Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

جرمن چانسلرکادورہ سعودی عرب،شاہ عبدالله سےملاقات

جرمن چانسلرنےسخت حفاظتی انتظامات میں کنگ یونیورسٹی کادورہ بھی کیا۔

سعودی عرب میں فرمانروا شاہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گفتگو کے دوران خاص طور  علاقائی موضوعات، جن میں ایرانی جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ امن مذاکرات اہم تھے، کے ساتھ ساتھ دو طرفہ امور پر بھی اظہار خیال کیا۔ سعودی بادشاہ سے ملاقات میں ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز اور دوسرے اہم حکومتی نمائندے بھی شریک تھے۔ شاہ عبداللہ نے جرمن مہمان اور ان کے وفد کے دیگر اراکین کو بحیرہ احمر کے کنارے واقع بندرگاہی شہر جدہ میں خصوصی عشائیہ دیا۔

سعودی عرب پہنچنے کے فوری بعد جرمنی کی خاتون چانسلر سیدھی جدہ سے اسی کلو میٹر کی دوری پر قائم کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی گئیں۔ اس یونیورسٹی کے بلند دیواروں اور سخت سیکیورٹی والے ماحول میں جرمن چانسلر نے ذاتی طور پر یہ معائنہ کیا کہ اس جدید ترین یونیورسٹی میں کتنے اعلیٰ معیار کی تحقیق کی جاتی ہے۔ سعودی عرب میں یہ واحد یونیورسٹی ہےجہاں مخلوط تعلیم مروج ہے یعنی خواتین و حضرات پروفیسر آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں اور طلبہ و طالبات ایک ہی کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔  انگیلا میرکل اور ابو ظہبی کے ولیعہد شہزادہ محمد
جرمن چانسلر نے خاص طور پر اس یونیورسٹی کے نینو ٹیکنالوجی کے شعبے کا دورہ کیا۔ اس شعبے کی تجربہ گاہوں میں خاص طور پرانتہائی اعلیٰ معیار کی جرمن ٹیکنالوجی سے آراستہ مشینری اور آلات نصب کئے گئے ہیں۔ انگیلا  میرکل یونیورسٹی کے مجموعی ماحول سے بہت متاثر ہوئیں۔

بدھ کو جرمن چانسلر اور ان کا وفد جدہ چیمبر آف کامرس کے اراکین کے ساتھ خصوصی میٹنگ میں شرکت کرے گا۔ اس میٹنگ کے بعد جرمن چانسلر اپنی اگلی منزل قطر کے لئے روانہ ہو جائیں گی۔

سعودی عرب روانگی سے قبل ابو ظہبی میں جرمن چانسلر نے متحدہ عرب  کنگ عبداللہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا لوگوامارت کی حکومت پر زور دیا کہ وہ جوہری پروگرام سے آزاد ایران کے تصور کو تقویت دے اور مشرق وسطیٰ میں امن عمل کی بھی حمایت کرے۔ ابوظہبی سے روانگی سے قبل میرکل نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ علاقائی معاملات میں متحدہ عرب امارت انتہائی اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ ایرانی معاملات سے لے کر مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات تک امارت کے کردار کو منفی نہیں کیا جا سکتا۔ جرمنی کے وزیر مملکت برائے اقتصادیات بیرنڈ فافن باخ نے بھی میڈیا کو بتایا کہ ابوظہبی کے امیر کے ساتھ چانسلر میرکل کی بات چیت میں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

ابو ظہبی میں جرمن وفد نے کئی معاہدوں اور مفاہمتوں پر دستخط کئے۔ ان میں ایک جرمن کمپنی سمینز سے لاکھوں ڈالر کی مالیت کے الیکٹریکل آلات کی خریداری کا سودا بھی شامل ہے۔ تجارتی معاملات کے حوالے سے ابو ظہبی کے حکام اور کاروباری برادری پر جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ جرمنی یورپ میں امارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم آٹھ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
 

26مئی2010

ایران
سعودی عرب
عرب دنیا
مشرق وسطی
افغانستان
کرغیزستان
ترکی
فلسطین
مسلم ممالک
حماس
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com