بدترین جمہوریت سے مارشل لاء لاکھوں گنا بہتر

اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت میں عام آدمی کو رگڑا جاتا ہے جبکہ مارشل لاء میں نامراد سیاست دانوں, نامراد ارکان پارلیمنٹ, نامراد بیوروکریٹس, وکلاء اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں, بڑے بڑے نامراد تاجروں (یعنی عام آدمی کو رگڑنے والوں) کو رگڑا جاتا ہے 💪
👇👇👇
اگر آپ کسی کینٹ ایریا ( چھاؤنی) کا وزٹ کریں۔ تو صفائی ۔ آئیڈیل سڑکیں ۔ پارکس ۔ ہسپتال ۔ جوگینگ ٹریکس ۔ پلے گراؤنڈز ۔بچوں اور خواتین کی پروٹیکشن ۔ سکون ۔ عزت نفس کی حفاظت ۔ معیاری علاج کی سہولیات ۔ معیاری تعلیم کی سہولیات ۔ الغرض ہر آئیڈیل سہولت موجود ہے۔

پتہ ہے کیوں ؟
اس لئے کہ وہاں آمریت ہے ۔

اب ذرا آئیے دوسری طرف ۔
ٹوٹی سڑکیں ۔ بند گٹر ۔ بڑے شہروں میں لاکھوں ٹن کچرا ۔ تجاوزات ۔ صحت و تعلیم کی سہولیات کا فقدان ۔ پلے گراؤنڈز ندارد ۔ تھانوں میں غنڈہ راج ۔ پٹوار کلچر ۔ آئے روز بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ۔ بچے اور خواتین غیر محفوظ ۔ اقربا پروری اور کرپٹ مافیا کا راج ۔ بے ہنگم ٹریفک ۔ انصاف ندارد ۔ ہر بنیادی سہولت کا فقدان ۔

اور پھر جمہوریت کے عدالتی نظام کو دیکھ لیں کہ ایک حکمران کے بیٹے کو چھٹی والے دن بھی ضمانت مل جاتی ہے جبکہ لاہور کے ایک پان والے (یعنی عام آدمی) کی تین دن کی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ ہوتے ہوتے پانچ سال گزر جاتے ہیں.

پتہ ہے کیوں ؟
اسلیے کہ کینٹ سے باہر جمہوری حکومت کا کنڑول ہے ۔

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں ۔
جو ہوتا ہے وہ دکھتا نہیں ۔

اب سوال یہ بنتا ہے کہ “سول حکومت” کو کس جرنیل نے عوامی بہبود ۔ اور عوام کا معیار زندگی بہتر کرنے سے روکا ہے ۔ کیا عوامی فنڈز GHQ سے سائین ہو کر آتے ہیں ۔ کیا عوام سے متعلق پالیسیاں پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان نہیں بناتے؟

سیاستدانوں نے اس بات کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے کہ کرسی تک پہنچتے کیلئے شارٹ کٹ اور چور دروازے استعمال کرتے ہیں پھر انتظامی امور چلانے میں فیل ہونے اور اپنی بد دیانتیوں کو چھپانے کیلئے مداخلت کا شور ڈال دیتے ہیں ۔
یہ بات ذہن میں محفوظ کر لیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ انٹرنیشنل افیئرز بیرونی روابط دوست اور دشمن ملکوں کے معاملات ہنڈل کرنے میں مداخلت کرتی ہیں ۔ اور ان معاملات کا عوامی بہبود سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ۔
پوری دنیا کی حکومتیں انکی اسٹیبلشمنٹ ہی کنٹرول کرتی ہیں ۔ فرق صرف یہ ہے کہ انکے سیاستدان باکردار اور بےضابطگیوں سے پاک ہوتے ہیں اس لئے انہیں کوئی بلیک میل نہیں کر سکتا ۔

وقت آ گیا ہے کہ سیاستدانوں سے انکی کارکردگی کے بارے میں پوچھا جائے ۔ جو کارکردگی نہ دکھا سکے اسے جلد سے جلد کھڈے لائن لگایا جائے ۔

سول حکومت کا انفراسٹرکچر بدنظمی ۔ رشوت ۔ کرپشن ۔چوری۔ حق تلفی ہر لحاظ سے ایک کباڑ خانہ بن چکا ہے ۔ اسے درست کرنا جرنیلوں کا نہیں سیاستدانوں کا کام ہے ۔

انکی ” سول سپرمیسی اور جمہوریت کے راگ سن سن کر عوام اکتا چکی ہے ۔ یہ لوگ اب ہمیں کسی فوجی چھاؤنی کے برابر ” ڈکٹیٹر شپ” والی سہولیات ہی مہیا کر دیں تو زندگی میں ٹھہراؤ آ جائے گا ۔ جمہوریت کو تب انجوائے کر لیں گے جب انہیں خود جمہوریت کی سمجھ آ جائے گی.

پاکستان میں عام آدمی کو آمریت سے نہ کبھی تکلیف پہنچی ہے اور نہ ہی کبھی پہنچے گی. البتہ فوجی قیادت بڑے بڑے مگرمچھوں کو لازمی تکلیف دیتی رہے گی.
پاکستان میں عام آدمی کا انتخاب مارشل لاء ہے جبکہ سیاست دانوں, بڑے بڑے مجرموں, ذخیرہ اندوزوں, منی لانڈرنگ کرنے والوں, ججوں, بدمعاش وکلاء, بےایمان تاجروں وغیرہ کا انتخاب بدبودار جمہوری نظام ہے.
اور آج کل عام آدمی (یعنی فوجیوں) اور جمہوری قوتوں (یعنی سیاست دانوں, بڑے بڑے مجرموں, ذخیرہ اندوزوں, منی لانڈرنگ کرنے والوں, ججوں, بدمعاش وکلاء, بےایمان تاجروں وغیرہ) کے درمیان جنگ شروع ہو چکی ہے. ان شاءاللہ اس جنگ میں عام آدمی کی جیت ہوگی اور ان شاءاللہ بہت جلد جمہوریت جیسی لعنت کو چیر پھاڑ کر پھینک دیا جائے گا.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں