اللہ کے دین میں فوج در فوج داخلہ

جیسا کہ ہم نے عرض کیا غزوۂ فتح مکہ ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے بُت پرستی کا کام تمام کردیا اور سارے عرب کے لیے حق وباطل کی پہچان ثابت ہوا، اس کی وجہ سے ان کے شبہات جاتے رہے، اسی لیے اس کے بعد انہوں نے بڑی تیز رفتاری سے اسلام قبول کیا۔

حضرت عَمرو بن سَلمہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ ایک چشمے پر (آباد ) تھے، جو لوگوں کی گزرگاہ تھا، ہمارے ہاں سے قافلہ گزرتے رہتے تھے اور ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ یہ آدمی … یعنی نبی ﷺ کا کیا حال ہے؟ اور کیسا ہے؟ لوگ کہتے: وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اسے پیغمبر بنایا ہے، اس کے پاس وحی بھیجی ہے، اللہ نے یہ اور یہ وحی کی ہے، میں یہ بات یاد کرلیتا تھا، گویا وہ میرے سینے میں چپک جاتی تھیں۔

اور عرب حلقہ بگوش اسلام ہونے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے، کہتے تھے: اسے اور اس کی قوم کو (پنجہ آزمائی کے لیے ) چھوڑ دو، اگر وہ اپنی قوم پر غالب آگیا تو سچا نبی ہے، چنانچہ جب فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا تو ہر قوم نے اپنے اسلام کے ساتھ (مدینہ کی جانب ) پیش رفت کی اور میرے والد بھی میری قوم کے اسلام کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب (خدمت ِ نبوی ﷺ سے ) واپس آئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس اللہ کی قسم ایک نبیٔ برحق کے پاس سے آرہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ امامت کر ے۔( صحیح بخاری ۲/۶۱۵، ۶۱۶)

اس حدیث سے اندازہ ہوتا ہے کہ فتح مکہ کا واقعہ حالات کو تبدیل کرنے میں، اسلام کو قوت بخشنے میں، اہلِ عرب کا موقف متعین کرانے میں اور اسلام کے سامنے انہیں سپر انداز کرنے میں کتنے گہرے اور دور رس اثرات رکھتا تھا، یہ کیفیت غزوہ تبوک کے بعد پختہ سے پختہ تر ہوگئی، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان دو برسوں – ۹ ھ اور ۱۰ ھ – میں مدینہ آنے والے وفود کا تانتا بندھا ہواتھا اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہورہے تھے، یہاں تک کہ وہ اسلامی لشکر جو فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار سپاہ پر مشتمل تھا اس کی تعداد غزوۂ تبوک میں (جبکہ ابھی فتح مکہ پر پورا ایک سال بھی نہیں گزرا تھا ) اتنی بڑھ گئی کہ وہ تیس ہزار فوجیوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر میں تبدیل ہوگیا، پھر ہم حجۃ الوداع میں دیکھتے ہیں کہ ایک لاکھ ۲۴ ہزار یا ایک لاکھ چوالیس ہزار اہلِ اسلام کا سیلاب امنڈ پڑا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے گرداگرد اس طرح لبیک پکارتا، تکبیر کہتا اور حمد وتسبیح کے نغمے گنگناتا ہے کہ آفاق گونج اٹھتے ہیں اور وادی وکوہسار نغمۂ توحید سے معمور ہو جاتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں