بھوجاائیرلائن حادثہ،فاروق بھوجاگرفتار،
ایک سوسترہ مسافروں کی میتیں انکے ورثاء کے حوالے کر دی گئیں
.jpg)
اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی (اردو نیوزمیگزین رپورٹ) اسلام آباد ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے ملبے سے انسانی لاشیں اور اعضاء اٹھانے کا کام مکمل کرلیا گیا، 117 مسافروں کی میتیں انکے ورثاء کے حوالے کر دی گئیں جن کی آبائی علاقوں میں تدفین کر دی گئی۔ 13 افراد کی اسلام آباد، 4 راولپنڈی، 3 ایبٹ آباد، 5 مانسہرہ جبکہ صوابی، کوہاٹ اور میرپور میں ایک ایک شخص کی تدفین کر دی گئی۔ 11 میتیں کراچی پہنچا دی گئیں۔جبکہ شناخت نہ ہونے والی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہونگے۔گزشتہ روز وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پمز اسپتال کا دورہ کا دورہ کیا اور جائے حادثہ کا فضائی معائنہ بھی کیا۔ پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا اور اسپتال انتظامیہ کو ڈی این اے کے کام کو جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب کراچی میں ایف آئی اے نے بھوجا ایئر کے مالک فاروق بھوجا کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ، جبکہ بھوجا ایئر کے دفتر کو سیل کرکے ضروری ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے ہفتے کو یہاں بھوجا ایئر کے دفاتر واقع کورٹ ویو اپارٹمنٹ آرٹس کونسل چوک اور کراچی ایئر پورٹ پر چھاپہ مارکر وہاں سے تمام ضروری ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا اور دفاتر سیل کر دیئے۔ جبکہ بھوجا ایئر کے مالک فاروق بھوجا کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ۔ واضح رہے کہ جمعہ کو راولپنڈی ، چکلالہ ایئر پورٹ کے قریب بھوجا ایئر کا طیارہ گرنے کے نتیجے میں 127 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں راولپنڈی کے تھانہ کورال میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ۔جاں بحق ہونیوالے تمام افراد کی لاشیں پمز میں رکھی گئیں تھیں جہاں نادرا کے ڈیٹا اور لواحقین کی مدد سے انکی شناخت کرکے انہیں ورثاء کے حوالے کیاگیا۔ لاشوں کی وصولی پر لواحقین دھاڑیں مارکرروتے رہے۔ ادھر جاں بحق ہونیوالوں کی آبائی علاقوں میں تدفین بھی کردی گئی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ادھر کوہاٹ میں طیارے کے پائلٹ نور اللہ آفریدی کو ان کے آبائی گاؤں میں سپردخاک کر دیا گیا۔ اسلام آباد میں دفنائے جانے والوں میں کراچی کے رہائشی عدیل چغتائی، ان کی اہلیہ، تین بیٹیاں سارہ، حفصہ اور سمیہ سمیت بیٹے سلمان چغتائی کی میتیں بھی شامل ہیں۔حادثہ میں جاں بحق ہونے والے 11 مسافروں کی میتوں کوقومی ایئر لائن کی دو پروازوں سے ہفتہ کو اسلام آباد سے کراچی لایا گیا۔ قبل ازیں بھوجا ائیرلائن کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو لے کر پی آئی اے کی خصوصی پروازٍ ہفتہ کی صبح اسلام آباد پہنچی۔اسلام آباد پہنچنے والے لواحقین کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ اپنے پیاروں کی شناخت کے بعد لاشیں اپنی تحویل میں لیتے رہے۔اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بھوجا ائیر کے طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو نیو الوں کے لواحقین کے پہنچنے کے بعد کہرام مچ گیا، لواحقین ایک دوسرے کو گلے لگا کر دھاڑیں مار مار کر روتے رہے، خواتین غم سے نڈھال نظر آئیں۔ ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچنے والی پی آئی اے کی چارٹرپرواز پی کے 300صبح جب ائیرپورٹ پر پہنچی تو اس میں سول ایوی ایشن کے ڈی جی ندیم اچکزئی ، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینئر فاروق ستار سمیت 418مسافر بشمول 100کے قریب لواحقین بھی موجو د تھے ، ائیر پورٹ لاؤنج سے باہر آنے کے بعد بھوجا ائیر طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو نے والوں کے لواحقین ایک دوسرے سے لپٹ گئے، خواتین نے دھاڑیں مارمارکر رونا شروع کردیا، عزیز و اقارب کے ساتھ آنے والے بچے بھی اس صورتحال پر رو پڑے جبکہ ائیرپورٹ پر موجو د دیگر پروازوں کے مسافر اور ان کے عزیز و اقارب بھی رنجیدہ نظر آئے۔ادھر ہفتے کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بوئنگ 737 کا حادثہ بہت بڑا سانحہ ہے اور پوری قوم اس دکھ میں شریک ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت عوام کی نمائندہ ہے اور حادثہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جا رہا ہے، تحقیقات مکمل ہونے تک نتائج اخذ نہیں کئے جا سکتے۔ ائیربلیو طیارہ حادثہ کے لواحقین کو معاوضہ نہ ملنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ تمام مسافروں کی انشورنس ہوتی ہے اور لواحقین کو معاوضہ دینا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے لواحقین کو معاوضہ دلانے کی یقین بھی کرائی۔
راولپنڈی،چکلالہ کے علاقے میںبھوجا ائیرلائن کا طیارہ گرکر تباہ،127 مسافر جاں بحق

راولپنڈي اردو نیوزمیگزین رپورٹ …راولپنڈي ميں چکلالہ کے علاقے بحريہ ٹاون کے قريب نجي ايئر لائن بھوجا کا مسافر طيارہ گرکر تباہ ہوگيا، ذرائع کے مطابق حادثے ميں تقريباً تمام 127 افراد جاں بحق ہوگئے، تاحال کسي کے زندہ بچنے کي کوئي اطلاع نہيں ملي، وزارت دفاع نے حادثے ميں 118 افراد کے جاں بحق ہونے کي تصديق کي ہے. جيو نيوز سے گفتگو کرتے ہوئے عيني شاہد نے بتايا کہ راولپنڈي کے علاقے کورال کے گاو?ں حسين آباد کے قريب طيارہ شام 6سے ساڑھے 6 بجے کے قريب گرا اور طيارے کے ٹکڑے نصف کلو ميٹر تک پھيلے ہوئے ہيں، طيارے کا ملبہ کئي مکانوں پر گرا ہے، حادثے کے بعد علاقہ مکينوں نے خود امدادي سرگرمياں شروع کيں اور لاشوں و انساني اعضا کو ايک جگہ جمع کرنا شروع کرديا تھا، حادثے کے بعد علاقے ميں بجلي بھي چلي گئي جس کے باعث امدادي کاموں ميں مشکل پيش آرہي ہے. سول ايوي ايشن ذرائع اور وزارت دفاع نے تصديق کي ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا مسافر طيارہ بھوجا ايئر لائن کا ہے جس ميں 118 مسافر اور عملے کے 9 ارکان سوار تھے، مسافروں ميں 6 شير خوار بچے بھي شامل ہيں. صدر زرداري اور وزيراعظم گيلاني نے حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے واقعے کي تحقيقات کا حکم ديديا ہے. ريسکيو ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طيارہ مکمل طور پر تباہ ہو گيا ہے اور علاقے ميں ملبہ و انساني اعضاء اور لاشيں دور دور تک بکھري ہوئي ہيں، شديد بارش کے باعث امدادي کاموں ميں انتہائي مشکلات کا سامنا ہے. ذرائع کے مطابق طيارہ اسلام آباد ايئرپورٹ سے 5 کلو ميٹر دور رہائشي علاقے ميں گرا، حادثے کے مقام پر اب بھي کئي جگہ آگ لگي ہوئي ہے اور طيارے کا ملبہ دور دور تک بکھرا ہوا ہے، امدادي ٹيميں حادثے کے مقام پر پہنچ گئي ہيں ، پاک فوج کے جوان بھي جائے وقوعہ پر روانہ ہوگئے ہيں جبکہ راولپنڈي اور اسلام آباد کے اسپتالوں ميں ايمرجنسي نافذ کردي گئي ہے. ذرائع کے مطابق کراچي سے پرواز کے وقت بتاديا گيا تھا کہ اسلام آباد ميں موسم خراب ہے جس کے باوجود طيارہ اسلام آباد کيلئے روانہ کرديا گيا، اس وقت بھي وفاقي دارالحکومت ميں موسم شديد خراب ہے ،ذرائع کے مطابق بھوجا ايئر لائن کے طيارے کے پائلٹ نور اللہ آفريدي جبکہ کو پائلٹ مشتاق تھے، پائلٹ نے خراب موسم کے باوجود طيارہ لينڈ کرانے کي کوشش کي. ذرائع کے مطابق نجي ايئر لائن کي پرواز بي فور. 213 شام 5 بجے کراچي سے اسلام آباد کيلئے روانہ ہوئي تھي تاہم ٹريفک کنٹرول سے 6 بج کر 40 منٹ سے طيارے کا کوئي رابطہ نہيں تھا. ذرائع کے مطابق کنٹرول ٹاور سے طيارے کو لينڈنگ کيلئے کليئر کرديا گيا تھاتاہم موسم کي خرابي کے باعث طيارہ حادثے کا شکار ہو گيا. بھوجا ايئر لائن کے اسٹيشن ماسٹر اسلام آباد کاکہنا ہے کہ بي فور 213 کي آج شام پہلي پرواز تھي ، کمپني نے آج سے نئي پروازوں کا آغاز کيا.
سیاچن حادثہ:امريکی ٹيم کی آمد پر منورحسن کا اظہار تشويش
.jpg)
لاہوراردونیوزمیگزین رپورٹ . .امير جماعت اسلامي سيد منور حسن نے سياچن ميں جاري ريسکيو آپريشن ميں مدد کے لئے امريکي ٹيم کي آمد کي خبروں پر تشويش کا اظہار کيا ہے.لاہور ميں جماعت اسلامي کے ہيڈ کوارٹر منصورہ سے جاري ايک بيان ميں سيد منور حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور اس کي حفاظت کرتے ہوئے شہيد ہونے والے سپاہي قوم کے ہيرو ہيں ليکن 2005ء کے زلزلے کے دوران مدد کے لئے آنے والي امريکي ٹيموں کے کارناموں سے پوري قوم واقف ہے.امريکہ نے امدادي ٹيموں کے نام پر خيبر پختونخواہ اور آزاد کشمير اپنا انٹيلي جنس نيٹ ورک قائم کيا جس کا خميازہ آج پوري قوم بھگت رہي ہے.انھوں نے سياچن ميں شہيد ہونے والے سپاہيوں کے خاندانوں سے ہمدردي کا اظہار کتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ امدادي کاموں کي رفتار مزيد تيز کي جائے.
گلگت بلتستان کو بلوچستان بنانے کی سازش کی جارہی ہے‘ مجلس وحدت مسلمین
کراچی (اردو نیوزمیگزین رپورٹ ) گلگت کراچی اور کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف صبح کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور گلگت میں ایک سو پچاس شیعہ مسافروں کی ٹارگٹ کلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کو گرفتار اور کالعدم جماعت کے قاضی نثار اور مولوی عطاء اللہ کو پھانسی دی جائے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مرکزی احتجاجی مظاہرہ کھارادر میں کیا گیا جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں مولانا صادق رضا تقوی‘ مولانا علی انور‘ علامہ آفتاب جعفری‘ محمد مہدی‘ وصی محمد ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ‘ کراچی اور گلگت میں 150 سے زائد شیعہ معصوم مسلمانوں کے قتل عام میں امریکا وصیہونی ایجنٹ ملوث ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو بلوچستان بنانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ ملک میں انارکی پھیلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے گلگت بلتستان میں جاری سرکاری اداروں کی سرپرستی میں شیعہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے نہیں بچایا جا سکے گا۔
خیبرایجنسی سےڈیڑھ لاکھ افرادکی چنددنوں میں نقل مکانی
مقامی لوگ دہشت گردوں اورسیکورٹی فورسزکےدرمیان جھڑپوں کےباعث اپنےگھربارچھوڑنےپرمجبورہورہےہیں۔
پشاور۔۔اردونیوزمیگزین رپورٹ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے نقل مکانی کرنے والے باشندوں کی تعداد سو فیصد بڑھ گئی ہے اور اب تک ڈیڑھ لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یہ متاثرین شدت پسند گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں سے تنگ آ کر اپنےگھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
خیبر ایجنسی کے حالات گزشتہ چند سالوں سے پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی طرح کشیدہ ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ جنوری میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے سلسلے میں بھی تیزی آ گئی۔ اِن دنوں خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز، قبائلی رہنماء منگل باغ کا گروہ لشکرِ اسلام، تحریکِ طالبان پاکستان، اور حکومت کے حمایت یافتہ مقامی لشکر ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران، خیبر ایجنسی کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ باشندوں نے جلوزئی کیمپ میں اندراج کرایا ہے۔ ادارے کے ترجمان تیمور احمد کے مطابق روزانہ آنے والے متاثرین کی تعداد میں سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔
’بیس جنوری سے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے اِن کی آمد شروع ہوئی۔ سولہ مارچ تک، اندازاً دو سو سے ڈھائی سو خاندان رجسٹر ہو رہے تھے۔ سترہ مارچ سے اس تعداد میں بہت اضافہ ہوا، اور ابھی ہم تقریبا دو ہزار سے پچیس سو خاندانوں کو روز رجسٹر کرتے ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ جلوزئی کیمپ میں یو این ایچ سی آر کی انتظامیہ کو خیبر ایجنسی سے متاثرین کی آمد کے بارے میں سرکاری حکام نے پیشگی اطلاع نہیں دی اور پناہ گزینوں کی تعداد بتدریج بڑھتی چلی گئی۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران، خیبر ایجنسی کے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ باشندوں نے جلوزئی کیمپ میں اندراج کرایا ہے
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، خیبر ایجنسی کے ایک تہائی متاثرین جلوزئی کی خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں جبکہ اندراج کرانے والے زیادہ تر پناہ گزین پشاور میں کرائے کے گھروں یا عزیز و اقارب کے ہاں مقیم ہیں۔
جلوزئی کیمپ میں باجوڑ اور مہمند ایجنسیوں تقریباً آٹھ ہزار متاثرین پہلے سے موجود تھے۔ اُن کے علاوہ گزشتہ دو سالوں کے دوران خیبر ایجنسی سے بھی مختلف اوقات میں متاثرین کی آمد ہوئی لیکن وہاں سے پناہ گزینوں کی نئی لہر کی وجہ سے کرائے پر زمین لے کر، کیمپ میں توسیع کی گئی ہے۔
یہ متاثرین، شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کے رویے سے تنگ آ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
تیراہ کی چالیس سالہ گلزرینہ نے چھ ماہ قبل خوفزدہ ہو کر پہلے باڑہ منتقل ہوئیں۔ ’تیراہ میں جو گولہ باری اور فائرنگ تھی، اس کی وجہ سے شور بہت تھا۔ہم ڈرتے تھے، ہمارے بچے ڈرتے تھے، ان کا دل ایسے ہوتا تھا جیسے پھٹنے لگتا ہے‘۔
باڑہ میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہونے پر گلزرینہ دو ہفتے قبل اپنے آٹھ بچوں کے ہمراہ جلوزئی کیمپ آ گئیں۔
باڑہ کے علاقے میلواڑ میں، چوتھی جماعت کے طالبعلم یٰسین کو بھی رات بھر جاری رکھنے والے مارٹر گولوں کے دھماکوں سے خوف آتا تھا۔ اُن کے والد نے بتایا کہ دن میں دس بارہ مارٹر گولے اُن کے گھر کے قریب گرتے تھے۔
"فوج بھی مارتی ہے اور طالبان بھی مارتے ہیں۔ کوئی ایک فریق ہمارے گھر سے آ کر پانی پی جاتا تھا تو دوسرا آ کر گولیاں چلانا شروع کر دیتا تھا۔"
لعل محمد
’کبھی فوج آتی ہے، ظلم ڈھاتی ہے، کبھی طالبان آتے ہیں، سفید کپڑوں میں، کالے کپڑوں میں۔ تین مہینے سے جو سلسلہ شروع ہوا، ویسے حالات ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے‘۔
اٹھارہ سالہ صحت خان کا تعلق بھی باڑہ سے ہے۔ انہوں نے خوف کے مارے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر بی بی سی سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں فرنٹیئر کور سے چھپ چھپا کر نقل مکانی کرنی پڑی۔
’ملیشیا والے ہمارے گھر کے باہر بیٹھتے تھے۔ ہمیں گھر سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ ہمارے پاس پینے کا پانی ختم ہو گیا تھا۔ ہماری گندم ختم ہو گئی۔ ہم ملیشیا سے چھپ کر نکلے تھے‘۔
کاشتکار لعل محمد نے بتایا کہ کرفیو کے دنوں میں مقامی لوگ مریضوں کو طبی امداد کے لیے باہر نکالنے سے بھی محروم ہو جاتے تھے۔ ’فوج بھی مارتی ہے اور طالبان بھی مارتے ہیں۔ کوئی ایک فریق ہمارے گھر سے آ کر پانی پی جاتا تھا تو دوسرا آ کر گولیاں چلانا شروع کر دیتا تھا‘۔
ستر سالہ سنت خان کا گھر تیراہ میں ایک سڑک کے کنارے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جب کبھی کوئی دھماکہ ہوتا تھا تو سکیورٹی فورسز اردگرد کے تمام گھروں کی تلاشی شروع کر دیتی تھیں۔ ’میں نے اٹھارہ سال ملیشیا میں نوکری کی۔ انہیں اپنی ملازمت کا کارڈ دکھا دیتا تھا۔ اس لیے وہ میرے گھر میں نہیں گھستے تھے‘۔
انہیں اپنی ملازمت کا کارڈ دکھا دیتا تھا اس لیے وہ میرے گھر میں نہیں گھستے تھے:سنت خان
لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں سوال پر خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ ’جلوزئی میں ہمارا پرانا کیمپ ہے۔ کافی بڑا اور کافی پرانا ہے۔ یہ افغان مہاجرین کے وقت سے چلا آرہا ہے اور وقتاً فوقتاً جو بھی ضرورت پڑتی رہی تو ہمارے مالاکنڈ ڈویشن، مہمند، وزیرستان اور اب خیبر۔ وہاں آپریشن کافی کامیاب بھی رہا اور پھر وہاں جو پرامن لوگ تھے انہیں وہاں سے نقل مکانی کرنی پڑی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو افراد کیمپوں میں نہیں ہیں اور کرائے کے گھروں میں ہیں وہ زیادہ تر بوجھ تو وہ خود ہی اٹھا رہے ہیں۔ ہم کیمپ میں ہی سہولتیں فراہم کرتے ہیں‘۔
افتخار حسین نے کہا کہ ’یہ تمام ذمہ داری مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ اصل میں یہ مرکزی حکومت کے ہی علاقے میں رہتے ہیں ہم تو اپنی ذمہ داری پاکستانی اور پختون ہونے کے ناتے نبھاتے ہیں لیکن اپنے وسائل میں رہتے ہوئے جب ہم یہ کرتے ہیں تو اسے مکمل کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس ضمن میں مرکزی حکومت بھی ہماری امداد کرتی ہے لیکن جس پیمانے پر یہ مسئلہ ہے اس پیمانے پر ہمیں سپورٹ نہیں ملتی‘۔
لاہور جسٹس جاوید اقبال کے والدین ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل
لاہور (اردونیوزمیگزین رپورٹ/11جنوری 2011) سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے والد عبدالحمید اور ان کی والدہ آمنہ بیگم کو مبینہ طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر گھر میں قتل کر دیا گیا، مقتول عبدالحمید پولیس سے ڈی آئی جی کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے اور ان کی زیادہ تر سروس کوئٹہ کی ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مومن لین افسرز کالونی کیولری گراؤنڈ کے مکان نمبر 164 اور گلی نمبر 7 کے رہائشی تھے اور گزشتہ شام ڈاکو ان کے گھر داخل ہوئے اور ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کر دیا، واقعہ کی اطلاع ملنے پر اعلی پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے گھر کے اردگرد تمام راستوں کو بند کردیا۔ اہل محلہ کے مطابق تین گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئیں۔ مانیٹرنگ سیل کے مطابق سی سی پی او کے مطابق ڈی آئی جی (ر) عبدالحمید اور ان کی اہلیہ کو ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کیا گیا اور پولیس نے گھر کے دو ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ واقعہ کی اطلاع پا کر گورنر پنجاب لطیف کھوسہ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور اعلیٰ پولیس حکام جسٹس جاوید اقبال کے گھر 164 کیولری گراؤنڈ پہنچ گئے جنہیں جاوید اقبال کو افسوسناک واقعہ کی اطلاع رجسٹرار سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے دی۔ ایس پی کینٹ جواد قمر کے مطابق دونوں گھر میں اکیلے تھے۔ گزشتہ روز رشتہ دار ملنے آئے تو انہوں نے لاشیں دیکھ کر شور مچایا، مقتولین کے جسموں پر تشدد کے نشانات نہیں تھے۔ دوسری جانب صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انکوائری رپورٹ 2 دن میں طلب کرلی۔ مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے آئی جی پولیس پنجاب کو ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ خود اس کیس کی نگرانی کریں۔ ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے آج ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ وکلاء جسٹس جاوید اقبال کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہیں۔قبل ازیں جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کی اطلاع ملتے ہی چیف جسٹس افتخار چوہدری وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان ، چیئرمین نیب سید دیدار حسین شاہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس حامد علی مرزا اور سپریم کورٹ کے تمام ججز فوری طور پر ججز کالونی میں جسٹس جاوید اقبال کی رہائشگاہ پر پہنچ گئے۔ اس دوران جسٹس جاوید اقبال چیف جسٹس اور وزیر قانون اور دیگر ججوں کے گلے لگ کر روتے رہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ان کے والدین کے قتل کا اس وقت پتہ چلا جب ایک مہمان لاہور میں واقع ان کی رہائشگاہ پر ملنے آئے ، جسٹس جاوید اقبال قتل کے واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد رات کو ہی اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہو گئے ، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس خلیل الرحمن بھی جسٹس جاوید اقبال کے ہمراہ لاہور کیلئے روانہ ہوئے جسٹس جاوید اقبال کو بذریعہ طیارے کے لاہور کیلئے روانہ ہونا تھا تاہم دھند کی وجہ سے طیارہ نہ اڑ سکا جس کے بعد جسٹس جاوید اقبال سڑک کے ذریعہ ہی لاہور کیلئے روانہ ہو گئے۔ دریں اثناء وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، صدر آصف زرداری، متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین ، وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما قادر خان مندوخیل ایڈوکیٹ اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل پر شدید الفاظ میں مذمت کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کو کھلی دہشتگردی قرار دیا ہے۔ انہوں صدر، وزیراعظم اور وزیرداخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔ الطاف حسین نے جسٹس جاوید اقبال سمیت مرحوم کے تمام سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیو ایم کے تمام کارکنان آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ الطاف حسین نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومین کو اپنی جواررحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور سوگوران کو صبر وجمیل عطا کرے۔
جسٹس جاوید اقبال کے والدین پر قتل سے قبل تشدد کی گیا، پوسٹمارٹم رپورٹ
لاہور…سپریم کورٹ کے جج جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کو آج بعد دوپہر لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔دوسری جانب جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والدین کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے ،مقتولین کے جسم پر تشددکے نشانات بھی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ مقتولین کی موت چار سے پانچ بجے شام کے درمیان ہوئی ۔جسٹس جاوید اقبال کے مقتول والد عبدالحمید کے ہونٹ پر زخم کانشان ہے جبکہ ان کی والدہ زرینہ بی بی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اورسینے پر زخم کانشان ہے ۔مقتول عبدالحمید کامعدہ کھانے سے بھراہواتھااوران کی اہلیہ کامعدہ خالی تھا۔ذرائع کے مطابق مقتولین کی فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ پندرہ سے بیس روز کے بعد کیمیکل ایگزامنرجاری کریگا۔ اس سے پہلے ڈیڈ ہاؤس سے ان کی لاشیں جاوید اقبال کے چھوٹے بھائی کرنل( ر) سعید احمد کے گھر111 ای عسکری فائیو میں لے جائیں گے۔ افسوس کیلئے آنیوالوں کیلئے ٹینٹ لگادیئے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔جاوید اقبال کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ جاوید اقبال اپنی اہلیہ کے ہمراہ صبح ساڑھے پانچ بجے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ ملک عبدالمجید اور ان کی اہلیہ کی لاشیں پیر کی شام پر اسرار حالت میں پائی گئی تھیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور آئی جی پنجاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ فارینزک ٹیم اور پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے بھی دورہ کیا۔پولیس کے مطابق واقعہ ڈکیتی میں مزا حمت لگتا ہے ۔وزیر قانون کے مطابق جاوید اقبال گمشدہ افراد کے کیس کی سماعت کر رہے تھے یہ سبب بھی ہوسکتا ہے۔کرنل ر یٹائرڈسعید احمد کی درخواست پر تھانہ فیکٹری ایریا میں نامعلوم افراد کے خلاف اقدام قتل کا پرچہ درج کرادیا گیا ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی بن گئی ہے۔
جسٹس جاوید اقبال لاپتہ افراد سمیت کئی اہم کیسز کی سماعت کررہے ہیں
اسلام آباد…سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے مختلف بنچز میں اہم نوعیت کے کئی مقدمات زیر سماعت ہیں ، جسٹس جاوید اقبال چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم ان بنچز میں بھی شامل رہتے ہیں جہاں ایسی ہی اہم نوعیت کے مقدمات پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ دیدار شاہ کے بطور چیئرمین نیب تقرر کے خلاف درخواستوں کے مقدمہ کی سماعت جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی چار رکنی بنچ میں جاری ہے ، آج بھی اس مقدمہ کی سماعت مقرر تھی ، حج انتظامات میں کرپشن اسکینڈل کیس کی سماعت کرنیوالے عدالت عظمیٰ کے سات رکنی اسپیشل بنچ میں بھی جسٹس جاوید اقبال شامل ہیں ، پورٹ قاسم اتھارٹی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ کررہا ہے ، سابقہ مشرف دور حکومت سے ملک بھر کے مختلف علاقوں سے لاپتا ہونیوالے افراد کی بازیابی کے مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ کرتا ہے ۔گزشتہ پیر کو اسی مقدمہ کی سماعت میں جسٹس جاویداقبال نے ریمارکس دیئے تھے کہ یہ سال ، لاپتا افراد کی بازیابی کا سال ہوگا، اس بنچ نے لاپتا افراد کے کمیشن کی تجاویز کی روشنی میں حکومت کو کہا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں پر کنٹرول سے متعلق قانونی سازی پر غور کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی اہلیت کیخلاف دائر مقدمہ کی سماعت ، جسٹس جاویداقبال کی سربراہی میں قائم بنچ نے ہی کرنا ہے،اس کے علاوہ دیوانی اور فوج داری نوعیت کے متعدد مقدمات ، جسٹس جاوید اقبال کی عدالت میں زیر التوا ہیں۔
جسٹس جاوید کے والدین کا قتل آزاد عدلیہ کو پیغام ہے، انورمنصور
کراچی …جسٹس جاوید اقبال کے والدین کے قتل کیخلاف سندھ ہائی کورٹ بار اور ججز کا مشترکہ تعزیتی اجلاس ہوا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور منصور خان نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے والدین کا قتل اسی زمرے میں آتاہے ،تعزیتی ریفرنس میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس سجاد علی شاہ سمیت دیگر ججزاور وکلا نے شرکت کی ۔تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ بار اور بینچ بلا خوف و خطر انصاف کی فراہمی کی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ جسٹس جاوید اقبال کے غم میں بار اور بینچ برابر کے شریک ہیں تعزیتی ریفرنس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ حکومت عوام ، وکلا اور ججز کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے ۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسے اقدام کئے جائینگے عوام ججز اور وکلا کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ،اورقاتلوں کو گرفتار کرکے سزادی جائے ۔ انور منصورخان نے کہا کہ واقع سے اندازہ ہورہا ہے کہ آزاد عدلیہ کو کوئی پیغام دیا گیا ہے ، ہم دہشت گردی سے ڈرنے والے نہیں اگر کوئی پیغام دینا چاہتا ہے تو یاد رکھے وکلا اور ججز انصاف کی فراہمی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے
وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لےلیا۔
.jpg)
اسلام آباد(اردونیوزمیگزین رپورٹ/6فروری 2011)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کیا جانے والا حالیہ اضافہ واپس لے لیا ہے،قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہو ئے انہوں نے کہا ہے کہ یکم نومبر سے31دسمبر تک پیٹرولیم مصنوعات کی جو قیمتیں تھیں انہیں قیمتوں کو بحال کرتے ہیں ۔انہوں نے اے این پی کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہو ئے ایوان کو بتایا کہ اسفند یار ولی نے پارلیمانی سربراہوں کو قائل کیا کہ اس ایشو پر بات کی جائے اور اس معاملے کو حل کیا جائے لیکن گورنر پنجاب کے قتل کے سوگ میں 3دن کے لئے تمام مصروفیات منسوخ کر دی گئی تھیں اور آج ہی یہ معاملہ حل کر نے کیلئے اقتصادی صورت حال پر بریفنگ دی گئی جس کے بعداس معاملے کے حل کا اعلان کرتے ہیں۔
جنرل کیانی کو امریکا پر بھروسہ ہے نہ اس کی افغان پالیسی پر ، امریکی اخبار
.gif)
واشنگٹن(2جنوری 2011) …ایک امریکی اخبارکا کہنا ہے کہ امریکی حکام سمجھتے ہیں نتیجہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی دے سکتے ہیں لیکن انہیں امریکا پر بھروسہ ہے نہ اس افغان پالیسی پر ، ایسے میں امریکا کو با اعتبار بننے کیلئے ایماندارانہ پیشرفت کرناہوگی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان کی طاقتور ترین شخصیت جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بے شمار لیکچرز دیے،چائے پی ، گالف کھیلی ،دعوتیں دیں اور ہیلی کاپٹروں میں لیکر بھی گئے مگر وہ انھیں امریکا کی نئی افغان پالیسی پر عمل درآمد کیلئے قائل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔امریکی اخبار اس کی یہ وجہ بتاتاہے کہ جنرل کیانی کو امریکا پر بھروسہ نہیں اور نہ وہ اس کی افغان پالیسی پرعملدرآمد کا کوئی خطرہ مول لینا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنرل کیانی نے طالبان اور القاعدہ کیخلاف آپریشن کر کے حیران کن نتائج حاصل کئے جس پر امریکا نے پاکستان کی فوجی امداد بھی بڑھا دی،لیکن وہ شمالی وزیرستان میں زمینی آپریشن نہیں کر رہے۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ جب زیادہ نفری ہوئی تو وہ آپریشن کریں گے جو اس وقت بھارت کی بارڈر پر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی اب تک کے سب سے زیادہ بھارت مخالف فوجی سربراہ ہیں۔امریکا جن شورش پسندوں کو جلد سے جلد ختم کرناچاہتاہے پاکستان ان عناصر کو بھارت کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کیلئے بالواسطہ استعمال کرتاآیا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل کیانی جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے خاتمے پر بات کرتے ہیں جبکہ امریکا ڈرون حملوں کی بات کرتاہے ۔جنرل کیانی کوشبہ ہے کہ ایک بارامریکا نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے تو پاکستان کوجوہری اسلحے سے مسلح بھارت کیخلاف بے یارو مددگارچھوڑدیگا۔ اخبار کے مطابق جنرل کیانی صدرزرداری اور وزیراعظم گیلانی سے زیادہ کھل کر ملکی سکیورٹی کی حکمت پر بات کرتے ہیں ۔انھوں نے صدر اوباما اور امریکی ملٹری کمانڈروں کی براہ راست اپیلوں پر مزاحمت بھی کی ہے۔ ایسے وقت جب اوباما انتظامیہ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا پھل دیکھنا چاہتی ہے ۔بعض عہدیدار سمجھتے ہیں امریکا اب یہ بات تسلیم کرتاہے کہ درخواستیں اور امداد جنرل کیانی کے خیالات تبدیل نہیں کر سکتے ۔امریکی ایڈمرل مائیک مولن اور رچرڈ ہالبروک کی زیادہ ترتفصیلی ملاقاتیں جنرل کیانی کے ساتھ ہی ہوئیں اور دونوں اسی نتیجے پر پہنچے کہ اگر امریکاچاہتاہے کہ جنرل کیانی اس پر اعتبار کریں تو اس کے لیے امریکا کو دہشت گردوں کیخلاف جنگ میں ایماندارانہ پیش رفت کرنی ہوگی ۔یہی نہیں اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھلے وہ پاکستان کی کمزور سویلین قیادت کی حمایت کرتی ہے لیکن اصل شخصیت جنرل اشفاق پرویز کیانی ہی ہیں جو نتیجہ دے سکتے ہیں ۔
جنداللہ کےکالعدم تنظیموں سےمضبوط رابطے

لاہور(اردونیوزمیگزین رپورٹ)
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ایران کی کالعدم تنظیم جند اللہ کے پاکستان کی تین کالعدم تنظیموں کے ساتھ مضبوط رابطے ہیں اور یہ تنظیمیں شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ملوث ہیں۔
جمعہ(17دسمبر) کو اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ایران نے جند اللہ سے متعلق معلومات پاکستانی حکومت کو دی ہیں اور اس ضمن میں ایران سے اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں مزید شواہد اور معلومات دینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان میں جن کالعدم تنظیموں کے ساتھ جند اللہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کا رابطہ ہے اُن میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لیبریشن آرمی اور لشکر جھنگوی شامل ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ایران نے جند اللہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے اور اس ضمن میں پاکستانی حکومت نے ان افراد سے متعلق ایرانی حکام سے مزید معلومات مانگی ہیں۔
شدت پسند خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور خطے کے ممالک کو ان شدت پسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا
رحمان ملک
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے ایران میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق رحمان ملک کا کہنا تھا کہ شدت پسند خطے میں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں اور خطے کے ممالک کو ان شدت پسندوں کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں توقعات سے بڑھ کر کام کیا ہے اور اس شدت پسندی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھی اس ضمن میں پاکستانی کاوشوں کو تسلیم کرتی ہے۔
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اگرچہ عبوری چالان اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے تاہم اس قتل کی سازش میں ملوث اصل کرداروں کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔
امریکا یا اتحادی فوج کو ملک میں دفاتر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جنرل کیانی کی زیرصدارت فارمیشن کمانڈز کانفرنس
راولپنڈی(آن لائن) پاک فوج کے فارمیشن کمانڈرز کا اہم اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کئی گھنٹے تک جاری رہا اور اس میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن سرحدوں کی صورتحال سمیت فوج کی تربیت کے اُمورپربات چیت کی گئی۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں سماجی ترقی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں گے۔ عسکری ذرائع کے مطابق کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر امریکی یا عالمی اتحادی فوج کو دفاتر قائم کرنے یا زمینی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائیگی، پاکستان کا دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون باہمی عزت و احترام اور جغرافیائی اور سالمیت کے تحفظ اور دفاع کے اصولوں پر مبنی ہے اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشن اور پاک فوج کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ ملک کے دفاع کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیاجائیگا۔ دہشتگردی کے مکمل قلع قمع کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
صدر اوباما پاکستان کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتے ہیں، امریکی دستاویز
اسلام آباد/ منظرعام پر آنیوالی خفیہ امریکی دستاویزات کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما ذاتی طورپر پاکستان کو ایک ڈراؤنا خواب سمجھتے ہیں انہیں خدشہ ہے کہ ایک دن جب دنیا نیند سے جاگے گی تو اسے یہ حیران کن خبر سننے کو ملے گی کہ دہشت گردی کیخلاف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ملک پر انتہاپسندوں کا قبضہ ہوگیا ہے ۔ امریکی صدر اگرچہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کیخلاف جنگ سے اجتناب کے باعث دنیا بھر میں امریکہ کا تاثر ایک کمزور سپرپاور کے طورپرابھررہا ہے لیکن ایران پرحملہ نہ کرنے کاایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ اس اقدام سے پاکستان میں جنگجوؤں کو فروغ ملے گاتاہم ان کو یقین ہے کہ شمالی کوریا سے امریکہ پر تنقید بھی کم ہوگی اور اس سے ایٹمی طاقت کے حصول کے خواہشمند ملکوں کو سبق آموز پیغام بھی ملے گا ۔ وکی لیکس کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق امریکی صدر نے پاکستان کے بارے میں خدشات کا اظہار امریکی سینیٹر کوؤل کیسی اور امریکی کانگریس کی غیر ملکی تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ اور رکن کانگریس ایکرمین کے دورہ اسرائیل سے قبل ملاقاتوں میں گزشتہ برس کیا اس وفد نے گزشتہ سال اسرائیلی وزیر دفاع ایہود بارک سے ملاقات کے دوران جب انہیں بتایا کہ ایران پرحملے سے پاکستان کے اعتدال پسند مسلمان بھی برانگیختہ ہوجائیں گے جس سے صورتحال مزید اشتعال انگیز ہوجائے گی توایہود بارک نے یہ تسلیم کیا کہ ایران اور پاکستان مشترکہ سرحدیں رکھتے ہیں تاہم اس اقدام کے سبب پاکستان میں ردعمل سے انکار کیا اس کے برعکس صدر اوباما نے یہ دلیل دی کہ اگرامریکہ شمالی کوریا پر براہ راست حملہ آور ہوجائے تو اس سے ایٹم بم کے حصول کے خواہشمند دیگرملکوں کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ اس پر اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ محاذ آرائی سے اجتناب کیا گیاتو اس سے خطے میں امریکہ کو ایک کمزور سپرپاور سمجھاجائے گا ۔
پارلیمنٹ اورمسجد سمیت اہم شخصیات پرخودکش حملے کی سازش ناکام، خودکش حملہ آور اور منصوبہ بنانے والا وکیل گرفتار
اسلام آباد /وفاقی پولیس نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس سمیت سرکاری عمارتوں، مسجد اور اہم شخصیات پر حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے خود کش حملہ آور اور منصوبہ بنانے والے وکیل کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹ برآمدکرلیا ہے، ملزموں کا تعلق بنوں سے بتایا گیا ہے۔ واقعے کے بعدوزیر داخلہ رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس میں اسلام آباد کے ریڈ زون میں پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں داخلے کیلئے شناختی کارڈ لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان دونوں دہشتگردوں کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے خود کش جیکٹس اور دیگر بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہے ان دونوں دہشتگردوں کو تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے دہشتگردوں کی گرفتاری کی اطلاع فوری طورپر وزیرداخلہ رحمن ملک کو دی گئی جنہوں نے ہنگامی طورپر وزارت داخلہ میں سکیورٹی اداروں کا اجلاس بلایا اور اس اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کے مطابق پکڑے گئے ایک دہشتگرد مشتاق کا تعلق بنوں سے ہے اور وہ ایف ایٹ ون میں ایک مسجد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا جبکہ دوسرا دہشتگرد پارلیمنٹ ہاؤس اور اسکے اردگرد کے علاقے میں کارروائی کرنا چاہتا تھا ۔رینجرز اور ایف سی کی خدمات بھی پارلیمنٹ ہاؤس اور اہم تنصیبات کی حفاظت کیلئے حاصل کی گئیں ہیں۔ دریں اثناء نمائندہ جنگ کے مطابق حملہ آور ایف ایٹ تھری میں واقع سیدنا علی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ کرنا چاہتے تھے۔ حملہ آوروں کے نام عدنان خان ولد انعام اللہ اور نعیم اللہ خان ولد عزیز اللہ بتائے جاتے ہیں تھانہ منڈاں بنوں کے رہائشی یہ خودکش حملہ آور بلوچی پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز بنیامین کو خفیہ اداروں سے اطلاع ملی تھی کہ ایف ایٹ تھری اسٹریٹ 43 اسلام آباد میں واقع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکہ کیلئے دو خودکش بمبار اسلام آباد میں داخل ہو گئے ہیں ۔جس پر ایک مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی جس نے خفیہ طریقے سے ناکہ بندی کر کے خود حملہ آوروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا اور انہیں مسجد میں پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر کے ایک خودکش جیکٹ برآمد کر لی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مسجد سیدنا علی میں 2008ء سے امامت کا جھگڑا چلا آ رہا ہے مسجد کمیٹی اور اہل محلہ نے باہمی مشاورت کی بنا پر سابقہ خطیب قاری منیر کو مسجد سے نکال کر امامت قاری صالح محمد کے حوالے کر دی تھی خودکش بمبار گروپ کی ہمدردیاں قاری منیر کے ساتھ تھیں اور اس رنجش کی بنا پر وہ نماز جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکا کرنا چاہتے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خودکش بمباروں کے قبضہ سے ملنے والی جیکٹ میں 5 کلو گرام دھماکہ خیز بارود بھرا ہوا تھا، ذرائع کے مطابق خودکش حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا ملزم نعیم اللہ وکیل ہے جو پہلے بنوں میں پریکٹس کرتا تھا اور پچھلے چند ماہ سے اسلام آباد کچہری میں پریکٹس کر رہا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید کلیم امام نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے دہشت گردی کا ایک اور واقعہ ناکام بنا کر شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کا فرض ادا کیا۔ انہوں نے افسروں اور جوانوں کے لئے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا بھی اعلان کیا ہے۔
میانمار:آنگ سان سوچی 21سال بعد رہا
.jpg)
ینگون(اردونیوزمیگزین رپورٹ/13نومبر2010)میانمارمیں حزب اختلاف کی نظربندرہنما آنگ سان سوچی آج نظربندی کی مدت ختم ہونے کے بعد رہا ہوگئیں،21سا ل سے مقید سوچی رہائی کے پروانے پر دستخط ہونے کے بعد آج رہا کردی گئیں۔امن کا نوبل انعام پانے والی آنگ سان سوچی مجموعی طور پر اکیس برس سے عوام سے دور رہیں جن میں سات برس سے وہ اپنے گھر میں نظر بندتھیں۔ ان کے پارٹی کارکن آج صبح ہی سے پارٹی ہیڈکوارٹر کے اندراور باہر بڑی تعداد میں موجود تھے جو ان کی رہائی کے مطالبات کے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھے۔ آنگ سان سوچی کی رہائی کی اطلاع ملتے ہی ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔اس موقع پر پارٹی کارکنوں نے نعرے لگائے۔ آنگ سان سوچی نیلسن منڈیلا کے بعد دوسری عالمی شخصیت ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصہ قید و بند کی صعوبتیں گزاریں۔
حکومت ٹیکس اصلاحات اورسرکاری اداروں کی تشکیل نو میں ناکام رہی، مالی خسارہ اور مہنگائی بڑھ رہی ہے، اسٹیٹ بینک

کراچی (اردونیوزمیگزین رپورٹ )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ معیشت کا بنیادی اسٹرکچر کمزور ہے اور اس میں کوئی بہتری نہیں آئی۔اور یہ کمزوریاں جوں کی توں برقرار ہیں۔جس کے باعث معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اہم اصلاحات کا بھرپور طریقے سے آغاز نہیں ہوسکا ہے۔مسلسل اختلافات کی وجہ سے وسیع البنیاد جی ایس ٹی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو ملتوی کرنا پڑا۔کارکردگی بہتر بنانے اور مالیاتی بوجھ کم کرنے کے لئے سرکاری شعبے کے اداروں کی مجوزہ تشکیل نو نہ ہوسکی اور نہ ہی تونائی کے شعبے کے قرضے کا سلسلہ (سرکلر ڈیٹ)یا بجلی کی فراہمی میں نمایاں بہتری لانے میں کوئی پیش رفت ہوسکی۔یہ بات اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیرکو جاری کردہ سالانہ رپورٹ2010 میں کہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال 2009.10 میں جی ڈی پی کی شرح 4.1 فیصد رہی۔تاہم موجودہ مالی سال کے دوران کم پر کم ہوکر 2 سے 3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔سالانہ گرانی اور جاری حسابات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی سال کے دوران تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے آنے والے منفی اثرات نے بشتر موجود مالیاتی ڈھانچے مزید کمزور کردیا ہے۔اور ان کوصیح کرنے کے لئے معاشی انضباط میں بہتری لانے کے ساتھ مسلسل اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔اسٹیٹ بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ کہ موجودہ مالی سال کے دوران بشتر معاشی اہداف صاحل نہیں ہوسکیں گے۔جی ڈی پی کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ شرح 2 سے 3 فیصد کے درمیان ہوگی جبکہ اسطرح افراط زر کی شرح کا ہدف 9.5 فیصد رکھا گیا ہے جبکہ افراط زر کی شرح 13.5 سے 14.5 فیصد ہوگی۔مالیاتی خسارے کا ہدف4 فیصد کا ہدف کے بجائے خسارہ5 سے 6 فیصد کے درمیان ہوگا۔رواں سال کا خسارے کا ہدف 3.4 فیصد رکھا گیا ہے۔جبکہ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ 3 سے 4 فیصد تک ہوگا۔سمندر پارپاکستانیوں کی جانب سے 9.5 سے 10.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ آئے گا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ بدترین سیلاب کے باعث مالی سال 2010-11کے متعدد معاشی اہداف کو ابتداہی میں سنگین دھچکا لگا ہے ۔ حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2 سے 3 فیصد رہنے جبکہ سالانہ اوسط گرانی 13.5 سے 14.5 فیصد اور مالیاتی و جاری حسابات کا خسارہ جی ڈی پی کا 5.0 سے 6.0 فیصد اور جی ڈی پی کے 3.0 فیصد سے 4.0 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اہم ترین ساختی مسئلہ کمزور مالیاتی کارکردگی کا تھا۔ مالیاتی خسارہ دوبارہ بڑھ کر جی ڈی پی کا 6.3 فیصد ہو گیا یعنی گذشتہ سال سے 1.1 فیصدی درجے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2010ء کی مالیاتی کارکردگی کچھ اس طرح رہی کہ مالیاتی اور نیم مالیاتی کارروائیوں میں مسلسل توسیع ہوئی جس کے باعث نجی شعبے کی سرگرمیوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہی، مستقل دو ہندسی گرانی کو تقویت ملی اور مالی سال 10ء (FY10) میں مجموعی سرکاری قرضے بڑھ کر جی ڈی پی کے 69.5 فیصد ہو گئے جبکہ مالی سال 09ء (FY09) میں یہ جی ڈی پی کے 68. |