اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا

قاضی ابو بکر عبداللہ بن احمد قفال بغداد کے بہت مشہور عالم ِ دین اور قاضی تھے ۔ ان کے ایک شاگرد قاضی حسین کہتے ہیں :

ایک دفعہ میں قاضی فقال کے پاس تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور شکایت کی کہ سلطان کے کچھ لوگ اس کا گدھا چھین کر لے گئے ہیں ۔

قاضی فقالؒ نے اس شخص سے کہا :

جاؤ غسل کرو ، مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تمہارا گدھا واپس لوٹا دے ۔ دیہاتی بڑا حیران ہوا کہ قاضی صاحب مجھے میرا حق دلانے کے بجائے کس طرح کا مشورہ دے رہے ہیں ۔ اگر یہی کرنا تھا تو عدالت میں آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس نے دوبارہ مطالبہ پیش کیا :

مجھے میرا گدھا واپس دلوایا جائے ۔ امام فقال نے دوبارہ وہی جواب دیا ۔ دیہاتی ان کی اس تجویز ہر عمل کرنے کے لیے چلا گیا ۔

اس کے جانے کے بعد فقال نے اس کا گدھا لانے کے لیے ایک شخص کو بھیج دیا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلنے لگا تو اس نے دیکھا کہ اس کا گدھا بھی مسجد کے دروزے پر موجود ہے ، وہ کہنے لگا :

اللہ کا شکر ہے جس نے میرا گدھا واپس دلا دیا .

جب وہ دیہاتی چلا گیا تو فقال سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟

قاضی صاحب نے جواب دیا :

میں اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا چاہتا تھا ، تاکہ وہ ہمارا شکریہ اد کرنے کی بجائے ، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں