Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

 
ايڈيٹـر: علی جاويد نقوی  

پاکستان سٹینڈرڈٹائم

وزيراعظم سزا کے خلاف اپيل کريں گے، فردوس عاشق اعوان ڈرون حملوں پر امريکا پاکستان کي بات نہيں سن رہا ،وزير خارجہ وزیراعظم نےجان پوجھ کرعدالت کا مذاق اڑیا،سپریم کورٹ وزیراعظم گیلانی کو عدالت برخاست ہونےتک کی سزاسنائی گئی،سزافوری طورپرپوری ہوگئی وزیراعظم گیلانی فوری طورپرمستعفی ہوجائیں،نوازشریف کا مطالبہ وزیراعظم کی سزاکےخلاف ملک بھرمیں مظاہرے توہین عدالت کیس،وزیراعظم کو سزاسنادی گئی،وزیراعظم کاسزاکےخلاف اپیل کرنےکافیصلہ

تازہ ترین خبریں:

 

صدراوبامہ کی شاہ عبدالله سےملاقات

صدر براک اوباما سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے ساتھ منگل کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے جس میںتعطل کا شکار مشرقِ وسطیٰ کے امن مذاکرات، ایران کا متنازع جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی امور زیر بحث آئیں گے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہوگی۔

تجزیہ کاروں اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی فرماں روا امریکی صدر پر زور دیں گے کہ وہ مغربی کنارے میں آباد کاریوں کی سرگرمیوں اور فلسطینی کے ساتھ مذاکرات کی معطلی پر اسرائیل کے بارے میں سخت موقف اپنائیں۔

گذشتہ سال صدر اوباما نے سعودی عرب کو اسرائیل کو خیر سگالی کے جذبے کی پیشکش کرنے کو کہا تھا تاکہ اُسے فلسطین کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ کیا جاسکے۔

لیکن شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ 2002 کے اُس عرب امن منصوبے سے ہٹ کر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے جس کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ایک فلسطینی ریاست کے قیام اور اُن علاقوں کی واپسی سے مشروط کیا گیا ہے جن پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔

ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی ملکوں کی طرح سعودی عرب کو بھی تشویش ہے لیکن شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیاں تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مبینہ کوششوں سے نہیں روک سکتیں۔
سعودی قیادت کی خواہش ہے کہ امریکہ اس مسئلے کے حل کے لیے مزید کوششیں کرے لیکن ریاض کا موقف ہے کہ وہ علاقے میں فوجی تصادم کے حق میں نہیں۔

 امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو جوہری ہتھیارحاصل کرنے کی کوششوں سے باز رکھنے کے لیے فوجی کارروائی کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ اُس کا جوہری منصوبہ پرُامن مقاصد کے لیے ہے۔

 


 

جنرل میک کرسٹل کی برطرفی ظاہر کرتی ہےکہ امریکہ افغان جنگ ہاررہا ہے۔

کیا نیا جنرل افغان طالبان کا مقابلہ کرسکےگا؟

امریکی صدراپنی پالیسیوں میں تبدیلی کیلئےتیارنہیں۔

امریکی جنرل کےمعافی مانگنےکےباوجود صدراوبامہ نےمعاف نہیں کیا۔

 

( رپورٹ اردونیوزمیگزین)

 

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلی میکرسٹل اوراُن کے مشیروں کی طرف سے صدر اوباما کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں اور سفارت کارروں کے خلاف سخت بیانات کی اشاعت کےبعدصدراوبامہ نےامریکی جنرل کو برطرف کردیا۔اوبامہ نے وضاحت کے لیے امریکی کمانڈر کو واشنگٹن طلب کیا تھا لیکن صدراوبامہ انکی وضاحت سےمطمئن نہیں ہوئے۔ 
 
یادرہےکہ  جنرل میکرسٹل نے اپنے اور اپنے عملے سے منسوب تنقیدی بیانات پر معافی بھی مانگ لی تھی۔

بقول امریکی فوجی کمانڈر کے” رولنگ سٹون“ نامی جریدے میں اُن کا بیان ”ناقص رائے“ کی غمازی کرتا ہے اور یہ ایک ایسی غلطی ہے جو سرے سے سرزد ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

جرید ے میں چھپنے والے مضمون میں جنرل میکرسٹل کے مشیروں کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی کمانڈر نے صدر اوباما کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اپنی ملاقا ت کو محض ”دس منٹ کے لیے تصویر بنوانے “کی ایک ملاقات قرار دیا۔ مشیروں نے نائب امریکی صدر جوزف بائیڈن کی اہمیت کو بھی نظر انداز کیا جو جنرل میکرسٹل کی پالیسی کے برعکس افغانستان میں ایک محدود پالیسی اختیارکرنے کے حامی ہیں۔

خود افغانستان میں امریکی فوجی کے کمانڈر نے بھی ”رولنگ سٹون “رسالے کو بتایا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری نے واشنگٹن وہ پیغام بھیج کر انھیں ”دھوکا“ دیا جس میں طالبان باغیوں کے خلاف لڑائی کے لیے مزید فوجی افغانستان بھیجنے کی جنرل میکرسٹل کی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ امریکی سفیر نے اپنے پیغام میں طالبان کو شکست دینے کی امریکی کوششوں میں صدر حامد کرزئی کو امریکہ کا ایک ناقابل بھروسہ ساتھی بھی قرار دیا تھا۔

 صدر اوبامانے جنرل میکرسٹل کے منصوبے سے اتفاق کرتے ہوئے افغانستان میں30 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا تھا۔

جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں امریکی کمانڈرکے مشیروں نے وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کی کوششوں کو سراہا ہے جو اُن کے بقول جنرل میکرسٹل کے منصوبوں کی حامی ہیں۔

برسلز میں نیٹو کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اتحاد کے سیکرٹر ی جنرل اینڈرز فو راسمسن جنرل میکرسٹل کی مکمل حمایت کرتے ہیں تاہم انھوں نے رولنگ سٹون میں شائع ہونے والے مضمون کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ محض ایک مضمون ہے۔

امریکی کانگریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں سامانِ رسد لے جانے والے امریکی قافلوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے کروڑو ں ڈالرز بالواسطہ طور پر افغان جنگجو کمانڈروں حتیٰ کہ طالبان کو ادا کیے جار ہے ہیں۔

پیر کی شب جاری کی گئی اس تفصیلی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت دفاع کے ساتھ مل کردو اعشاریہ ایک ارب ڈالر کے مال برداری کے معاہدے پر کام کرنے والی افغانستان میں مقیم نجی کمپنیاں ایک ٹرک کے لیے محافظوں کو کئی ہزار ڈالر ادا کر رہی ہیں۔

 اس معاہدے کے تحت امریکی افواج کی خدمات اور انھیں درکار اشیاء کا کم از کم70 فیصدافغانستان بھیجا جا رہا ہے۔ کانگریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرک بھیجنے والی کمپنیوں نے فوجی حکام کو اس مسئلے کے بارے میں آگاہ کیا ہے لیکن اس پر کبھی بھی مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان کی قومی سلامتی کی ذیلی کمیٹی نے تیار کی ہے جو منگل کو اس کی سماعت کرے گی۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں بدعنوانی کی اطلاعات کی تفتیش شروع کر دی ہے اور ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دی ہے جو اس بات کا پتہ لگائے گی کہ ٹھیکے دینے کے عمل پربدعنوانی کے کیا اثرات ہیں۔

 امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے دوران ایک سینئر جنرل کو ان کے عہدے سے ہٹانا ایسا واقعہ ہے جو ایک طویل عرصے سے نہیں ہوا تھا۔ آخری بار ایسا قدم صدر ہیری ٹرو مین نے 1951 میں کوریا کی جنگ کے زمانے میں اٹھایا تھا جب انھوں نے جنرل ڈگلس میک آرتھر کو امریکی اور اتحادی فوجوں کی کمان سے بر طرف کر دیا تھا۔ لیکن اس وقت پالیسی کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا تھا۔موجودہ کیس میں صدر نے جنرل سٹینلی میک کرسٹل کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے، سویلین حکام کا احترام نہ کرنے اور اپنے اسٹاف کے چوٹی کے ارکان میں اس قسم کے رویے کو فروغ دینے پر، ان کے خلاف کارروائی کی ہے ۔

ہیریٹج فاؤنڈیشن کی تجزیہ کار سِالی میک نمارا حال ہی میں افغانستان سے واپس لوٹی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میکرسٹل کی شخصیت انتہائی سحر انگیز ہے۔ ان سے سنگین غلطی سرزد ہوئی اور اس کے نتیجے میں ایک المناک واقعہ رونما ہو گیا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ بغاوت کے انسداد کی جو پالیسی میک کرسٹل کی مد د سے تیار کی گئی تھی اور جسے گذشتہ دسمبر میں صدر اوباما نے منظور کیا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔’’حکمت عملی وہی رہے گی۔ ظاہر ہے کہ پیٹرئیس اپنا اسٹائل اپنائیں گے۔ لیکن ان کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ وہ اس کام کے لیے پوری طرح اہل ہیں۔‘‘

واشنگٹن کے سیاست دانوں اور ماہرین کا رد عمل بھی یہی تھا۔ میک کرسٹل کے برطرف کیے جانے پر تو کسی کو حیرت نہیں ہوئی لیکن ان کی جگہ جنرل پیٹرئیس کے تقرر پر کافی حیرت ہوئی اور کسی قدر اطمینان محسوس ہوا۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران، واشنگٹن میں افغانستان کی حکمت عملی پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ جنوبی افغانستان میں توقع سے کم پیش رفت ہوئی ہے اور بعض فوجیوں نے یہ شکایتیں بھی کی ہیں کہ سویلین آبادی کو بچانے کی خاطر، باغیوں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس کے علاوہ افغان سکیورٹی فورسز کو تیار کرنے میں مسلسل مسائل درپیش ہیں اور افغان عہدے داروں میں کرپشن عام ہے۔

بہت سے ماہرین کو تشویش تھی کہ اگر کسی نسبتاً گمنام سے فوجی افسر کو یہ ذمہ داری دے دی گئی تو آنے والے مشکل مہینوں میں وہ افغان لیڈروں کے ساتھ معاملات میں موئثر ثابت نہیں ہو گا ۔حقیقت یہ ہے کہ جنرل میک کرسٹل ان چند امریکی عہدے داروں میں شامل تھے جنھوں نے صدر حامد کرزئی کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے ۔ جب صدر اوباما یہ طے کر رہے تھے کہ جنرل میک کرسٹل کے ساتھ کیا سلوک کریں، اس دوران صدر حامد کرزئی نے میک کرسٹل کے حق میں ایک بیان جاری کر دیا۔

سابق افغان وزیر داخلہ علی جلالی کہتےہیں کہ کابل میں لوگ میک کرسٹل کو بہت یاد کریں گے۔ لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جگہ پیٹرئیس کا تقرر بڑادانشمندی کا فیصلہ ہے ۔ ’’جنرل میک کرسٹل کے افغان لیڈروں کے ساتھ بڑے قریبی تعلقات تھے ۔ صدر کرزئی کا خیال تھا کہ میک کرسٹل افغانستان کی صورت حال کی حساس نوعیت اور افغان کلچر کو سمجھتے ہیں۔ صدر کرزئی بہت خوش تھے کہ جنرل میک کرسٹل نے سویلین آبادی میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کی تعداد کم کرنے، آدھی رات کو ہوائی حملے اور گھروں کی تلاشی نہ لینے کے اقدامات کیے تھے۔‘‘

عراق میں 2007 اور 2008 میں جنرل پیٹرئیس کی کامیابی نے انہیں امریکہ میں، بلکہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ مشہور جنرل بنا دیا۔ گذشتہ سال سے جنرل میک کرسٹل کے باس کی حیثیت سے وہ افغانستان کی نئی حکمت عملی کی تشکیل میں اہم رول ادا کرتے رہے ہیں۔ بلکہ 2006 میں انسداد دہشت گردی کے لیے امریکہ نے جو نئی حکمت عملی تیار کی، اس کی تیاری میں بھی پیٹرئیس نے کلیدی رول ادا کیا تھا۔ پھر انہیں اسی حکمت عملی پر عمل در آمد کے لیے بغداد بھیج دیا گیا۔ اس حکمت عملی میں شہری آبادی کی حفاظت کرنا اور قصبوں اور شہروں کو محفوظ بنانا بہت اہم ہے چاہے اس کے نتیجے میں اتحادی فوجوں کے لیے خطرے میں اضافہ ہی کیوں نہ ہو جائے ۔اس کے ساتھ ہی میزبا ن ملک کی سکیورٹی فورسز کی تربیت اور مقامی حکومت کی صلاحیت کو بہتر بنانا بھی اہم ہے ۔

سینیٹر جوزف لیبر مین نےپیٹرئیس کے انتخاب کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ صدر نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان میں بغاوت کے انسداد کی حکمت عملی کے مطابق کوششیں جاری رہیں گی اور جنرل پیٹرئیس کی قیادت میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

اس قسم کے خیالات سے جنرل میک کرسٹل کی برطرفی سے جو دھچکا لگا تھا اس کے اثرات کم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب افغانستان میں مزید 30,000 امریکی فوجی پہنچ رہے ہیں اور جنوب میں اہم کارروائیوں میں دشواریاں محسوس ہو رہی ہیں۔

سِالی میک نمارا تسلیم کرتی ہیں کہ پیٹرئیس سے بہت سی توقعات وابستہ کر لی گئی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اپنا کام نہایت اعلیٰ طریقے سے انجام دیں گے۔ ان کی شخصیت سے اعتماد کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ تا ہم وہ انتباہ کرتی ہیں کہ ان کا کام آسان نہیں ہے ۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اب سے تین سال بعد، جیسا کہ عراق میں ہوا تھا، افغانستان میں حالات کہیں زیادہ مستحکم ہو جائیں گے
 

ایف بی آئی
پینٹاگون
خصوصی رپورٹ
 
 
Powered by A+ eSolutions.com
wwww.urdunewsmag.com