بالآخر عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دیا

سینٹ الیکشن کے بعد سے مسلسل ایسا لگ رہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ (عدلیہ ، فوج اور بیوروکریسی ) کی حرکتوں کے باعث عمران خان کو اسمبلیاں توڑ کر عوام کی عدالت میں جانا ہو گا کیونکہ بلیک میل ہو جانا خان کی فطرت نہیں ہے۔ احتساب پہ کمپرومائز تو ممکن ہی نہیں ہے۔ موجودہ نظام کی ایکسپائری ڈیٹ آ چکی ہے۔ عمران خان کی مسلسل خاموشی صرف ایک وجہ سے تھی اور وہ اس لیے کہ اس وقت معیشت ایک بہترین ٹریک پہ چل رہی ہے اور عمران خان اس عمل کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتا۔

لیکن سینٹ الیکشن کے بعد پہ در پہ جو واقعات ہو رہے ہیں ، مریم کو باہر بھیجنے کے چکر میں اور احتساب کر نعرے کو ڈسکریڈٹ کرنے کےلیے تمام اشرافیہ جس طرح میدان میں اتری ہے ۔ ایسے میں واحد حل اسمبلیاں تحلیل کر کے فیصلہ عوام کو سپرد کرنا ہی ہے۔ آج اسد عمر کے ذریعے اسٹیبلیشمنٹ اور قوم کو پیغام دے دیا گیا ہے ۔ بڑا واضح اعلان ہوا ہے۔ آج عمران خان کی دن کو تقریر بھی اہم تھی جس میں انھوں نے اپنی ماضی کی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے نئی حکمت عملی کی بات کی ۔ یہ بات اس نظام کو ٹھپنے اور نئے الیکشن کی تیاری کی چغلی کر رہی تھی (جس کا ذکر پچھلی پوسٹ میں کیا بھی تھا ) لیکن اب اسد عمر نے اعلان کر دیا ہے ۔

انھوں نے کہا ہے کہ اسمبلیاں کسی بھی وقت توڑی جا سکتی ہیں۔ اگر کام میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اب ہمارے پاس یہی آخری آپشن ہے۔عمران خان حکومت میں صرف طاقت کے حصول کیلئے نہیں آئے ، اگر انہیں اپنے منشور پر عملدرآمد کا فری ہینڈ نہیں دیا گیا تو وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے۔

آج سب کو واضح کر دیا گیا ہے کہ یا تو حکومت کو اس کی مرضی سے چلنے دیا جائے ورنہ اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔ یقیناً یہ دو ٹکے کے سرکاری ملازم بائس کروڑ عوام کے منتخب نمائندہ کو بلیک میل نہیں کر سکتے۔ اب یا تو ہم صدارتی نظام کی جانب بڑھیں گے یا عمران خان دو تہائی اکثریت لیکر دوبارہ سے پاور میں آئیں گے اور اپنی مرضی کی قانون سازی کر کے اشرافیہ کو لگام ڈالیں گے۔ اب یہ اشرافیہ کہ مرضی پہ ہے کہ یہ عمل اس وقت ہوتا ہے یا مدت پوری ہونے کے بعد اگلی ٹرم میں ہو گا ۔ اسد عمر نے کہا ہے کہ یہ عمل کسی بھی وقت ہو سکتا ہے ۔ ابھی ، چھے ماہ بعد ، سال بعد یا دو سال بعد ۔۔ جو بھی ہو پچیس سالہ جدوجہد کا سب سے اہم وقت آ چکا ہے۔ اب قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اس بوسیدہ نظام اور اس کرپٹ سسٹم کے ساتھ کھڑی ہو گی یا عمران خان کے ساتھ ۔۔ ۔ قوم ہی فیصلہ کرے گی کہ اسے عارضی طور پہ دس روپے سستی چینی چاہیے یا مکمل خسارے ختم ہونے کے بعد مہنگائی کا خاتمہ چاہیے اور آنے والی نسلوں کا بہترین مستقبل چاہیے۔

خساروں کی بات کریں تو دیگر اربوں ڈالر کے خساروں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ حکومت نے سٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کے 287 بلین کے خساروں کو تقریباً آدھا کر کے 143 بلین پہ لے آئی ہے۔ چند انتہائی خسارے میں موجود اداروں کی نجکاری کے بعد بڑا بوجھ ٹل جائے گا ۔ تقریباً چھبیس بلین ڈالر کے قرضے واپس کیے گئے ہیں ۔ ایکسپورٹ ، ترسیلات زر ، کرنٹ اکاؤنٹ ، ۔۔۔۔۔۔ معیشت کے تمام فیکٹرز انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور ہم اس وقت بہترین ٹریک پہ ہیں۔ اگلے دو سے تین سال میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین دور شروع ہونے والا ہے۔ یہ صرف دعویٰ نہیں بلکہ معاشی فیکٹرز چیخ چیخ کر یہی بتا رہے ہیں ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں