جب زندگی شروع ہو گی

میدان حشر میں بار بار لوگوں کا نام پکارا جاتا۔ جس کا نام لیا جاتا دو فرشتے تیزی سے اس کی سمت جھپٹتے اور اس کو لے کر پروردگار کے حضور پیش کردیتے۔ لگتا تھا کہ فرشتے مسلسل اپنے شکار پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور لاکھوں کروڑوں کے اس مجمع سے بلا تردد اپنے مطلوب شخص کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ میری متلاشی نگاہیں لاشعوری طور پر جمشید کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ مگر وہ مجھے کہیں نظر نہ آیا۔ صالح میری کیفیت کو بھانپ کر بولا: ’’میں جان بوجھ کر تمھیں اس کے پاس نہیں لے جارہا۔ اس کی بیوی، بچے، ساس، سسر سب کے لیے پہلے ہی جہنم کا فیصلہ سنایا جاچکا ہے اور کچھ نہیں معلوم کہ اس کا کیا انجام ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ تم اس سے نہ ملو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود کوئی فیصلہ کردیں۔‘‘ اس کی بات سن کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میری کیفیت بہت اداس اور غمگین ہوجاتی۔ لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں ایک احساس پیدا ہوا۔ میں صالح سے کہنے لگا:

’’میرے رب کا جو فیصلہ ہوگا وہ مجھے قبول ہے۔ میں اپنے بیٹے سے جتنی محبت کرتا ہوں میرا مالک میرا ان داتا اس سے ہزاروں گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔ بلکہ ساری مخلوقات اپنی اولاد کو جتنا چاہتی ہے، میرا رب اس سے بڑھ کر اپنے بندوں پہ شفقت فرمانے والا ہے۔ جمشید کی معافی کی اگر ایک فیصد بھی گنجائش ہے تو یقیناًاسے معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر وہ کسی صورت معافی کے لائق نہیں تو رب کے ایسے کسی مجرم سے مجھے کوئی ہمدردی نہیں۔ چاہے وہ میرا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ میری بات سن کر صالح مسکرایا اور بولا: ’’تم بھی بہت عجیب ہو۔ اتنے عجیب ہو کہ بس۔۔۔‘‘ ’’ہاں !شاید میں عجیب ہوں، مگر ایک کریم رب کا بندہ ہوں۔ اس نے میرے قلب پر سکینت نازل کردی ہے۔ اب مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں۔ ویسے ہم جا کہاں رہے ہیں؟‘‘

’’یہ ہوئی نا بات۔ اب تم لوٹے ہو۔ اب تم دوبارہ ایک باپ سے عبد اللہ بنے ہو۔ لیکن میں تمھیں یہ بتادوں کہ ابھی تک لوگوں کی نجات کا امکان ہے۔ اللہ تعالیٰ میدان حشر کی اس سختی کو بہت سے لوگوں کے گناہوں کی معافی کا سبب بناکر ان کے نیک اعمال کی بنا پر انھیں معاف کررہے ہیں۔ تم نے اتفاق سے سارے مجرموں کا حساب کتاب ہوتے دیکھ لیا، مگر کچھ لوگوں کو ابھی بھی معاف کیا جارہا ہے۔ اس لیے کہ خد اکے انصاف میں کوئی سچی نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔‘‘ میں نے صالح کی بات کے جواب میں کہا: ’’بے شک میرا رب بڑا قدردان ہے، مگر ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘ ’’ہم دراصل جہنم کی سمت جارہے ہیں۔ میں تمھیں اب اہل جہنم سے ملوانا چاہ رہا ہوں۔‘‘ ’’تو کیا ہم جہنم میں جائیں گے؟‘‘

’’نہیں نہیں۔ یہ بات نہیں۔ اس وقت اہل جہنم کو جہنم کے قریب پہنچادیا گیا ہے۔ یہ جو تم میدان دیکھ رہے ہو اس میں الٹے ہاتھ کی سمت ایک راستہ بتدریج گہرا ہوکر کھائی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ جہنم کے ساتوں دروازے اسی کھائی سے نکلتے ہیں۔ جیسا کہ تم نے قرآن میں پڑھا ہے کہ ان سات دروازوں میں سات مختلف قسم کے مجرم داخل کیے جائیں گے۔‘‘ صالح مجھے یہ تفصیلات بتا ہی رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میدان میں نشیب کی سمت ایک راستہ اتررہا تھا۔ ہم اس راستے پر نہیں گئے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جو بلند زمین تھی اس پر چلتے رہے۔ تھوڑی دیر میں یہ راستہ تنگ ہوکر کھائی کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔ ہم اوپر ہی تھے جہاں سے ہمیں نیچے کا منظر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔ اس راستے پر جگہ جگہ فرشتے تعینات تھے جو مجرموں کو مارتے گھسیٹتے ہوئے لارہے تھے۔ تھوڑا آگے جاکر اس تنگ راستے یا کھائی پر رش بڑھنے لگا۔ یہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ بدہیبت اور بدشکل مرد و عورت اس جگہ ٹھسے پڑے تھے۔ یہ وہ ظالم اور فاسق و فاجر لوگ تھے جن کے انجام کا اعلان ہوچکا تھا اور جہنم میں داخلے سے قبل انہیں جانوروں کی طرح ایک جگہ ٹھونس دیا گیا تھا۔

