تحصیلدارانِ زکوٰة

فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ ۸ ھ کے اواخر میں تشریف لائے تھے، ۹ھ کا ہلالِ محرم طلوع ہوتے ہی آپ نے قبائل کے پاس زکوٰۃ کی وصولی کے لیے عمال روانہ فرمائے، جن کی فہرست یہ ہے:

عُمّال کے نام ====== وہ قبیلہ جس سے زکوٰۃ وصول کرنی تھی

عُیینہ بن حصن ============ بنو تمیم
یزید بن الحصین =========== اسلم اور غفار
عباد بن بشیر اشہلی ========= سلیم اور مُزینہ
رافع بن مکیث ============= جُہَینہ
عُمرو بن العاص ============ بنو فزارہ
ضحاک بن سفیان =========== بنو کلاب
بشیر بن سفیان ============ بنو کعب
ابن اللُتبِیَّہ ازدی ============ بنو ذبیان
( مہاجر بن ابی امیہ ========= شہر صنعاء (ان کی موجودگی میں ان کے خلاف اسود عنسی نے
صنعاء میں خروج کیا تھا)
زیاد بن لبید =============== علاقہ حضرموت
عدی بن حاتم ============== طی ٔ اور بنو اسد
مالک بن نُوَیرہ ============== بنو حنظلہ
زبر قان بن بدر ============== بنو سعد (کی ایک شاخ)
قیس بن عاصم ============== بنو سعد (کی دوسری شاخ)
علاء بن الحضرمی ============ علاقہ بحرین
علی بن ابی طالب ============ علاقہ نجران (زکوٰۃ اور جزیہ دونوں وصول کرنے کے لیے )

واضح رہے کہ یہ سارے عمال محرم ۹ھ ہی میں روانہ نہیں کردیے گئے تھے، بلکہ بعض بعض کی روانگی خاصی تاخیر سے اس وقت عمل میں آئی تھی جب متعلقہ قبیلہ نے اسلام قبول کرلیا تھا، البتہ اس اہتمام کے ساتھ ان عمال کی روانگی کی ابتداء محرم ۹ھ میں ہوئی تھی اور اسی سے صلح حدیبیہ کے بعد اسلامی دعوت کی کامیابی کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، باقی رہا فتح مکہ کے بعد کا دور تو اس میں تو لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔

آنحضرت ﷺ عمال کو ہدایت فرماتے کہ لوگوں کے بڑھیا مال لینے سے پرہیز کرو اور مسلمانوں سے فرماتے کہ جب عمال تمہارے پاس آئیں تو ان کو اور اپنے مال کو آزاد چھوڑ دو، اگر انہوں نے عدل سے کام لیا تو اپنے لئے اور اگر زیادتی کی تو ان پر وبال ہوگا۔

آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ ؓ کو بنی ذبیان کا عامل مقرر فرمایا، جب وہ اپنے علاقہ جاکر لوٹ آئے تو مال زکوٰۃ علیحدہ رکھا اور کچھ حصہ اپنے لئے الگ رکھا اورعرض کیا کہ یہ مجھے ہدیتاً پیش کیا گیا ہے، جب حضور ﷺ نے یہ سنا تو منبر پر تشریف لےگئے اور بعد حمد وثناء فرمایا:

“ایک شخص آیا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ ہدیہ میرے واسطے ہے، وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا، تاکہ معلوم ہوجاتا کہ اس کو کون ہدیہ دیتا ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو بھی اس مال زکوٰۃ میں سے کچھ لے گاتو وہ قیامت میں اس کو اٹھاکر لائے گا، اگروہ شتر ہوگا تو بلبلائے گا، گائے ہو گی تو آواز دے گی اور اگر بکری ہو تو ممیائے گی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں