بھارتی کورونا ویکسین” آسٹرا زینیکا“ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث

بھارت کی تیارکر دہ کورونا ویکسین” آسٹراز ینیکا“ پر عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور اسے فائدے کے بجائے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی انگریزی روزنامے ”اکنامک ٹائمز “ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارتی ویکسین خراب ہے جس سے فائدے کے بجائے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت نے مذکورہ ریکسین جنوبی افریقہ کو فراہم کی تھی اور جب وہاں کے محکمہ صحت کے حکام نے اسے چیک کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ اس ویکسین سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے جس کے بعد افریقہ نے بھارت کو ویکسین واپس لے جانے کیلئے کہا ۔ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت نے آسٹرا زینیکا آکسفورڈ ویکسین افغانستان کو بھی فراہم کی ہے اور جب وہاں کے فرانزک میڈیسن نے فوت ہو جانے والے ایک درجن سے زیادہ مردوں کے خون کے ٹیسٹ لیے تو انکا خون جما ہوا پایا گیا جس پر معلوم ہوا کہ انہیں بھارتیہ ساختہ ویکسین دی گئی تھی ۔ ادھر عرب نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ لوگوں کے دفاغ میں خون جمنے کی بنیادی وجہ آسٹرا زینیکا ویکسین ہے ۔ عرب نیوز نے لکھا کہ یورپی یونین کی ایک درجن سے زیادہ ریاستوں نے دماغ میں خون جمنے کے تیس فیصد سے زائد واقعات کے بعد بھارتی ویکسین کا استعمال معطل کر دیا ہے۔جرمنی اور ناروے کی دو ٹیموں نے جب آسٹرا زینیکا ویکسین کا جائزہ لیا توانہوں نے کہا کہ یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام پر حملے کا سبب بن سکتی ہے، جسم میں خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور موت ہو جاتی ہے جس کے بعد دونوں ملکوں نے اپنے صحت کے اداروں کو اس کے استعمال سے روک دیا۔ اوسلو یونیورسٹی کے پروفیسر پال آندرے ہولمے نے ناروے کے اخبار” وی جی“ کو بتایا کہ ان کی ایک ٹیم کو بھی خون کے جمنے کی علامات ملی ہیں۔کینڈا نے 55 سال سے کم عمر لوگوں میں خون کے جمنے کے خوف سے اسکااستعمال بندکردیا ہے۔یہاں یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ بھارت محض دکھاوے کے لیے اپنی غیر معیار ی ویکسین فراہم کر کے دنیا کے لوگوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں