور بیدار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سب کو چاہئے کہ وہ اپنے اردگرد کے سیاسی حالات اور خطے اور مقبوضہ فلسطین میں انجام پانے والے واقعات کے بارے میں ہوشیار رہیں، آج کل خطہ انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے۔
امریکہ اور نیٹو شام کے مسلح گروپس کی مدد کر رہے ہیں:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ نیٹو اور امریکہ شام پر فوجی حملہ کرنے کی جرات نہیں رکھتے لہذا وہاں پر حکومت مخالف مسلح گروپس کی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مسائل کا حل صرف سیاسی انداز میں ہی ممکن ہے لیکن بعض ممالک مذاکرات اور گفتگو کے طریقے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
قطیف اور العوامیہ کے عوام کا جواب گولیوں سے دیا جا رہا ہے:
سید حسن نصراللہ نے سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع قطیف اور العوامیہ کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں عوامی مطالبات کا جواب گولی سے کیوں دیا جا رہا ہے؟، قطیف اور العوامیہ کے عوام حکومت کی سرنگونی کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں قدرتی وسائل کے اعتبار سے بعض علاقے انتہائی فقیر اور بعض انتہائی غنی اور دولت مند ہیں جبکہ اس علاقے کے افراد کو گولی سے جواب دیا جاتا ہے، کل بھی ہم نے سنا کہ ایک سعودی مفتی نے بعض سعودی شہریوں کو گمراہ اور مجرم قرار دیا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایک ملک میں عوامی مطالبات اور اصلاحات کی حمایت کی جاتی ہے لیکن دوسرے ملک میں اگر کسی نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بھوکا ہے اور اپنے بنیادی شہری حقوق کا مطالبہ کیا ہے تو اسے مجرم قرار دے کر اسکے مقابلے میں ٹینک لائے جاتے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک منصوبوں کا مقصد خطے کی نابودی اور وہاں قومی اور مذہبی جنگ کی آگ پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مغربی دنیا اسرائیل کی جانب سے مساجد اور گرجاگھروں کی مسماری اور عام شہریوں کی قتل و غارت کی حمایت جاری رکھے گی امریکہ خطے کی عوام میں مقبولیت اور محبوبیت پیدا نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خطے میں جنگ پھیلانا چاہتے ہیں۔
بحرین کےمسلمانوں کی آل خلیفہ کےخلاف جدوجہدجاری

بحرینی عوام آل خلیفہ کی ستمگر مطلق العنانیت کے خلاف اپنی پرامن جدوجہد اور آل خلیفہ اور اس کے علاقائی اور بین الاقوامی آقاؤں کے مقابلے میں اپنی مزاحمتی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے جائز مطالبات پر اصرار کررہے ہیں۔
بحرین چاراپریل دوہزاربارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج بحرینی عوام کی قومی اور اسلامی تحریک کا 377 واں دن ہے۔ بحرین کے انقلابی نوجوانوں نے اس کو "یوم حداد السماء 2" کا نام دیا گیا ہے۔
ذیل میں بحرین کے کل اور آج کے واقعات سے متعلق موصول ہونے والی رپورٹیں ہیں جن کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:
ــ بحرین: آل خلیفہ کے خلاف عوامی مظاہرے جاری رہے
بحرینی عوام نے جمعہ کے روز شام کے وقت بلاد القدیم سے السہلہ تک مظاہرہ کیا اور آل خلیفہ کے خلاف نعرے لگائے۔
اطلاعات کے مطابق یہ مظاہرہ "الوفاق"، "الوعد"، "الوحدوی"، "الاخاء" اور "القومی" جیسی سیاسی جماعتوں کی اپیل پر انجام پایا۔
واضح رہے کہ آل خلیفہ خاندان کی مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بحرینی عوام کی انقلابی تحریک 14 فروری 2011 کو شروع ہوئی اور اس وقت سے اب تک مظاہروں اور احتجاجی اقدامات کا سلسلہ پرامن انداز سے، بلاناغہ جاری ہے۔ بحرینی عوام ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں، آزادانہ انتخابات، بیرون ملکیوں کو شہریت دے کر آبادی کا توازن بگاڑنے کی سازش کا خاتمہ چاہتے ہیں، آزاد پارلیمان اور منتخب حکومت چاہتے ہیں، ملازمتوں میں بیرون ملک سے آئے ہوئے لوگوں کو ترجیح دینے اور مقامی لوگوں کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور عالمی قوانین ملک کے ہر ایک شہری کو ایک رائے دینے کا حق چاہتے ہیں، ملک میں آزاد اور خودمختار عدلیہ کا قیام چاہتے ہیں اور سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، فوجی عدالت کی فوری بندش اور آل سعود کی افواج کا انخلا چاہتے ہیں؛ لیکن امریکہ اور یورپ اپنے ہی بنائے ہوئے اس قانون کو بحرین میں، نہیں مانتے اور آل خلیفہ کی حمایت کرتے ہیں اور آل سعود کا خاندان بھی جو شام میں نام نہاد جمہوریت کے لئے اس ملک پر فوجی چڑھائی کا خواہاں ہے، بحرین میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے میں آل خلیفہ اور امریکہ و یورپ کا ہاتھ بٹا رہا ہے اور اس نے ایک ہزار فوجی بحرین میں بھیجنے کا اعلان کرکے 10 ہزار فوجی اس ملک میں داخل کردیئے ہیں اور یمن، شام، اردن، یمن، عراق اور پاکستان سے بھی ہزاروں تکفیریوں کو بھرتی کرکے بحرینی عوام کو کچلنے پر مامور کیا گیا ہے۔
ایک طرف سے آل خلیفہ و آل سعود اپنے مغربی آقاؤں کے مظالم ہیں اور دوسری طرف سے پرامن انقلاب ہے جو جبر و ستم کے ہزاروں حربوں کا سامنا کررہے ہیں لیکن پر عزم ہیں۔
ــ بحرین: آل خلیفہ عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام
ڈاکٹر نبیل رجب نے بحرین میں بحران کی شدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کا آل خلیفہ کی حکومت عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین انسانی حقوق مرکزکے سربراہ ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا ہے کہ بحرین میں بحران جاری ہے، آل خلیفہ خاندان تشدد کے تمام حربے آزمانے اور بیرونی قوتوں کی امداد سے بہرہ مند ہونے کے باوجود عوامی انقلاب کو کچلنے میں ناکام ہوچکا ہے، خلیفی خاندان طرف سے مذاکرات کی دعوت سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ اس خاندان نے جس شخص کو مذاکرات کا عمل سونپا ہے اس نے خود ہی اس ملک میں فرقہ وارانہ تصفیئے (Sectarian cleansing) کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کا ہدف ملکی اکثریت کو بے دخل کرنا ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین کی صورت حال بند گلی میں پہنچ گئی ہے، آل خلیفہ کی خاندانی حکومت نے ابھی تک عوامی مطالبات کا جواب نہیں دیا ہے، اور اس کے باوجود کہ اس کو سعودی عرب اور دیگر ممالک کی مالی اور فوجی حمایت حاصل ہے، ابھی تک بحران کو سیکورٹی اقدامات کے ذریعے قابو میں لانے سے عاجز ہے اور وہ ابھی تک عوامی تحریک کو روک نہیں سکی ہے۔ مخالفین کے ساتھ حقیقی مذاکرات کے لئے حکومت کے پاس کسی قسم کی آمادگی دکھائی نہیں دے رہی ہے تا ہم جائز مطالبات پر عوام کا اصرار، امیدبخش ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحرین کی صورت حال بہت زیادہ بگڑ گئی ہے اور آل خلیفہ کی حکومت تمام کوششوں کے باوجود اپنے جرائم چھپانے میں ناکام رہی ہے اور اب پوری دنیا جانتی ہے کہ بحرین میں کیا ہورہا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بحرین کے اسپتالوں سے زخمیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، سیاسی قیدیوں کو منظم طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے، نئے نئے ٹارچر سیل تعمیر کئے جارہے ہیں، پاکستان جیسے ممالک سے کرائے کے قاتل مسلسل برآمد کئے جارہے ہیں، ترکی سے برآمد ہونے والی بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے عوام کو کچلا جارہا ہے، لیکن قوم پامردی کا زبردست مظاہرہ کررہی ہے اور پسپائی کا تصور بھی نہیں کرتی۔
عبدالہادی الخواجہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتا پر ہیں
ڈاکٹر نبیل رجب نے گرفتار ہونے والی دینی اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ آل خلیفہ کی بدسلوکی کے بارے میں کہا: ان ہی شخصیات میں سے ایک عبدالہادی الخواجہ ہیں جو انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما ہیں اور استاد ہیں، عرب دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی خدمات بالکل عیاں ہیں لیکن آل خلیفہ کے غیر انسانی مظالم و جرائم کی بنا پر گذشتہ تین ہفتوں سے بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہیں اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ اگر انہیں کوئی ناگوار حادثہ پیش آیا یا ان کو جانی خطرہ لاحق ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری آل خلیفہ کی حکومت پر ہوگی اور ہم اس حادثے کے بعد چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
انھوں نے کہا: بھوک ہڑتال کے چودہویں روز الخواجہ کی حالت خراب ہوگئی تھی اور ان کے گردوں سے خون رسنا شروع ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا: الخواجہ کو یہ ساری مصیبتیں اس لئے جھیلنی پڑ رہی ہیں کہ وہ بحرینی قوم کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، عوام کی عزت و وقار کی بحالی، ملکی دولت کی منصفانہ تقسیم، منتخب پارلیمان اور منتخب حکومت کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
ــ بحرین: بچے آل خلیفہ کے غنڈوں کی جنسی اذیت و آزار کا شکار
بحرین کے دو خاندانوں نے اپنے دو کمسن بچوں پر آل خلیفہ کے غنڈوں کی طرف سے جنسی تشدد اور دھمکیاں دے کر اعتراف نامے پر دستخط کرانے کا انکشاف کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسیر بچوں میں سے ایک کی بہن نے ذرائع کو بتایا: "حسین عبدالعلی" اور "محمد حبیب" المالکیہ کلب جارہے تھے لیکن راستے میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو ان دو بچوں نے حسین عبدالعلی کی خالہ کے گھر میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔ آدھا گھنٹہ گذرنے کے بعد آل خلیفہ کے گماشتوں نے حسین کی خالہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان دو بچوں کو گرفتار کرکے اسکوائر-17 کے پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا، ہم نے مذکورہ پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا لیکن وہاں موجود خلیفی اہلکاروں نے بچوں کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی لیکن ہم نے کئی مرتبہ رجوع کیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ دو بچے گرفتار کئے گئے ہیں۔ جس کے بعد بچوں سے اہل خانہ کی ملاقات کرائی گئی اور ملاقات کے دوران بچوں نے بتایا کہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکیاں دے کر ایک اعتراف نامے پر دستخط کرائے گئے ہیں جن میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے دیسی ساختہ پٹرول بم تھے جو انھوں نے المالکیہ کے علاقے میں ایک درخت پھینک دیئے تھے!۔
انھوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ان دو بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں اسی لئے انہيں فوری طور پر رہا کردیں۔
ــ بحرین: سیاسی اسیروں کی حالت افسوسناک ہے
آل خلیفہ خاندان کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل بحرینی راہنما ٹارچر، تشدد اور بدسلوکیوں نیز دھونس دھمکیوں کی وجہ سے نہایت افسوسناک صورت حال سے گذر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے سابق رکن پارلیمان "محمد جمیل الجمری" نے آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل سیاسی قیدیوں ـ بالخصوص حمد بن عیسی کے مخالف راہنماؤں ـ کی صورت حال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کو شدید ٹارچر، تشدد اور دھونس دھمکیوں کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین کے عوامی راہنما ان تمام مشکلات کے باوجود عوام کو استقامت، سیاسی سرگرمیاں اور غیرمسلحانہ اور پر امن جدوجہد جاری رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جائز حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد میں عوام کے ساتھ ہیں۔
الجمری نے کہا: گذشتہ کئی برسوں سے آل خلیفہ اور عوام کے درمیان کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں رہا ہے اورمذاکرات کی بحالی کے لئے ہونے والی تمامتر کوششیں ناکام رہی ہيں اور اگر آل خلیفہ کا خاندان پھر بھی مذاکرات پر اصرار کرتا ہے تو ان مذآکرات کے اصولوں کو سابقہ مذاکرات سے مختلف ہونا چاہئے اور ایسے مذاکرات میں "منشور منامہ" کو مدنظر رکھنا چاہئے اور مذاکرات کے نتائج پر ریفرینڈم کا انعقاد ہونا چاہئے۔
انھوں نے انقلاب بحرین کے غیر مسلحانہ پہلو پر زور دیتے ہوئے کہا: بحرین میں ایک پرامن انقلابی تحریک جاری ہے جس کے دائرے میں رہ کر آئینی بادشاہت کے خواہاں بھی اور ملک میں جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کرنے والے بھی سرگرم عمل ہیں۔
بحرین کے مستعفی رکن پارلیمان نے کہا: انقلاب بحرین ایک مسلحانہ انقلاب نہیں ہے اور اس انقلاب کے دونوں اہم دھڑے پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام کو اپنی رائے اور عقیدہ ظاہر کرنے کے مواقع فراہم کریں۔
ــ بحرینی عوام اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں
فاضل عباس نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کے لئے گذشتہ بدھ کے روز دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے عوامی دھرنے کا واضح پیغام یہ تھا کہ اس کو عوامی مطالبات کی طرف ہرحال میں توجہ دینی پڑے گی۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کی سیاسی جمعیت بحرین قومی ڈموکریٹک جمعیت کے سیکریٹری جنرل فاضل عباس نے کہا: گذشتہ بدھ کے روز (مورخہ 22فروری 2012 کو) دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے سامنے عظیم دھرنا دیا گیا اور آل خلیفہ خاندان کو اس دھرنے کا واضح پیغام یہ تھا کہ عوامی مطالبات کی طرف توجہ دینا ضروری ہے اور اس کو توجہ دینے کے بغیر اس کے پاس کوئي چارہ نہیں ہے۔
انھوں نے آل خلیفہ کی خاندانی مطلق العنانیت کے خلاف تمام مخالفین کا پیغام یکسان قرار دیا اور کہا: کل رات کو مخالف جماعتوں سے اپیل کی گئی تھی کہ حکومت مخالف ریلی میں شرکت کریں جس کا عوام اور سیاسی جماعتوں نیز 14 فروری کے انقلابی الائنس نے خیر مقدم کیا اور بحرین میں سرگرم تمام گروپوں اور جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ اپنے جائز مطالبات سے پسپائی نہیں ہونی چاہئے اور ہمیں امید ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت عوام اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات کو عملی جامہ پہنائیں۔
انھوں نے کہا: بحرین کے تمام مرد اور خواتین سیاسی جماعتوں کی کال پر مظاہروں میں شرکت کرتی ہیں اور ان سب کو بخوبی معلوم ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کے نقشے اور منصوبے کیا ہیں۔
ــ انگریز روزنامہ نویس: بحرین پر آل سعود کا فوجی قبضہ ہے
ایک برطانوی نامہ نگار نے بحرین میں آل سعود کی فورسز کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ بحرین پر آل سعود نے فوجی قبضہ کررکھا ہے۔
اطلاعات کے مطابق وائن رائٹ نے ملت بحرین کے ساتھ آل خلیفہ کے تشدد آمیز طرز سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مختلف رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی اعلانیہ پامالی جاری ہے حتی کہ آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے تشکیل یافتہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سربراہ البسیونی کی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کو بدستور پامال کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا: فروری اور مارچ 2011 کو عوامی مظاہرے ایسے نہ تھے جن پر قابو پانے کے لئے آل خلیفہ کو سعود کی افواج کی مدد مانگنے کی ضرورت ہو لیکن موصولہ اطلاعات کے مطابق آل سعود کو بحرین میں فوجی مداخلت کی جلدی تھی اور یہ مداخلت ریاض کے اصرار کا نتیجہ تھی۔
انھوں نے کہا: برطانوی حکومت آل خلیفہ کی حکومت کو ہتھیار بیچ کر عوامی مظاہروں کو کچلنے میں مدد دے رہی ہے اور میں ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے اس حوالے سے بحرینی عوام سے معذرت کرتا ہوں اورمیری رائے کے مطابق برطانوی حکومت برطانوی عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ اور برطانیہ ملت بحرین کو کچلنے میں آل خلیفہ حکومت کے حلیف ہیں اور اس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نہ صرف آل خلیفہ حکومت کو ہتھیار فروخت کررہے ہیں بلکہ ان دو ملکوں نے اپنے سیکورٹی ماہرین بھی بحرین بھجوادیئے ہیں۔
انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کا سابق سربراہ ایان ہنڈرسن برطانوی شہری ہے اور نہایت شرمناک جرائم جیسے: "بحرینی شہریوں کو ٹارچر کا نشانہ بنانے" میں برابر کا شریک ہے۔
ــ بحران سے فرار کرنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری حربہ
جمعیۃالوفاق کے رکن نے عوام کے خلاف آل خلیفہ کے تمام حربوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت بے بسی کے عالم میں آل سعود کے ساتھ اتحاد کے درپے ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے رکن "مجید میلاد" نے افغانستان اور بحرین میں قرآن کو نذر آتش کئے جانے کے عمل کو مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا: آل خلیفہ کے گماشتوں نے درجنوں مساجد کو شہید کیا اور ان مساجد میں قرآن مجید کو نذر آتش کیا۔
انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام نے جمعہ 24 فروری کے دن بھی ہمیشہ کی طرح ریلیاں نکالیں اور مظآہرے کئے اور جمہوریت کے قیام تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کی۔
انھوں نے کہا: فوج کا استعمال اور آل خلیفہ حکومت کے تمام متبادل حربے بحرینی عوام کے انقلاب کے سامنے ناکام ہوچکے ہیں، عوام استقامت کے ناقابل تسخیر پہاڑ بن گئے ہیں اور اپنے اہداف کے حصول کے لئے قیام کے مثبت نتائج پر ان کا یقین روز بروز مستحکم سے مستحکم تر ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا: حکمران آل خلیفہ خاندان سارے کارڈز کھیل چکا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ایک کارڈ ابھی باقی ہے جو اس نے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ کارڈ آل سعود کے ساتھ اتحاد اور کنفیڈریشن بنانے سے تعلق رکھتا ہے لیکن عوام پامردی اور استقامت کے ذریعے اس خلیفی حربے کو بھی ناکام بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ــ القطیف کے عوام نے ایک بار پھر بحرینی عوام کی حمایت کردی
القطیف کے عوام نے جمعہ کے روز آل سعود کے جبر و تشدد کے باوجود قطیف میں مظاہرہ کرکے انقلاب بحرین کی حمایت کی آل بحرین میں آل سعود اور آل خلیفہ کے جبر و تشدد کی مذمت کی اور آل سعود کے اذیتکدوں میں پابند سلاسل تمام اسیروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
ــ آل خلیفہ کی زہریلی گیس کا شکار ہوکر ایک خاتون شہید
آل خلیفہ کے گماشتوں کی زہریلی گیس کا شکار ہونے والی ایک خاتون شہید ہوگئیں اور ان کی شہادت کے ساتھ بحرین کے انقلاب کرامت کے شہداء کی تعداد 71 ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق محترمہ زینب عبدہ حسین عیسی آج صبح 10 بجے آل خلیفہ کے گماشتوں کی طرف سے استعمال ہونے والی زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹ کر شہید ہوگئیں۔
شہیدہ جنوبی سہلہ کی رہائشی تھیں اور ان کی عمر 68 برس بتائی گئی ہے۔ یوں بحرین کے انقلاب کرامت کے شہیدوں کی تعداد 71 ہوگئی ہے۔
آج دوپہر ایک بجے نوجوان "حداد السماء 2" نامی مظاہرے کے لئے تیاری کرتے نظر آئے اور شام 4 بجے آل خلیفہ کے غنڈوں نے شہید زینب عیسی کے گھر پر حملہ کیا اور ان کے اہل خانہ کو خبردار کیا کہ اگر انھوں نے شہیدہ کے جنازے کے لئے جلوس وغیرہ کا انتظام کیا تو اس کا انجام ان کے خاندان کے لئے بہت برا ہوگا۔
پانچ بجے کے وقت بحرینی نوجوانوں نے "حداد السماء 2" کے تحت اپنے مظاہرے کے سلسلے میں آل خلیفہ کی وزآرت داخلہ کی طرف جانے والی سڑک کو بلاک کردیا اور منامہ کی سڑکوں کے اوپر دھویں کے بادل نظر آئے اور شارع بدیع میں انقلابی نوجوانوں اور آل خلیفہ کے غنڈوں کے درمیاں شدید جھڑپیں ہوئيں۔
آل خلیفہ کے منع کرنے پر 5بجکر 25 منٹ پر شہید حاجیہ زینب عبدہ عیسی کا جلوس جنازہ بلادالقدیم کے قبرستان کی طرف روانہ ہوا اور جلوس میں شریک بحرینیوں نے "یسقط حمد" اور "ہم ظلم کو تسلیم نہیں کریں گے" جیسے نعرے لگائے۔
ــ بحرین: آل خلیفہ اور زہریلی گیسوں سے بحرینی عوام کو اجتماعی سزا
بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن نے آل خلیفہ کے ہاتھوں زہریلی گیس کے استعمال سے شہید ہونے والے بحرینیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ زہریلی گیسوں کے ذریعے پوری بحرینی قوم کو سزا دے رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے رکن "یوسف المحافضہ" نے العالم نیٹ ورک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: کل رات کو السہلہ نامی قصبے میں ایک بزرگ خاتون "محترمہ زینب عبدہ حسین عیسی" آل خلیفہ کے گماشتوں کی زہریلی گیس کی وجہ سے دم گھٹ کر شہید ہوگئیں حالانکہ وہ کسی مظاہرے میں شریک نہیں تھیں بلکہ اپنے گھر میں تھیں کہ آل خلیفہ کے جلادوں نے زہریلی گیس کے کئی گولے ان کے گھر کے اندر پھینک دیئے اور ایک بے گناہ خاتون کو قتل کردیا۔
انھوں نے کہا: اس طرح کے حملے شب و روز جاری ہیں اور اب تک درجنوں افراد آل خلیفہ کی ان زہریلی گیسوں کا نشانہ بن کر شہید ہوچکے ہیں جو اس کو امریکہ اور یورپ سے مل رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت قوم کو "اجتماعی سزا" کی پالیسی کے تحت زہریلی گیسیں استعمال کررہی ہے جبکہ عوام جمہوریت اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے پر امن جدوجہد کررہے ہیں۔
برطانوی صحافی:
ــ آل خلیفہ کے جبر و تشدد میں مغربی ممالک برابر کے شریک
ایک برطانوی صحافی نے الزام لگایا کہ برطانیہ سمیت مغربی ممالک بحرینی عوام کو کچلنے میں آل خلیفہ حکومت کے ساتھ پورا پورا تعاون کررہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق برطانوی صحافی "افشین راتانسی" (Afshin Rattansi) نے کہا کہ مغربی دنیا بحرین جیسے ممالک میں انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دیتی بلکہ اس کو اپنے ہتھیار فروخت کرنے کی فکر ہے۔
افشین راتانسی نے ہفتے کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے برطانوی پولیس سے برطانوی عوام کی ناراضگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور برطانیہ نے بحرینی عوام کو کچلنے کے لئے اپنے خاص سیکورٹی ماہرین بحرین بھجوادیئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ برطانیہ اور امریکہ آل خلیفہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہتھیار فروخت کرنے کے معاہدوں پر دستخط کرنے کے درپے ہیں اور بحرینی عوام کے خلاف استعمال ہونے والی آنسو گیس اور زہریلی گیس امریکہ اور برطانیہ سے بحرین بھجوائی جارہی ہے اور بحرینی عوام کو کچلنے میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ، آل سعود کی افواج بھی برابر کی شریک ہیں۔
راتانسی نے آل خلیفہ خاندان پر بحرین کے واقعات و حوادث کی طرف توجہ نہ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا: بحرین کے سلسلے میں ہیومین رائٹس واچ جیسی عالمی تنظیم کا کردار قابل تحسین ہے لیکن بعض بظاہر انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بھی آل خلیفہ حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ آل خلیفہ کے حکمرانوں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں لیکن اب نوبت یہاں تک آن پہنچـی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے فرائض منصبی پر عمل کرے اور آل خلیفہ کے غیر انسانی اقدامات کی مذمت کرے۔
راتانسی نے برطانوی وزیر خارجہ ویلیم ہیگ کے حالیہ دورہ مصر و سعودی عرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہیگ نے اس دورے کے دوران ان دو ملکوں کے ساتھ ہتھیاروں کے سلسلے میں معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔
انھوں نے کہا: برطانیہ عام طور پر امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرتا ہے اور وہ انسانی حقوق کی پامالی خاص طور پر بحرین میں، کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
بحرین میں بادشاہت کے خلاف مظاہرے جاری، 2افراد ہلاک
.jpg)
منامہ … بحرین میں بادشاہت کے خلاف مظاہرے جاری،مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر آنسوگیس کی شلینگ ، جھڑپ میں دو افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد افراد ہوگئے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ رات گئے بحرین کے دارالحکومت مناما میں سیکیورٹی فورسز نے مناما اسکوائر پر کمپیوں میں موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس پھینکی ،عینی شاہد نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کیمپ کے قریب دھماکے کیے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ اپوزیشن پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 2 افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد افرادہو چکے ہیں۔ چارروز سے دارالحکومت منامامیں جاری مظاہرے کے شرکا کا مطالبہ ہے کہ ملک میں بادشاہت کا خاتمہ کیاجائے اور حکومت عوام کو روز گاراور دیگر سہولیتں فراہم کرے۔
مصرمیں احتجاج جاری ،150سے زائد افراد ہلاک،ہزاروں زخمی

قاہرہ(30جنوری 2011) ... مصرمیں مظاہروں کے دوران مرنے والوں کی تعداد سو سے تجاوز کرگئی ۔ احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ جاری ہے جس میں وقت گذرنے کے ساتھ مزید شدت آتی جارہی ہے ۔ مصر میں احتجاجی مظاہروں کا آج چھٹا روز ہے ۔ ہفتے کو پرتشدد واقعات میں مزید 33 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد150 ہو گئی ہے ۔ کرفیو کے باوجود قاہرہ ، سوئز ، اسکندریہ ، بنئی سوئف اور دیگر شہروں میں لوگ سڑکوں پر ہیں ۔ صدر حسنی مبارک کی طرف سے نئی حکومت کی تشکیل اور اصلاحات کے وعدوں کے باوجود حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آرہی ہے ۔ ہزاروں افراد زخمی ہیں جن میں سیکیورٹی اہل کاروں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے ۔ لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ مرکزی بینک نے لوٹ مار سے بچنے کے لئے اتوار سے بینکوں میں تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔ قاہرہ کا عجائب گھر بھی مشتعل افراد سے محفوظ نہ رہ سکا جہاں سخت سیکیورٹی کے باوجود لوگوں نے دھاوا بولا اورتوڑ پھوڑ کی ۔ لوگوں نے دو ممیوں سمیت نوادرات کو نقصان پہنچایا ۔ لٹیروں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میوزیم سے کئی نادر نایاب مجسمے لوٹ لئے ۔ عرب ٹی وی کے مطابق ملک میں کئی سرکاری عمارتیں اور تھانے جلائے جاچکے ہیں ۔ جیلوں میں قیدیوں نے بغاوت کردی ہے اور متعدد جیلیں بھی نذر آتش کردی گئیں ۔

مصری پولیس و فورسز کاعوام پر تشددمعمول بن چکا ہے،امریکی سفیر کا مراسلہ
قاہرہ . . . . مصر میں عوامی انقلاب کے بعد وکی لیکس نے قاہرہ سے متعلق مراسلے بھی جاری کرنا شروع کردیے۔ امریکی سفیر پہلے ہی کئی بار واشنگٹن کو آگاہ کرچکے تھے کہ مصری پولیس اور سکیورٹی فورسز کا تشدد آمیز سلوک معمول بن چکا ہے۔ مصر میں حالیہ انقلاب کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مظاہرین پر تشدد کی تصویر ، قاہرہ اور دیگر مصری شہروں سے امریکی سفارتکار پہلے ہی کھینچ چکے ہیں۔ دو ہزار نو اور اس سے پہلے بھیجے گئے مراسلوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی سفارتکاروں نے گاہے بگاہے واشنگٹن میں انتظامیہ کو مطلع کیا کہ مصری پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے قیدیوں پر تشدد معمول بن چکا ہے۔ عام ملزمان سے لیکر سیاسی قیدیوں اور بعض بدقسمت راہ گیر بھی مصری پولیس اور فورسز کے تشدد کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ ایک سفارتی تار میں غیر سرکاری تنظیم کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ کے ایک پولیس اسٹیشن میں روزانہ تشدد کے سو سے زائد واقعات عام ہیں۔خفیہ سفارتی مراسلوں کے مطابق حسنی مبارک کے دور اقتدار کے دوران پولیس میں کبھی اصلاحات کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مصری پولیس کی جانب سے مجرموں کو الیکٹرک شاکس دیے جاتے ہیں۔ مصر میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال پر امریکا کے تعلقات بھی اکثر اتار چڑھاوٴ کا شکار رہے۔
مصرمیں حکومت مخالف مظاہرے،بلاگرزکابھی اہم کردار ہے، وکی لیکس
واشنگٹن . . . . وکی لیکس کے جاری کئے گئے خفیہ مراسلے کے مطابق مصر میں سیاسی تبدیلی کے حق میں اٹھنے والی لہر میں حکومت مخالف بلاگرز کا بھی اہم کردار ہے۔تیس مارچ دو ہزار نو کوقاہرہ میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامورMatt Tueller کے بھیجے گئے مراسلے کے مطابق مصر میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار بلاگرز ہیں جو عربی اور انگریزی زبان میں سماجی، سیاسی اوربے شمار موضوعات پر لکھتے ہیں۔ان بلاگرز نے پانچ سال کے دوران ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پرگہرے اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو بھی متاثر کیا۔مراسلے کے مطابق مصری صدر حسنی مبارک کے آمرانہ طرز حکومت،سخت پالیسیوں کی وجہ سے بلاگرز کی سرگرمیاں کافی حد تک محدود ہوگئی تھیں۔تاہم اس کے باوجود کچھ بلاگرز ایسے بھی تھے جو پولیس کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف دل کھول کر لکھتے تھے۔مصر کی حکومت نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک حد کے اندر لکھنے کی اجازت دی تھی اور اسے پار کرنے کی پاداش میں کئی مشہور اور مقبول بلاگرز کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ان بلاگرز کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے تیس فی صد کا موضوع حکومتی پالیسیوں پر تنقید رہا۔
ملت ایران نے نرم جنگ میں بھی مثالی مہارت کا ثبوت دیا۔
.jpg)
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شمالی صوبے گیلان کے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب میں ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و دانشمندی کو بلند چوٹیوں کی جانب قوم کی پیش قدمی کے بنیادی عوامل قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران نے جس طرح آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران اپنی خلاقی صلاحیتوں، فداکاری و جاں نثاری اور میدان عمل میں موجودگی کے ذریعے دشمن پرغلبہ حاصل کیا، آٹھ مہینے کی نرم جنگ میں بھی اللہ تعالی کی عنایتوں کے طفیل میں مثالی مہارت اور سمجھداری کا ثبوت دیا اور گزشتہ سال تیس دسمبر کو سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کی برکت سے اور اپنی ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و دانشمندی کے ذریعے آشوب پسند عناصر کی بساط لپیٹ دی۔
تہران میں حسینیہ امام خمینی رحمت اللہ علیہ میں قائد انقلاب اسلامی نے ماضی کی پسماندگیوں کی تلافی اور ملت ایران کو شایان شان علمی مقام تک پہنچانے کے لئے بلند ہمتی، عزم و ارادے اور مستقبل کے تئیں پرامید رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ پیشرفت اور خوشبختی کی بلندیوں پر پہنچنے کے لئے مربوط مساعی، عزم و ارادے اور مستقبل کے تئيں پرامید رہنے کی ضرورت ہے اور ملت ایران گزشتہ تیس برسوں میں ثابت کر چکی ہے کہ اس میں تیز رفتار ترقی کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے۔
آپ نے فرمایا کہ ملت ایران کے نعرے عالمی نعرے اور اس کا نصب العین ملک کو سامراجی طاقتوں کی دست برد سے مکمل طور پر محفوظ بنانا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کے مطابق اس قوم سے سامراجی طاقتوں کی برہمی اور اس قوم کے خلاف ان کی سازشوں کی یہی وجہ ہے اور گزشتہ سال رونما ہونے والا فتنہ دشمنوں کی سازشوں کا ایک نمونہ تھا۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس فتنے کا مقصد صحیح نعروں کے پیرائے میں انحرافی باتوں کی تشہیر کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنا قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ ملت ایران نے گزشتہ سال تیس دسمبر کو برجستہ طور پر سامنے آنے والے اپنے رد عمل کے ذریعے فتنہ پروروں کو شکست دے دی اور ان کے منہ پر زوردار طمانچہ بھی رسید کیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے تیس دسمبر دو ہزار نو کو اسلامی نظام کی حمایت اور فتنہ پرور عناصر کی مذمت میں نکلنے والے ملک گیر جلوسوں کو قوم کی بیداری و شعور کا شاخسانہ قرار دیا اور فرمایا کہ ملت ایران کے دشمن اور وہ لوگ جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ عوام کو اسلامی نظام سے دور کر سکتے ہیں، تیس دسمبر کے قوم کے پیغام کو ذہن نشین کر لیں اور یاد رکھیں کہ یہ نظام خود عوام کا ہے اور عوام ہی اس اسلامی نظام کے اصلی محافظ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ استکباری حکومتوں اور ان میں سرفہرست امریکی حکومت نے اسلامی نظام کے خلاف سازشوں، گمراہ کن بیانوں، آشکارا مخاصمتوں اور نعروں کا سہارا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بھی انہیں ملت ایران کی صحیح شناخت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے قوم کے اندر پائی جانے والی بلند ہمتی کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ رواں سال میں جسے بلند ہمتی کے سال سے موسوم کیا گيا ہے، بلند ہمتی کے آثار اور علامات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور حکام مختلف محکموں میں بڑے اچھے کام انجام دے رہے ہیں لیکن بلند ہمتی کا یہ سلسلہ آئندہ برسوں میں بھی بلا وقفہ جاری رہنا چاہئے تاکہ ملت ایران مادی و روحانی کمالات اور ترقی کی چوٹی پر پہنچ کر دشمن کو مایوس کر دے۔
قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق دشمن کی شرپسندی سے نجات کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسے مایوس کر دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ گزشتہ سال کے فتنے کے دوران بعض افراد سے ایک بہت بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے دشمنوں کو پرامید کر دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ سال کے صدارتی انتخابات کے شاندار انعقاد اور عوام کی حیرت انگیز شرکت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عوام کی یہ پرشکوہ شراکت ملک کو مختلف سیاسی میدانوں میں کامیابیاں دلا سکتی تھی لیکن فتنہ پرور عناصر نے بلوے کرواکے اور دشمن کی امیدیں بڑھا کر فی الواقع قوم اور اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچایا۔ آپ نے سن دو ہزار نو کے فتنے کو ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا اور فرمایا کہ اس بڑے چیلنج میں ایک طرف دشمن تھا جو بلوائیوں کی پوری مدد کر رہا تھا لیکن اپنی زبان پر ان کا نام تک نہیں لاتا تھا اور دوری طرف ایرانی قوم ثابت قدمی کے ساتھ میدان میں ڈٹی ہوئی تھی۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملت ایران نے جس طرح آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران شجاعت و ہمت، ایثار و جاں نثاری اور خلاقی صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھا اور دشمن کو شکست دی، آٹھ مہینے کی نرم جنگ میں بھی ہمت و شجاعت، بصیرت و آگہی اور ہوشیاری و داشمندی کے ساتھ میدان میں قدم رکھے اور واقعی اپنی مہارت کے جوہر دکھائے۔ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ہوا وہ در حقیقت قدرت خدا کا کرشمہ تھا کہ جس نے لوگوں کے دلوں کو اپنی سمت موڑا اور صحیح راستے کی ہدایت کی۔
قائد انقلاب اسلامی نے ہمت و شجاعت، بصیرت و دانشمندی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے رابطے کی تقویت پر تاکید فرمائي اور کہا کہ گزشتہ سال تیس دسمبر کا واقعہ رحمت خداوندی کے نزول کا ایک منظر تھا کہ لوگ سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ میدان میں آئے اور فتنہ پرور عناصر کی بساط لپیٹ دی گئی۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پوری قوم اور خاص طور پر حکام، باخبر طبقوں اور بیدار مغز نوجوانوں کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں، ہمیشہ اللہ تعالی کے لطف و کرم پر تکیہ کرنا چاہئے اور اس منزل تک پہنچنے کی کوشش کرنا چاہئے جو اللہ تعالی نے ملت ایران کی قسمت میں لکھ دی ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں گيلان کے عوام کی دینداری اور شجاعانہ جہاد کی طویل تاریخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس علاقے کے تمام لوگوں کو ملت ایران کی شجاعت و ہمت کا نمونہ قرار دیا اور فرمایا کہ (شاہ کی) طاغوتی حکومت نے گيلان کے عوام کو بے دینی میں مبتلا کرنے کی بڑے پیمانے پر کوششیں کیں لیکن یہاں کے لوگ اپنے ایمان و عقیدے کی طاقت سے شجاعانہ انداز میں شاہی اقدامات کے مقابل کھڑے ہو گئے کیونکہ گيلان کے عوام دینداری، اخلاص، جہاد اور میدان عمل میں حاضر رہنے کے لحاظ سے ملک کے سب سے نمایاں صوبوں کے باشندوں میں گنے جاتے ہیںـ
قائد انقلاب اسلامی نے گیلان کے عوام کے درخشاں ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے شہید مرزا کوچک خان جنگی کی مجاہدانہ کوششوں کی قدردانی کی اور فرمایا کہ دین کے دشمن ملحد عناصر سے مقابلہ، اسلامی انقلاب کی فتح میں موثر کردار، مقدس دفاع کے دوران اس صوبے کے مومن و رضاکار نوجوانوں کا ایثار، گیلان کے علماء اور دانشوروں کی گراں قدر خدمات اس صوبے کے عوام کی دینی، علمی اور انقلابی تاریخ کا ابواب ہیں۔
قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ سال کے فتنے کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں صوبے کے صدر مقام رشت کے عوام کے قابل تعریف کردار کا ذکر کیا اور اسے اہل گيلان کے شعور و بیداری کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ رشت کے عوام نے ملک گير مظاہروں سے ایک دن پہلے ہی انتیس دسمبر کو فتنہ پرور عناصر کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔
اس ملاقات کے آغاز میں صوبہ گيلان میں ولی امر مسلمین آيت اللہ العظمی خامنہ ای کے نمائندے اور رشت کے امام جمعہ حجت الاسلام و المسلمین قربانی نے اہل بیت پیغمبر علیہم السلام سے گیلان کے عوام کی گہری عقیدت کی مثالیں پیش کیں اور اس علاقے میں پیدا ہونے والے جید علمائے کرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گيلان کے با ایمان عوام سامراج اور استبداد کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہے ہیں جس کی واضح مثال مرزا کوچک خان جنگلی کی تحریک ہے، اس کے علاوہ بھی صوبہ گيلان کے عوام نے آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران اسلامی انقلاب کے لئے ہزاروں شہیدوں کی قربانی پیش کی۔
امیر قطرکی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات، علاقے کی سیکورٹی اور شیعہ-سنی اتحاد پرزور
(اردونیوزمیگزین رپورٹ)
تہران کے دورے پر آئے امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے اپنے وفد کے ساتھ آج قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے علاقے بالخصوص خلیج فارس میں سیکورٹی کی خاص اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیج فارس کے علاقے میں سیکورٹی کے سلسلے میں کسی طرح کا امتیاز اور تفریق ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر علاقے میں امن و استحکام ہوگا تو علاقے کے تمام ممالک کو اس کا فائدہ پہنچے گا اور اگر سیکورٹی کے لئے مسائل پیدا ہوئے تو علاقے کے تمام ممالک کو بد امنی اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایران اور قطر کے باہمی تعلقات کو اطمینان بخش قرار دیا اور فرمایا کہ دو طرفہ تعلقات کو روز بروز فروغ دینا چاہئے کیونکہ اس سے دونوں ملکوں اور علاقے کو فائدہ پہنچے گا۔
قائد انقلاب اسلامی نے علاقے کے بعض ممالک کے بارے میں شکوہ بھی کیا جو خلیج فارس کے علاقے میں امن و استحکام کی حیاتی اہمیت کی جانب متوجہ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ افسوس کا مقام ہے کہ امریکا اور اسرائیل ان ملکوں کی اس ذہنیت و طرز فکر اور علاقے میں سیکورٹی کی اہمیت سے ان کی غفلت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ نے علاقے میں شیعہ سنی اتحاد کو انتہائی اہم قرار دیا اور فرمایا کہ علاقے میں شیعہ اور سنی فرقے مدتوں سے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں لیکن بعض عناصر دوستی اور محبت کی اس فضا کو ختم کرنا اور شیعہ اور سنی فرقے کے عقائد سے متعلق بعض اختلافات کو سماجی اختلاف میں تبدیل کر دینا چاہتے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ بد قسمتی سے دونوں فرقوں میں کچھ متعصب قسم کے افراد اور بکے ہوئے لوگ ہیں لہذا اس مسئلے کو اعتقادی لحاظ سے بھی اور سیکورٹی کے اعتبار سے بھی پوری طرح کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے لبنان کے نازک حالات اور رفیق حریری قتل کیس کی عالمی عدالت کا فیصلہ جاری ہونے کے امکانات سے متعلق قطر کے حاکم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ عدالت ایک نمائشی عدالت ہے جس کا ہر فیصلہ ناقابل قبول ہے لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ لبنان میں بااثر اور متعلقہ حلقے عقل و بینش اور حکمت و تدبر کی روشنی میں عمل کریں گے تاکہ یہ مسئلہ بحران کی شکل اختیار نہ کرے۔
آپ نے فرمایا کہ لبنان کے خلاف رچی جانے والی سازش کامیاب نہیں ہو سکے گی اور ہم امید کرتے ہیں کہ علاقے کے حالات میں بہتری آئے گی۔
ملاقات میں پروٹوکول کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد بھی تشریف فرما تھے۔ اس موقع پر قطر کے حاکم شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ایران-قطر باہمی تعلقات کو علاقے کے لئے آئيڈیل قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کا سیاسی موقف ایک دوسرے کے قریب رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ تمام شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید وسعت آئے گی۔ انہوں نے بھی علاقے کے امن و استحکام اور شیعہ سنی اتحاد کو دو انتہائی اہم موضوعات سے تعبیر کیا اور لبنان کے حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ لبنان میں ایک نیا فتنہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور ہماری یہ کوشش ہے کہ علاقے کے ملکوں کی مدد سے اس فتنے کا سد باب کریں اور علاقے کے مفادات کے مطابق قدم اٹھائیں۔
ادارہ حج و زیارات کے عہدہ داروں اور اہلکاروں سے خطاب
.jpg)
06-12-2010
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ادارہ حج و زیارات کے عہدہ داروں اور اہلکاروں سے ملاقات میں اس سال حج کے مناسک کی بحسن و خوبی انجام دہی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سابقہ افراد کی زحمتوں کی قدر کرتے ہوئے اس سال موسم حج میں کئے جانے والے مفید و موثر اقدامات اور انتظامات کو دائمی بنایا جانا چاہئے۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایرانی کاروان حج کے منتظمین کی سعی و کوشش اور زحمات پر اظہار تشکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مفید اور مثبت اقدامات پر توجہ دینے کے ساتھ ہی نقائص سے بھی غفلت نہیں برتنا چاہئے تاکہ رفتہ رفتہ حج کی "مثالی انجام دہی" کی منزل کے قریب پہنچا جا سکے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی اتحاد کی اہمیت اور شیعہ سنی اختلافات میں کمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کے رہنما انقلاب کی فتح سے قبل ہی عالم اسلام کے اتحاد کا پرچم بلند کر چکے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی نے کاروان حج کے منتظمین اور حجاج کرام کے درمیان رابطے کو اہم اور اس کے تسلسل کو ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ لوگ مکہ و مدینہ میں مقامات مقدسہ کی عظمت و جلالت، صفا و روحانی کیفیت کو دیکھ کر اپنے اندر بہت بڑی تبدیلی محسوس کرتے ہیں، اس عظیم نعمت کی حفاظت بہت اہم ہے اور یہ ہدف حاجی سے دائمی رابطے اور اس جذبے کی ترویج سے ہی ممکن ہے۔ آپ نے مسجد الحرام میں ایرانی قاریوں کی تلاوت کلام پاک کو اسلامی مملکت ایران کے لئے باعث افتخار قرار دیا اور فرمایا کہ حالیہ برسوں میں حج کے ایام میں قرآن اور اس کی تلاوت پر قابل قدر توجہ دی گئي ہے اور مناسب ہوگا کہ قومی میڈیا مقامات مقدسہ کی تصاویر نشر کرنے کے ساتھ ہی اپنے پروگراموں میں ان (ایرانی قاریوں کی) تلاوتوں کو بھی نشر کرے۔
قائد انقلاب اسلامی نے شام اور عراق جانے والے زائرین کے سل |