برطانوی اخبار ڈیلی میل نے عمران خان کے بیان کے بعد ایک آرٹیکل لکھا

عمران خان ایک کٹر مسلمان ہے جو پاکستان میں اسلامی نفاذ چاہتا ہے یہ مغرب کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے اس لیے اس کی حکومت کا تختہ الٹنا ضروری ہوگیا ہے

عمران خان اندر سے سخت گیر اسلام پسند ہے بظاہر وہ دنیا کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اسلامی اقدار اسلامی شعار اور اسلامی طرز حیات کے بارے میں سخت گیر نہیں ہے

عمران خان پہلا پاکستانی وزیراعظم ہے جو حقیقی طور پر راسخ العقیدہ اسلامی ملک بنانا چاہتا ہے عمران خان کا کہنا ہے کہ خواتین کا لباس برائی اور بے حیائی کی طرف سوچ کو راغب کرتا ہے پھر یہ سوچ ایک باقاعدہ جرم کی شکل اختیار کرتی ہے اور جنسی واقعات میں اضافے کا باعث بنتی ہے

معاشرے میں اس قسم کے جرائم کی بڑی وجہ مرد و زن میں خلوت اور پھر خواتین اور مردوں کی علیحدگی کے اندر مجالس ہیں

وزیراعظم عمران خان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اسلامی لباس اور پردے سے بے حیائی عریانی جیسے فتنوں سے بچا جا سکتا ہے

مغرب عمران خان کی اس گہری سوچ اور خیالات کو دیکھ رہا ہے اسی وجہ سے عمران خان کو اچھا نہیں سمجھتا

مغرب عمران خان سے متاثر ہے ثقافت خان ہر حال میں اسلامی نظام کا احیاء چاہتے ہیں یہ پہلے پاکستانی وزیراعظم ہیں جو علماء کرام سے گہری قربت رکھتے ہیں ان کے اردگرد علماء کا قبضہ ہے جس میں پاکستان کے اندر بھی بہت تنقید ہوتی ہے

عورت مارچ کے خلاف اسلام پسندوں کا سخت ردعمل آیا اور جو عورت مارچ کا سخت ردعمل آیا عمران خان اس کی بھی حمایت کرتا ہے کہ خواتین کو اسلام مخالف نعرے نہیں لگانے چاہیے

اگر عمران خان اقتدار میں رہا تو پاکستانی معاشرے میں سخت گیر اسلامی معاشرے کو پروان چڑھایا جائے گا خواتین کا اسلامی لباس جبری طور پر پہنایا جائے گا

پھر جنوبی ایشیا میں سخت گیر اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا جائے گا جس سے پہلے ہی مغرب اور یورپ سمیت دنیا خائف ہے !!!

یہ ہیں وہ اصل حقائق میرے پاکستانیو جو میرے سوا تمہیں کوئی دوسرا نہیں بتائے گا

بی بی سی نے بھی یہی پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے انڈین میڈیا سمیت عالمی میڈیا میں بھی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جمائمہ خان کا بھی اچانک عمران خان کے خلاف ٹویٹ آ گیا ہے

پاکستان کے اندر لبرل طبقات بھی شروع ہو چکے ہیں ان شإاللہ جیت اس مرتبہ بھی ہمارے نظریۓ کی ہو گی

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں