Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

 

توہین عدالت کیس میں وزیراعظم یوسف گیلانی کوسزا

وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے

نوازشریف نےویراعظم گیلانی سےمستعفی ہونےکامطالبہ کردیا۔

اسلام آباد اردو نیوزمیگزین رپور ٹ۔۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو قومی مصالحتی آرڈینینس یعنی این آر او پر عملدرآمد سے متعلق مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل نہ کرنے اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر سزا سنا دی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو سنایا۔ اس موقع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں موجود تھے۔ وزیرِ اعظم اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔

جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے انہیں توہینِ عدالت میں ’جب تک عدالت کا وقت ختم نہیں ہوتا تب تک کی سزا‘ سنائی جس کا دورانیہ ایک منٹ سے کم تھا کیونکہ سزا سنانے کے ساتھ ہی عدالت برخاست ہوگئی۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے۔یہ اس قسم کے مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں میں سے سب سے کم سزا ہے اور وزیراعظم کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے۔
کلِک وزیراعظم توہین عدالت کے مجرم: آپ کی رائے
کلِک گیلانی فوراً عہدہ چھوڑ دیں: نواز شریف
کلِک کلِک وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ: خصوصی ضمیمہ
عدالتی فیصلے پر غور اور پارٹی کا لائحہِ عمل طے کرنے کے لیے وزیرِ اعظم گیلانی اپنی کابینہ کے ارکان اور جماعت کے دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت کر رہے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے دانستہ عدالت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے توہینِ عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اور ان کا یہ عمل انصاف کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کی وجہ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا۔ فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اس آرٹیکل کے تحت نااہل بھی ہو سکتے ہیں تاہم عدالت نے فیصلے میں پارلیمان کے سپیکر کو وزیراعظم کی نااہلی کے لیے ضروری کارروائی کرنے کو نہیں کہا ہے۔
فیصلے کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور اس مقدمے میں وکیلِ استغاثہ کا کردار نبھانے والے عرفان قادر کا کہنا تھا کہ آئین میں وزیراعظم کی براہ راست نا اہلی کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگر قومی اسمبلی کی سپیکر سجھیں گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہے تو پھر ہی اس معاملے کو الیکشن کمیشن کو بھیجا جائے گا۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے توہین عدالت آرڈیننس کے تحت وزیراعظم کو جو سزا سُنائی ہے اُس آرڈیننس کا وجود ہی نہیں ہے۔
جائزہ لینے کے بعد ردعمل
"ہماری جماعت کی قانونی ٹیم اس فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرے گی جبکہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس فیصلے پر غور و خوص کیا جائے گا۔ امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے سے سزا معطل ہو جائے گی"
وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان
فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے کہا ’ہماری جماعت کی قانونی ٹیم اس فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرے گی جبکہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس فیصلے پر غور کیا جائے گا‘۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں جانے سے سزا معطل ہوجائے گی۔
جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی جب عدالت پہنچے تو ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ ان کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے ارکان، حکومت کی اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی عدالت آئے۔ یہ تیسرا موقع تھا کہ وزیراعظم اس مقدمے میں سات رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔
اس موقع پر سپریم کورٹ اور اس کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف این آر او سے متعلق مقدمے میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کا مقدمہ اس سال سولہ جنوری کو شروع ہوا تھا جب سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نےانہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر کے انہیں پہلی بار انیس جنوری کو خود پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں تیرہ فروری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پر فرد جرم عائد کی تھی اور سماعت کے بعد چوبیس اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔


 

سیاچن پر پاکستانی فوجیں بھارت کی وجہ سے ہیں۔آرمی چیف جنرل کیانی

سیاچن ۔۔اردو نیوزمیگزین رپورٹ۔۔۔۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کو سیاچن سمیت تمام مسائل عوامی فلاح و بہبود کے لیے حل کرنے چاہیں اور دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ بقائے باہمی کے اصول کے تحت پر امن رہیں۔
یہ بات انہوں نے بدھ کو صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمٰن ملک کہ ساتھ سیاچن کے گیاری سیکٹر کا دورہ کرنے کے بعد سکردو کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
آرمی چیف نے کہا کہ سیاچن پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایک مشکل ترین محاذ جنگ ہے اور اس پر دونوں ممالک کے بیش بہا اخراجات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاچن کا مسئلہ حل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ’سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ کیسے حل کرنا ہے اس بارے میں دونوں ممالک بات چیت کریں۔ ایک وقت پر ہم اس معاملے کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن حل نہیں ہوا۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے یہ معاملہ حل کرنا چاہیے۔‘
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کا کہنا ہے کہ کچھ سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالف ہے کیونکہ اس کی بنا پر ہی بڑی تعداد میں فوج رکھنے کا جواز بنتا ہے۔ لیکن آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اس تاثر کو رد کیا۔ ماضی میں پاکستان میں ایسے مواقع کم ہی آئے ہیں کہ آرمی چیف عوام کی فلاح و بہبود کی بات کریں اور بھارت سے تمام مسائل پر امن طریقے سے حل کرنے کا بیان جاری کریں۔
سیاچن کا مسئلہ
"سیاچن کا مسئلہ حل ہونا چاہیے اور یہ کیسے حل کرنا ہے اس بارے میں دونوں ممالک بات چیت کریں۔ ایک وقت پر ہم اس معاملے کے حل کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن حل نہیں ہوا۔ ہمیں عوام کی فلاح کے لیے یہ معاملہ حل کرنا چاہیے"
جنرل کیانی
آرمی چیف نے کہا کہ سیاچن کے حل کے لیے مذاکرات کے کئی دور ہوئے ہیں اور آخری بار سال ڈیڑھ سال قبل پاکستان کے سیکریٹری دفاع بھارت گئے۔ ان کے بقول بھارت کے ساتھ تمام تنازعات حل ہونے چاہیں۔ ان کے بقول دفاع اور ترقی پر توازن سے رقم خرچ کرنی چاہیے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صرف دفاع پر رقم خرچ کی جائے اور ترقی کو بھلا جائے۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ’کسی ملک کی سلامتی سرحدوں کے محفوظ ہونے میں نہیں ہوتی بلکہ اصل سلامتی عوام کی ترقی اور خوشحالی میں ہوتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دفاع پر اخراجات کم ہوں اور عوام کی فلاح و بہبود پر زیادہ خرچ ہو اور اس پر کوئی اختلاف رائے بھی نہیں ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ انیس سو چوراسی سے پاکستانی فوج سیاچن میں موجود ہے اور یہ اس لیے نہیں کہ پاکستان ایسا چاہتا ہے بلکہ یہ بھارت کی وجہ سے ہے۔
ان کے بقول گلیشئر دریاؤں کی خوراک ہیں اور یہاں ماحول ٹھیک رہنا چاہیے۔ ’پاکستان کا سب سے اہم دریا، دریائے سندھ یہاں سے نکلتا ہے۔ افواج کے یہاں رہنے سے ماحول خراب ہوتا ہے۔ خطے کا بلکہ دنیا کے ماحول پر اثر پڑے گا۔ یہ ایک گلیشئر ہے اور اُسے گلیشئر ہی رہنا چاہیے۔ کوئی ایک بھی اچھی وجہ نہیں کہ یہاں فوجیں رہیں۔‘

چھ ماہ لگیں یا چھ سال، اپنے دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے: جنرل کیانی
امدادی کاموں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کام تیزی سے جاری ہے اور برفانی پہاڑ کھودنا پڑا تو کھودیں گے اور دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے۔ تاہم انہوں نے اتفاق کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچنا ایک معجزہ ہوگا۔ لیکن ان کے بقول مثبت امید رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ لگیں یا چھ سال وہ اپنے دبے ہوئے فوجیوں کو نکالیں گے۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی گیاری کا فضائی دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سیاچن کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کو حل کرنا چاہیے اور پاکستان کو اس کے لیے پہل کرنی چاہیے۔ ان کے اس بیان پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ یہ میاں صاحب کا اپنا موقف ہے۔
دریں اثناء بدھ کو صدر آصف علی زرداری نے بھی سیاچن کے گیاری سیکٹر کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کا فضائی جائزہ لیا۔ بدھ کی صبح وزیر داخلہ رحمٰن ملک کے ہمراہ وہ سکردو کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو گلگت بلتستان کے گورنر، وزیراعلیٰ، آرمی چیف اور متعلقہ کور کمانڈر نے ان کا خیر مقدم کیا۔
صدر نے بعد میں آرمی چیف کے ہمراہ گیاری سیکٹر کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کے بارے میں بریفنگ لی۔ انہوں نے امدادی کاموں کا فضائی معائنہ بھی کیا اور کہا کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ایوان صدر کو باخبر رکھا جائے۔


 

صدرآصف علی زرداری نےسرائیکی صوبہ بنانےکااعلان کردیا

ملتان…صدر آصف علي زرداري نے سرائيکي صوبے کے قيام کا اعلان کرتے ہو ئے کہا ہے کہ باقاعدہ اعلان وزيز اعظم يوسف رضا گيلاني کريں گے.ملتان کے دو روزہ دورے پر پہنچنے کے بعد غوث الاعظم روڈ پر واقع وزيراعظم ہاوس ميں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہو ئے صدر کا کہنا ہے کہ سرائيکي صوبہ ہماری موجودہ حکومت کے دورا ن ہي بنے گا جس کا باقاعدہ اعلان وزير اعظم کريں گے.

 


 

پارلیمینٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیدی،امریکہ ڈرون حملے بند کرے۔

 

 

پاکستان کے ايٹمي پروگرام اور اثاثوں پر کوئي سمجھوتہ نہيں کيا جائے گا

حکومت پاکستان امريکا سے نيٹو کي جارحيت پر غير مشروط معافي طلب کرے ،سلالہ چيک پوسٹ پر حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے ميں لايا جائے

اسلام آباد…اردو نیوزمیگزین رپورٹ ۔۔۔۔پارليمنٹ نے قومي سلامتي کميٹي کي سفارشات کي منظوري دے دي،قومي سلامتي کميٹي کے چيئر مين رضا رباني کي جانب سے پيش کي جانے والي سفارشات پارليمنٹ نيقومي سلامتي کميٹي نے متفقہ طور پرکي سفارشات کي منظوري دي.پارليمنٹ کے مشترکہ اجلاس ميں سفارشات پيش کرتے ہو ئے رضا رباني کا کہنا تھا کہ سفارشات ميں ملکي سلامتي اورخود مختاري کو ملحوظ خاطر رکھا گيا ہے، امريکا سے سلالہ چيک پوسٹ حملے پر معافي مانگنے، آئندہ ايسا واقعہ نہ ہونے کي يقين دہاني اور ڈرون حملے بند کرنے کے مطالبات شامل ہيں. سفارشات کے مطابق پاکستاني سرزمين پر امريکي فوجيوں ، نجي سيکيورٹي کنٹريکٹرز اور ايجنٹس کي موجودگي برداشت نہيں کي جائے گي.پاکستان کي خودمختاري پرسمجھوتانہيں کياجائيگا،امريکا سے تعلقات باہمي احترام پر مبني ہونے چاہئيں. آزاد خارجہ پاليسي کے اصولوں کو سختي کے ساتھ لاگو کيا جانا چاہيئے،امريکا کي پاکستان ميں موجودگي کا ازسر نو جائزہ ليا جائے،پاکستان کي حدود ميں ڈرون حملے فوري طور پر بند کيے جائيں، کسي بھي بہانے پاکستان کي علاقائي حدود ميں دراندازي يا جارحيت نہ کي جائے ،پاکستان کي فضائي يا زميني حدود افغانستان ميں اسلحہ اور بارود کے ليے استعمال نہيں کي جاني چاہيئے. پاکستان کے ايٹمي پروگرام اور اثاثوں پر کوئي سمجھوتہ نہيں کيا جائے گا، امريکا اور ديگر ممالک بھارت کي طرز پر پاکستان کے ساتھ بھي سول نيو کليئر معاہدہ کريں ،ميزائل پروگرام سے متعلق پاکستان کے موقف پر کوئي سمجھوتہ نہيں کيا جائے گا. پاکستان دہشت گردي اور انتہا پسندي کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے. سلالہ چيک پوسٹ پر حملہ قابل مذمت ، عالمي قوانين اور پاکستان کي خود مختاري کي خلاف ورزي ہے ،حکومت پاکستان امريکا سے نيٹو کي جارحيت پر غير مشروط معافي طلب کرے ،سلالہ چيک پوسٹ پر حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے ميں لايا جائے ،پاکستان کو يقين دہاني کرائي جائے کہ آئندہ ايسے حملے نہيں کيے جائيں گے، وزارت دفاع اور پاک فضائيہ کو سرحدوں کے ساتھ ملحق علاقوں کے ليے نئے فضائي رولزمرتب کرنے چاہئيں . کسي بھي غير ملکي حکومت يا اتھارٹي کے ساتھ ملکي سلامتي سے متعلق کوئي زباني معاہدہ نہيں کيا جائے گا ،پہلے سے موجود ايسے تمام معاہدييا سمجھوتے فوري طور پر معطل کيے جائيں. پاکستان ميں کسي بھي قسم کے آپريشن کي اجازت نہيں دي جائے گي ،فوجي آپريشن اور لاجسٹک سے متعلق کوئي بھي معاہدہ وزارت خارجہ يا متعلقہ وزارتوں ميں جائزے کے ليے پيش کيا جائے، تمام معاہدوں کي وزارت قانون و انصاف اور پارليماني امور سے منظوري لي جائے، يہ تمام معاہدے قومي سلامتي کميٹي ميں پيش کيے جائيں گے،کميٹي معاہدوں کي منظوري دے گي اور اپني سفارشات کے ساتھ وفاقي کابينہ ميں پيش کرے گي،متعلقہ وزير معاہدے سے متعلق دونوں ايوانوں ميں پاليسي بيان دے گا. عالمي برادري کو دہشت گردي کے خلاف جنگ ميں پاکستان کے جاني اور اقتصادي نقصانات کا اعتراف کرنا چاہيئے،پاکستان کي برآمدات کو امريکا اور نيٹو ممالک ميں زيادہ سے زيادہ مارکيٹ رسائي ديني چاہيئے. کوئي پرائيويٹ سيکورٹي کنٹريکٹر اور انٹيلے جنس آپريٹو کو پاکستان ميں کام کي اجازت نہيں ہو گي ،پاکستان کي حدود کسي بھي غير ملکي بيسز کے ليے فراہم نہيں کي جائے گي .افغان تنازع کا کوئي فوجي حل نہيں ہے،مذاکرات اور مفاہمت کي پاليسي اختيار کي جائے ، جس ميں مقامي رسم و رواج ، اقدار اور مذہبي عقائد کا احترام کيا جائے.پاکستاني سرزمين کسي بھي ملک پر حملے کے ليے استعمال نہيں کي جائے گي ،اگر غير ملکي جنگجو پاکستان ميں موجود ہيں تو انہيں نکال ديا جائے،پاکستان بھي توقع رکھتا ہے کہ دوسرے ممالک کي سرزمين اس کے خلاف استعمال نہيں ہو گي. حکومت عوامي توقعات کے مطابق خارجہ پاليسي کے اہم نکات کا جائزہ لے ،نئي خارجہ پاليسي کو اپنے روايتي اتحاديوں سے روابط اور نئے تعلقات کے ساتھ متوازن کيا جائے ، يہ پاليسي خطے ميں امن کے قيام پر گامزن رہني چاہيئے ،بھارت کے ساتھ مذاکرات باہمي احترام پر مبني ، نتيجہ خيز اور بامقصد ہونے چاہئيں ،جموں و کشمير کے تنازع کے حل کے ليے بھي کوششيں کي جاني چاہئيں جب کہ ہمسايہ ممالک کے ساتھ قريبي دوستانہ تعلقات کے قيام کے ليے کوششيں جاري رہني چاہئيں،چين کے ساتھ اسٹريٹجک پارٹنر شپ کوہر شعبے ميں مزيد مضبوط بنانا چاہيئے ،يورپي يونين اور روسي فيڈريشن کيساتھ تعلقات کو بھي مضبوط بنانا چاہيے،افغانستان ميں امن اور استحکام کے قيام کے ليے پاکستان کي بھرپور حمايت جاري رہے گي ،اسلامي دنيا کے ساتھ پاکستان کے خصوصي تعلقات کو بھي اہميت ديني چاہيے ،پاکستان کو ايران ، ترکمانستان کے ساتھ گيس پائپ لائن منصوبوں پر فعال طريقے سے عمل درآمد کرنا چاہيے. وزير اعظم کا کہنا ہے کہ ان سفارشات پر اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو يقيني بنايا جائے گا۔

نوازشریف اوراپوزيشن کے مطالبے پر نيٹو سے متعلق شقيں نکالی گئيں، چوہدري نثار


اسلام آباد … قومي اسمبلي ميں قائد حزب اختلاف چوہدري نثار نے کہا ہے کہ قومي سلامتي کميٹي کي نظرثاني شدہ سفارشات پر اپوزيشن کے مطالبے پر نيٹو سے متعلق تمام شقيں نکال دي گئي ہيں. پارليمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ميں چوہدري نثار علي کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرعافيہ کا معاملہ سفارشات ميں شامل کرنا چاہتے تھے، ہميں يقين دہاني کرائي گئي کہ يہ انتظامي معاملہ ہے حکومت امريکا کے ساتھ اٹھائے گي. ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پارليمنٹ کے باہر بيٹھے اس انتظار ميں تھے کہ يہاں تماشا لگے گا اور وہ ڈھول بجائيں گے. چوہدري نثار کا کہنا تھا کہ تجاويز تاريخي تب ہوں گي جب اس پرمکمل عمل درآمد ہو گا، پہلے بھي قرارداديں منظور ہوئيں، ابھي آدھا کام ہوا ہے، صرف وزيراعظم کي يقين دہاني کافي نہيں ، کيا گارنٹي ہے کہ اس قرارداد کا حال پہلي قراردادوں جيسا نہيں ہو گا.

 


 

سیاچن، کرنل سمیت 124 فوجی برفانی تودےمیں دب گئے،خراب موسم کےباعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات،کئی نعشیں نکال لی گئیں۔



اسکردو۔۔ اردونیوزمیگزین رپورٹ / اسکردو کے علاقے سیاچن گلیشیئر میں برفانی تودہ گرنے سے پاک  فوج کےکرنل سمیت ایک سوچوبیس  اہلکار برف تلے دب گئے ہیں۔

 سیاچن میں برفانی تودہ گرنے سے لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن ، لیفٹیننٹ اور نان کمیشنڈ اہلکاروں سمیت 124 پاکستانی فوجی اور 11 شہری برف تلے دب گئے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ گیاری سیکٹر میں بٹالین ہیڈکوارٹر کے جوان ہفتے کی صبح چار بجے حادثے کی زد میں آئے ، ان اہلکاروں کا تعلق نادرن لائٹ انفنٹری سے ہے، حادثے کی خبر ملتے ہی آرمی نے ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے اور بھاری مشینری جائے حادثہ پر پہنچا دی ہے۔ تاہم امدادی ٹیموں کا بھی مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں دشواری کا سامنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ مذکورہ علاقہ 15ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے جبکہ برفانی تودہ ایک مربع کلو میٹر وسیع اور 70 سے 80 فٹ اونچا ہے ، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امدادی ٹیموں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ علاوہ ازیں صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے برفانی تودہ گرنے کے واقعے میں فوجی جوانوں کے دب جانے پر افسوس کااظہار کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ امدادی کارروائیاں تیز کی جائیں۔ جیو ٹی وی کے مطابق برفانی تودے تلے دب جانے والوں میں 124 فوجیوں کے علاوہ 11 مقامی باشندے بھی شامل ہیں اور متاثرین کی تعداد 135 ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سیاچن کے انتہائی دشوار گزار علاقے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے 124 فوجی دب گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لئے اسکردو سے ہیلی کاپٹر، انجینئر کور، سراغرساں کتوں اور میڈیکل ٹیموں کو لے کر علاقے میں پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ تودے کی زد میں آنے والے فوجیوں میں لیفٹیننٹ کرنل‘ میجر‘ کیپٹن‘ لیفٹیننٹ اور دوسرے نان کمیشنڈ افسر اور جوان شامل ہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کور کمانڈر اور دوسرے اعلیٰ حکام کو فوری امدادی کارروائی کا حکم دیا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو امدادی کارروائیوں سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ کیا جارہا ہے۔ آرمی چیف نے امدادی ٹیموں کو ہرممکن سہولتیں فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ فوجی ماہرین کے مطابق فوجیوں کو دبے ہوئے کئی گھنٹے ہوگئے ہیں اور ایسے حالات اور مشکل ترین علاقے میں انسانی جانوں کا بچنا معجزے سے کم نہیں ہوگا۔ تاہم امدادی ٹیمیں پورے ساز و سامان کے ساتھ بالخصوصی طبی ٹیموں کے پہنچنے کی وجہ سے کافی تعداد میں فوجیوں کو بچایا بھی جاسکتا ہے۔ سیاچن میں دبے فوجیوں کو نکالنے کے لئے بھاری مشینری بھی گیاری سیکٹر کی طرف روانہ کر دی گئی۔ تاہم امدادی ٹیموں کا بھی مواصلاتی رابطہ منقطع ہے اور علاقے میں کئی اور برفانی تودے گرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیاچن کے گیاری سیکٹر میں برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے دب جانے کے واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم ریسکیو آپریشن کے متعلق متعلقہ حکام سے مسلسل رابطہ میں رہے اور آگاہی حاصل کرتے رہے۔ آئی این پی کے مطابق بعض فوجی اہلکاروں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں تاہم واقعہ میں متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ تاہم موسم کی خرا بی کے باعث امدادی کارروائیوں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہرعباس نے کہا ہے کہ سیاچن میں برفانی تودے کے نیچے 124 فوجی دبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کے لئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں تمام فوجیوں کو نکالنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ ابھی تک امدادی ٹیموں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ برفانی تودہ ایک کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے تاریخ میں پہلی مرتبہ اتنا بڑا حادثہ ہوا ہے۔ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امدادی ٹیموں میں اسپیشل سروسز گروپ، پاک فوج کے انجینئرز، میڈیکل ٹیمیں اور ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ دبے ہوئے فوجیوں کو نکالنے کے لئے ہر قسم کی مشینری پہنچادی گئی ہے۔ 15ہزار فٹ کی بلندی پر امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل کام ہے۔ ذرائع کے مطابق بٹالین ہیڈکوارٹر پر برفانی تودے کی تہہ 80فٹ بلند ہے اور شدید سردی میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم عسکری ذرائع کے مطابق برف ہٹانے کا کام دو روز تک جاری رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جانیں بچانے کیلئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صدر مملکت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کیا جائے تاکہ برف میں پھنسے ہوئے جوانوں اور افسران کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے اسکردو میں برفانی تودہ گرنے اور اس کی زد میں آنے والے دفاع وطن پر مامور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کی زندگیوں کی خیریت اور سلامتی کیلئے اہل وطن سے دعا کی اپیل کی ہے۔

 

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے بارہ گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باوجود امدادی ٹیمیں ابھی تک متاثرہ فوجیوں تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برفانی تودہ ایک مربہ کلومیٹر وسیع اور ساٹھ سے اسی فٹ اونچا ہے تام مختلف اطراف سے کھودائی کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں ہیلی کاپٹر، فوجی انجينير اور کھوجی کتوں سے مدد لی جا رہی ہے اور پہلی ترجیح اہلکاروں کی جانوں کو بچانا ہے۔
میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ فوج کے جس صدر دفتر پر یہ برفانی تودہ گرا ہے وہ وہاں بیس سال سے قائم تھا اور ’ایسا واقعہ کبھی پہلے دیکھنے یا سننے میں نہیں آیا ہے۔‘
انہوں نے کہا ’ایک سو سترہ فوجی اس وقت برف کے نیچے آئے ہوئے ہیں جن میں تین افسران ہیں بشمول ان کے کمانڈنگ افسر۔‘
فوجی حکام کا کہنا تھا کہ برفانی تودہ سنیچر کی صبح چھ بجے گرا اور اس کی زد میں ایک پورا بٹالین ہیڈ کوارٹر آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت کے اعتبار سے یہ حادثہ غیرمعمولی ہے کیونکہ برف کے تودے عموماً ایک گرم دن کے بعد شام کے وقت گرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’یہ حادثہ اتنے بڑے پیمانے پر آیا ہے کہ ہم بہت زیادہ خوش قسمت ہوں گے اگر ہم کسی کو زندہ بچا پائیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ جو فوجی برف کے اس تودے تلے دبے ہوئے ہیں، فوج ان کے رشتہ داروں سے رابطے میں ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حادثے کا شکار ہونے والے اہلکاروں کا تعلق نادرن لائٹ انفنٹری سے ہے اور ان میں اکثریت کا تعلق گلگت بلتسان سے ہے۔
مقامی صحافی قاسم حسین بٹ کے مطابق برفانی تودہ گرنے کا واقعہ گلگت بلتستان کے ضلع گھانچے سے ایک سو کلومیٹر کی مسافت پر پیش آیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ پچاس کلومیٹر تک تو سڑک موجود ہے جبکہ اس کے بعد چھوٹے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ سیاچن گلیشئر متنازع کشمیر کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ہے اور اسے دنیا کے اونچے ترین جنگ کے میدان کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
دو ہزار تین میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی سیاچن میں تعینات ہیں۔
سیاچن میں شدید موسمی حالات کی وجہ سے پہلے بھی فوجی جوانوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔
سیاچن کے تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن ان میں ابھی تک کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسکردو /اردونیوزمیگزین رپورٹ۔۔۔۔۔

 


 

امريکا سے نئے تعلقات کی پاليسی پارليمنٹ کے ذريعے مرتب کرانے سے معاملات ميں شفافيت آئے گی،وزیراعظم یوسف گیلانی


اسلام آباد(4اپریل  ) … وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے کہا ہے کہ امريکا سے نئے تعلقات کي پاليسي پارليمنٹ کے ذريعے مرتب کرانے سے معاملات ميں شفافيت آئے گي اور تعلقات کي بنياد باہمي احترام پر مبني ہوني چاہئے. پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امريکي نائب وزير خارجہ نے آج اسلام آباد ميں وزيراعظم گيلاني سے ملاقات کي، اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلي? حکام بھي موجود تھے. وزيراعظم نے ٹامس نائيڈز سے گفتگو ميں کہاکہ امريکا سے تعلقات ميں پاکستان کي خودمختاري کا احترام ضروري ہے، پاک امريکا باہمي اعتماد قائم ہو تو خطے ميں امن آئے گا. انہوں نے کہاکہ پارليمنٹ، امريکا سے تعلقات کي پاليسي مرتب کرنے پر غور کررہي ہے اور اس عمل سے پاک امريکا تعلقات ميں شفافيت آئے گي.


وزيراعظم کا نواز شريف کو فون، قومي سلامتي کميٹي اجلاس ميں شرکت پر گفتگو

 

اسلام آباد…وزير اعظم سيد يوسف رضا گيلاني نے مياں نواز شريف سے ٹيلي پر رابطہ کر کے ن ليگ کے ارکان کي قومي سلامتي کميٹي کے اجلاس ميں شرکت کي دعوت دي جسے نواز شريف نے قبول کرليا. ذرائع کے مطابق وزيراعظم يوسف رضا گيلاني نے مسلم ليگ ن کے قائد مياں نواز شريف کو فون کيا ہے. وزيراعظم نے کہا ہے کہ مسلم ليگ ن قومي سلامتي کميٹي کے اجلاس ميں شرکت کرے، ان کا کہنا ہے کہ کميٹي کو امريکا، نيٹو اور ايساف کے ساتھ تعلقات کي نئي شرائط فائنل کرني ہيں. نواز شريف نے دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ليگ ن قومي سلامتي کميٹي کے آئندہ اجلاس ميں شرکت کرے گي.


 

ڈرون حملےفوری طورپربندکیےجائیں،صدرآصف علی زرداری کا مطالبہ

 

 


دوشنبے(اردونیورمیگزین رپورٹ /۲۶ مارچ ۲۰۱۲) صدر آصف زرداری نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں کیونکہ یہ پاکستان کی خودمختاری کیخلاف ہیں جس سے فائدے کے بجائے نقصان ہورہا ہے اور عسکریت پسندی بڑھتی ہے، منشیات اسمگلنگ سے جنگجوؤں کو مدد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا، پاک ایران گیس پائپ لائن سے توانائی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ تاجکستان کے دورے کے دوران صدر آصف زرداری سے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین نے ملاقات کی جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر زرداری نے امریکی نمائندہ خصوصی سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا پاکستان میں ڈرون حملے بند کرے، پاکستان میں امن کا دارومدار افغانستان میں امن و استحکام پر ہے۔ صدر زرداری سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کرتا ہے اور ہمارے مفادات اور اہداف مشترک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور پاکستان دونوں مل کر مفادات کے حصول کیلئے کام کرسکتے ہیں۔ مزید برآں جشن نوروز کے حوالے سے بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ مجھے تاجکستان کے صدر سے مل کر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا موقع میسر آیا ہے، ہمیں خطے کے امن و استحکام اور دوستی کو فروغ دینے کا موقع ملا ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں تاجکستان کے صدر عوام علی رحمن نے کہا کہ آج کا دن خوشی اور مسرت کا دن ہے ہمیں اس موقع پر یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم خطے کو دہشتگردی سے پاک کرکے امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کوششیں کرینگے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ ہمیں ملکر اپنے عوام کی خوشحالی کیلئے تعاون کرنا چاہئے اور حقیقت میں اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے نو روز کے موقع پر پورے خطے کے عوام کو مبارک باد دی۔ تاجکستان کے صدر عوام علی رحمن نے ون آن ون ملاقات میں صدر آصف زرداری سے کہا کہ 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے پیش نظر پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دفاع، سکیورٹی اور انٹیلی جنس سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صدر آصف زرداری کی اس تجویز کو تاجک ہم منصب نے فوری طور پر قبول کر لیا۔




 

 

متحدہ اپوزیشن امریکہ کےخلاف متفقہ موقف اختیارکرنےپررضامند

اسلام آباد نمائندہ اردومیگزین رپورٹ… اپوزيشن جماعتيں امريکا سے تعلقات پر پارليمنٹ ميں ايک مو?قف اپنانے پر متفق ہوگئيں، مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر اپوزيشن کي تجاويزکو شامل کيا تو پارليمنٹ کي قرار داد کي حمايت کريں گے بصورت ديگر امريکا سے تعلقات سے متعلق فيصلے کو پارليمنٹ کا نہيں حکومت کا فيصلہ سمجھا جائے گا، آل پارٹيز کانفرنس کي قرار داد پر عملدرآمد کي ضمانت چاہتے ہيں جبکہ چوہدري نثار علي خان کا کہنا ہے کہ اپوزيشن پارليمنٹ ميں کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کرے گي، پارليمنٹ ميں فيصلے خارجہ پاليسي کے بنيادي نکات پر کئے جائيں. اسلام آباد ميں مولانا فضل الرحمان کي زير صدارت متحدہ اپوزيشن کا اجلاس ہوا جس ميں چوہدري نثار، سليم سيف اللہ، آفتاب شيرپاو?، مشاہد اللہ اور مولانا عبدالغفور حيدري کے علاوہ ديگر رہنماوں نے شرکت کي. اجلاس کے بعد ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعيت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آل پارٹيز کانفرنس کي قرار داد پر عملدرآمد کي ضمانت چاہتے ہيں، پارليمنٹ کي قرار دادوں پر عملدرآمد يقيني بنانے کي کوشش کي جائے گي. ان کا کہنا ہے کہ امريکا کے ساتھ تعلقات پر پارليمنٹ اتفاق رائے سے پاليسي طے کرے گي، اپوزيشن کي تجاويز کو شامل کيا تو اس کي حمايت کريں گے، اگر اپوزيشن کي تجاويز شامل کي گئيں تو اسے پارليمنٹ کا فيصلہ سمجھا جائے گا بصورت ديگر اس فيصلے کو حکومت کا فيصلہ سمجھيں گے. قومي اسمبلي ميں اپوزيشن رہنما اور مسلم ليگ ن کے رہنما چوہدري نثار علي خان نے ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کي حمايت کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ اپوزيشن کے اجلاس ميں پارليمنٹ کے اجلاس ميں متفقہ لائحہ عمل طے کرنے پر تبادلہ? خيال کيا گيا، اپوزيشن پارليمنٹ ميں کھل کراپنيتحفظات کا اظہارکرے گي. انہوں نے حکومت سے مطالبہ کيا کہ نيٹو سپلائي پر پارليمنٹ سے متفقہ قرار داد منظور کرائي جائے، پارليمنٹ ميں دور رس فيصلے کئے جائيں، وقتي فيصلوں سے بچنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزيشن کو قائل کرے کہ وہ نيٹو سپلائي پر تجاويز پر عمل کرے گي اور پارليمنٹ کے فيصلوں پر اپوزيشن کو قائل کرنا ہوگا، نيٹو سپلائي کيلئے پارليمنٹ کے اجلاس کو ہائي جيک نہيں کرنے ديں گے. ميڈيا کے سوالوں کے جواب ديتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئي بھي کميٹي پارليمنٹ کا نعم البدل نہيں ہوسکتي اگر سارے فيصلے کميٹيوں ميں ہونے ہيں تو انہيں پارليمنٹ ميں لانے کي کيا ضرورت ہے. چوہدري نثار نے کہا کہ پارليمنٹ ميں فيصلے خارجہ پاليسي کے بنيادي نکات پر کئے جائيں، پاکستان کے وسيع تر مفاد ميں اپوزيشن جماعتيں متحد ہيں

۲۴ مارچ .



 

حکومت امریکا کی تابعداری چھوڑ دے، فوج اور خفیہ اداروں کے بجٹ پارلیمنٹ میں لائے جائیں،نواز شریف



لاہور/مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہاہے کہ حکومت امریکا اور اداروں کی تابعداری چھوڑے، فوج اور خفیہ اداروں کے بجٹ ذپارلیمنٹ میں لائے جائیں، سلیکٹ کمیٹی فیصلہ کرے کہ پیسہ کہاں خرچ کرنا ہے، خارجہ پالیسی بنانا فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا کام نہیں، حکومت کے اندر حکومت نہیں کرنے دے سکتے، پاکستان کو سیدھے راستے پر چلانے کی بات پر امریکا ناراض ہو یا ادارے ہمیں پروا نہیں، ایبٹ آباد آپریشن سے پاکستان کی خود مختاری تہس نہس کی گئی، اب کٹہرے میں کھڑا کرکے توہین کی جارہی ہے، امریکا کو ہم سے تعلقات رکھنا ہیں تو پالیسیوں پر نظرثانی کرے، کمیشن کے قیام میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے تو اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز رائے ونڈ میں امریکی سفیر سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نوازشریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہماری جماعت نے کوئی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کی، وہ سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب پوری قوم جاننا چاہتی ہے ، یہ قوم کا حق تھا جو ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران چوہدری نثار سے بدستور رابطہ تھا اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے مکمل آگاہ تھا، حکومت کی خواہش تھی کہ مشترکہ اجلاس کے بعد ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے تحقیقاتی کمیشن نہیں بننا چاہیے اس آپریشن کو فتح عظیم کہنے والے کمیشن کے حق میں کیسے ہوسکتے تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ مشترکہ قرارداد کے حکومتی مسودے میں ڈرون حملوں کو بند کرنے اور نیٹو سپلائی بند کرنے کے بارے میں کوئی ذکر شامل نہیں تھا ۔ یہ تجویز (ن) لیگ کی جانب سے شامل کی گئی حکومتی قرارداد میں امریکا کے ساتھ پالیسی کے لیے ری وزٹ کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، ہمارے نزدیک یہ ایک کمزور لفظ تھا ہم نے ری وزٹ کے ساتھ ری ویو کا اضافہ کیا اگر ہم حکومتی قرارداد پر اتفاق کرلیتے تو یہ بہت بڑا جرم تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک صرف صدر اور وزیراعظم کا نہیں بلکہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ہے ایک شخص اٹھارہ کروڑ لوگوں کی خواہشات کا مالک نہیں بن سکتا، نہ ہی ہمارے خفیہ اداروں کا کام حکومت گرانا ، پالیسی بنانا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان دراڑیں ڈالنا ہے ۔ ایجنسیوں کا کردار طے ہونا چاہیے ، متوازی حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، ایجنسیاں ایک پارٹی کے مقابلے میں دوسری پارٹی کو کھڑا نہ کریں، نہ ہی سیاسی اتحاد قائم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں شامل ہے کہ ایجنسیوں اور فوج کا بجٹ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے پارلیمنٹ کو بتایا جائے کہ یہ پیسہ کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوگا ۔ ان ایجنسیوں کو ملنے والا پیسہ بھی قوم کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے بدقسمتی سے آج میثاق جمہوریت دھرے کا دھرا رہ گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ امریکا اور بھارت سمیت کسی ملک کے ساتھ کس طرح کے تعلقات ہونے چاہئیں اس کا تعین کرنا ایجنسیوں کا نہیں حکومت کا کام ہے، امریکی سفیر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ یہ ملاقات ایک ہفتہ قبل طے تھی اس میں امریکی سفیر سے ایبٹ آباد آپریشن سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی اور ان کو واضح پیغام دیا کہ نائن الیون کے حملوں پر ہمیں افسوس ہے لیکن اگر نائن الیون کے بعد امریکی قوم کو محفوظ بنایا گیا ہے کہ تو پاکستان کے تحفظات و خدشات اور اس جنگ میں اس کی قربانیوں کا احساس بھی ہونا چاہیے۔ امریکی سفیر کو بتایا ہے کہ پاکستان کی غیرت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا پاکستان کی خود مختاری سب سے زیادہ عزیز ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کارگل معاملہ صرف چند جرنیلوں کے درمیان تھا اس میں کور کمانڈر کو اطلاع نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈرون حملوں پر پشاور اور کراچی میں دھرنے دیئے جاتے ہیں، دھرنے ان لوگوں کے گھروں کے سامنے دیئے جانے چاہئیں جن لوگوں نے ڈرون حملوں کے معاہدے کئے ہیں، آج اس صورتحال کے ذمہ دار ہم خود ہیں ڈرون طیارے ہمارے ایئر پورٹس سے اڑتے ہیں لہذا انہیں ایئرپورٹ سے اڑانے کی اجازت ہی نہ دی جائے۔ نوازشریف نے کہا ہے کہ امریکا نے ایبٹ آباد آپریشن سے پاکستان کی خود مختاری کو تہس نہس کیا، پاکستانی عوام ابھی ریمنڈ ڈیوس کے لگائے زخم نہیں بھولے تھے کہ امریکا نے ایبٹ آباد آپریشن کر کے بڑا گھاؤ لگا دیا۔ پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ مہم فوری طور پر بند کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں ہمیشہ بیلٹ کے ذریعے تبدیلی آتی اور اسی راستے کو اپنایا جاتا ہے تو آج پاکستان میں دہشت گردی‘ انتہا پسندی جیسے مسائل نہ ہوتے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور ایک بندہ 17 کروڑ عوام کے سیاہ و سفید کا مالک بنا رہا‘ ہماری حکومت کو پوری پاک فوج نے نہیں بلکہ جنرل پرویز مشرف، جنرل عزیز، جنرل محمود اور جنرل جاوید حسن نے ہی ختم کیاتھا اور حالت یہ تھی کہ اس ساری صورتحال سے کور کمانڈرز کو بھی بے خبر رکھا گیا لیکن اب یہ گھناؤنا کھیل بند ہونا چاہئے کیونکہ پاکستانی قوم 50 سالوں سے انہی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پرویز مشرف نے امریکا سمیت دیگر ممالک سے جو بھی معاہدے کئے ہیں ان کو پارلیمنٹ کے سامنے لایا جائے اور تمام اداروں کو سویلین کنٹرول میں لایا جائے۔

 


20کروڑ روپے دیت کی ادائیگی، ریمنڈ ڈیوس رہا، پاکستان سے روانہ ،ملک بھرمیں احتجاجی مظاہرے





لاہور (اردونیوزمیگزین رپورٹ /17مارچ 2011) لاہور کے قرطبہ چوک میں دو نوجوانوں فہیم اور فیضان کو قتل کرنے والا امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس 20 کروڑ روپے خون بہا دینے کے بعد عدالت سے رہاہوکر پاکستان سے روانہ ہو گیا۔ بدھ کولاہورمیں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے پنجاب کے وزیرقانون راناثنا ء الله نے بتایا کہ مقتولین کے ورثاء نے ریمنڈڈیوس کوعدالت میں معاف کردیاہے جس کے بعداسے رہاکردیاگیاہے،راناثناء نے کہاکہ اس صلح میں پنجاب حکومت کوکوئی کردارنہیں اورملزم کومعاف کرنالواحقین کاشرعی اورقانونی حق ہے،انہوں نے کہاکہ یہ بات بے بنیادہے ورثاء سے زبردستی دستخط کرائے گئے ، اس سوال پر کہ ریمنڈکہاں ہیں ،ان کاکہناتھا کہ وہ ایک آزاد امریکی شہری ہیں اورجہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔ گزشتہ روز اس کے خلاف کوٹ لکھپت جیل میں مقدمہ کی سماعت ہوئی اورملزم پرفردجرم عائد کی گئی۔ اس موقع پرمقتولین کے ورثاء وہاں موجود تھے۔ مقدمہ کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج یوسف اوجلہ کر رہے تھے جبکہ مقتولین کی طرف سے پیروی اسد منظور بٹ ایڈووکیٹ نے کی جب دیت کی دستاویز پر تمام ورثاء کے دستحط ہو گئے تو ملزم کو رہاکر دیاگیا۔ ملزم کے خلاف اسلحہ ایکٹ میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت تھا۔ اس کیس میں عدالت نے ملزم کو 30 ہزارروپے جرمانہ کیا اور کہاکہ ملزم دو ماہ سے جیل میں ہے اس لئے یہ دو ماہ سزاکے طور پرکافی ہیں اور جرمانہ کی ادائیگی کے بعد اس کو کیس میں بھی بری کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کیس کے مدعیوں اور مقتولین کے ورثاء کو 20 کروڑ روپے کی رقم بطور دیت دی گئی، یہ رقم نقد کرنسی میں دی گئی، اس موقع پر مقتولین کے ورثاء جن کی تعداد 18 بتائی جاتی ہے وہاں موجود تھے اور انہوں نے کاغذات پر دستخط اور انگوٹھے لگا کر یہ بھاری رقم وصول کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولین کے ورثاء کو امریکی شہریت بھی دی گئی ہے۔ رہائی کے بعدامریکی قونصلیٹ کی پرنسپل آفیسر کارمیلا کانرائے اور تین امریکی گاڑیوں میں آنے والے اہلکار انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔مقتولین کے وکیل اسدمنظوربٹ کے مطابق انہیں عدالتی کارروائی میں شامل ہونے سے روکاگیااورساڑھے چارگھنٹے تک حراست میں رکھاگیا،انہوں نے الزام عائد کیاکہ ورثاء سے دیت کے کاغذات پرزبردستی دستخط لئے گئے ہیں ۔ نمائندہ جنگ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے پہلے مقتولین فیضان حیدر اور فہیم کے لواحقین گھروں کو تالے لگا کر غائب ہو گئے۔ نمائندہ جنگ کے مطابق مقتولین کے ورثاء کے ساتھ دیت کی ادائیگی کا معاملہ اچانک نہیں ہوا بلکہ چند روز قبل فریقین میں دیت کی ادائیگی اور وصولی طے پا گئی تھی اور گزشتہ روز صرف ڈراپ سین ہوا۔ دیت کے اس معاملہ سے متعلق عدالتی کارروائی کو انتہائی خفیہ رکھا گیا جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ ریمنڈ کے دفاع کے لئے سابق پراسیکیوٹر جنرل جسٹس (ر) زاہد بخاری کی خدمات حاصل کی گئی تھیں مگر گزشتہ روز اچانک ان کی جگہ سابق ڈپٹی اٹارنی راجہ ارشاد پیش ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق جیل میں مقتولین کے تقریباً 18 ورثا، امریکی قونصل خانہ کے اہلکار بھی موجود تھے اور انہوں نے دیت کی رقم وصول کی۔ ذرائع کے مطابق ریمنڈڈیوس کی رہائی کے لئے دی گئی 20کروڑروپے کی رقم میں سے مقتول فیضان کی بہن کو 37 لاکھ 87 ہزار روپے جبکہ فیضان کی بیوہ کو دیت میں 2 کروڑ 50لاکھ روپے ملے جبکہ بھائیوں کو 75 لاکھ 75 ہزار روپے ادا کئے گئے، دستاویزات پر مقتولین کے ورثاء کے دستخط موجود ہیں۔ فیضان کی والدہ کو 3 کروڑ 33 لاکھ روپے دیت ادا کی گئی۔ ذرائع کے مطابق مقتول فہیم کے 8 ورثاء کو دیت کی رقم ادا کی گئی۔ فہیم کی والدہ کو 3 کروڑ 33 لاکھ 33 ہزار 333 روپے، والد کو ایک کروڑ 11 لاکھ 11ہزار روپے، دو بہنوں کو 55 لاکھ 55 ہزار روپے، ہر ایک بھائی کو ایک کروڑ 11 لاکھ 11 ہزار روپے دیت کی مد میں ادا کئے گئے۔


ریمنڈ ڈیوس کی رہائی،دیت پر رہائی کے فیصلے پر قانونی ماہرین کا ملاجلا ردعمل




اسلام آباد…قانونی ماہرین نے دو پاکستانیوں کے قتل میں ملوث امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی دیت پر رہائی کے فیصلے پر ملی جلی آرا کا اظہار کیا ہے ۔سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے قومی غیر ت کی بات سامنے رکھی جائے تو ایسا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے تھا مگر دیکھنا یہ ہے کہ مقتولین کے ورثا کی کفالت کون کرتا ، قانون ورثا کو دیت وصول کرکے ملزم کو معاف کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اس لحاظ سے یہ فیصلہ درست ہے۔ ناجائز اسلحہ کیس میں زیاد سے زیادہ سزا سات سال قید ہے، چونکہ استغاثہ نے کاٹی گئی سزا کو کافی قرار دینے کی مخالفت نہیں کی اس لیے عدالت نے اپنی صوابدید پر اس مقدمے میں اسے فارغ کردیا ۔ فوجداری قانون کے ماہر آفتاب باجوہ نے کہا کہ ریمنڈ کی رہائی کا فیصلہ غلط ہے ، ملزم پر جاسوسی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی اور دیگر الزامات بھی تھے جو قابل راضی نامہ نہیں۔ اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ قوم ریمنڈ کے سفارتی عدم استثنیٰ کا مقدمہ جیت گئی ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ رمضان چوہدری کا کہناتھاکہ عدلیہ کے دیگر فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی تسلیم کرنا چاہیے۔

میرے شوہر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، اہلیہ ریمنڈ ڈیوس




ڈینور…ریمنڈ ڈیوس کی بیوی نے کہا کہ ہے کہ اسے یقین ہے کہ اس کے شوہر نے اپنے تحفظ میں دو پاکستانیوں کو قتل کیا۔وہ جانتی ہے کہ اس کا شوہر امریکا واپس آ رہا ہے۔ریاست کولو راڈو میں اپنے گھر باہر گفتگو کرتے ہوئے دو پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی بیوی ریبیکا ڈیوس نے کہا کہ میں جانتی ہوں کی وہ وطن آرہا ہے ،لیکن یہ نہیں جانتی کہ وہ کب آئے گا۔ربیکا نے کہا کہ وہ وہ نہیں جانتی کہ اس کے شو ہر کی رہائی کے لئے کتنی رقم ادا کی گئی اور کس نے اداکی ۔ریبیکا نے کہا کہ اس کے شو ہر کو حکومتوں نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا ۔انہوں کہا کہ انہیں ریمنڈ کا خط مل گیا ہے

 


 

 

دیدارحسین شاہ کیس۔۔۔سپریم کورٹ کےفیصلےخلاف کراچی حیدرآبادسمیت سندھ میں مکمل ہڑتال


کراچی(اردونیوزمیگزین رہورٹ/11مارچ 2011)…سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس ریٹائرڈسید دیدار شاہ کے نیب چیئرمین کی تقر

عدلیہ
دفاع
خاص خبر
پنجاب
معیشت
اسلام آباد
سندھ
خیبرپختونخواہ
بلوچستان
گلگت سکردو
سازشیں
جعلی ڈگریاں
ماضی،حال ِمسقبل
سیلاب
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com