وقفے وقفے سے جہنم کے شعلے بھڑکتے اور آسمان تک بلند ہوتے چلے جاتے۔ ان کے اثر سے یہاں کا سارا آسمان سرخ ہورہا تھا۔ جبکہ ان کے دہکنے کی آواز ان مجرموں کے دلوں کو دہلارہی تھی۔ کبھی کبھار کوئی چنگاری جو کسی بڑے محل جتنی وسیع ہوتی اس کھائی میں جاگرتی جس سے زبردست ہلچل مچ جاتی۔ لوگ آگ کے اس گولے سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کو کچلتے اور پھلانگتے ہوئے بھاگتے۔ ایسا زیادہ تر اس وقت ہوتا جب کچھ بڑے مجرم اس گروہ کی طرف لائے جاتے تو آگ کا یہ گولہ ان کا استقبال کرنے آتا۔ جس کے نتیجے میں ان لوگوں کی اذیت اور تکلیف میں اور اضافہ ہوجاتا۔ صالح نے ایک سمت اشارہ کرکے مجھ سے کہا: ’’وہاں دیکھو۔‘‘

جیسے ہی میں نے اس سمت دیکھا تو مجھے وہاں کی ساری آوازیں صاف سنائی دینے لگیں۔ یہ کچھ لیڈر اور ان کے پیروکار تھے جو آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ پیروکار اپنے لیڈروں سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے تمھارے کہنے پر حق کی مخالفت کی تھی۔ تم کہتے تھے کہ ہماری بات مانو تمھیں اگر کوئی عذاب ہوگا تو ہم بچالیں گے۔ کیا آج ہمارے حصے کا کوئی عذاب تم اٹھاسکتے ہو یا کم از کم اس سے نکلنے کا کوئیٍ راستہ ہی بتادو؟ تم تو بڑے ذہین اور ہر مسئلے کا حل نکال لینے والے لوگ تھے۔ وہ لیڈر جواب دیتے: اگر ہمیں کوئی راستہ معلوم ہوتا تو پہلے خود نہ بچتے۔ ویسے ہم نے تو تم سے نہیں کہا تھا کہ جو ہم کہیں وہ ضرور مانو۔ ہم نے زبردستی تو نہیں کی تھی۔ ہمارے راستے پر چلنے میں تمھارے اپنے مفادات تھے۔ اب تو ہم سب کو مل کر اس عذاب کو بھگتنا ہوگا۔ اس پر پیروکار کہتے: اے اللہ ہمارے ان لیڈروں نے ہم کو گمراہ کیا۔ ان کو دوگنا عذاب دے۔ جواب میں وہ لیڈر جھنجھلاکر کہتے کہ ہمیں بد دعا دے کر تمھاری اپنی حالت کونسی بہتر ہوجانی ہے۔ اس گفتگو پر صالح نے یہ تبصرہ کیا:

ان سب کے لیے ہی دوگنا عذاب ہوگا کیونکہ جو پیروکار تھے وہ بعد والوں کے لیڈر بن گئے اور ان کو اسی طرح گمراہ کیا۔ دیکھو ان کے مزید پیروکار آرہے ہیں۔ میں نے دیکھا تو واقعی اس ہجوم میں دھکم پیل شروع ہوگئی کیوں کہ کچھ اور لوگ ان کی طرف آئے تھے۔ وہ لیڈر بولے۔ ان بدبختوں کو بھی یہیں آنا تھا۔ پہلے ہی جگہ اتنی تنگ ہے یہ بدبو دار لوگ اور آگئے۔ نئے آنے والے اس بدترین استقبال پر آپے سے باہر ہوگئے اور ایک نیا جھگڑا شروع ہوگیا۔ جو تھوڑی دیر میں مار پیٹ میں تبدیل ہوگیا۔ اہل جہنم ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے، گالیاں بکتے باہم دست و گریباں ہوگئے۔ لاتیں گھونسے، دھکم پیل اور چیخ و پکار کے اس حبس زدہ ماحول میں لوگوں کی جو حالت ہورہی تھی، ظاہر ہے میں صرف دیکھ اور سن کر اس کا اندازہ نہیں کرسکتا تھا۔ مگر مجھے یقین تھا کہ یہ لوگ اپنی دنیا کی زندگی کو یاد کرکے ضرور رو رہے ہوں گے جس میں ان کے پاس سارے مواقع تھے، مگر جنت کی نعمت کو چھوڑ کر انھوں نے اپنے لیے جہنم کی اس وحشت کو پسند کرلیا۔ صرف چند روزہ مزوں ، فائدوں ،خواہشات اور تعصبات کی خاطر۔

صالح مجھ سے کہنے لگا: ’’ابھی تو یہ لوگ جہنم میں گئے ہی نہیں ۔ وہاں تو اس سے کہیں بڑھ کر عذاب ہوگا۔ ان کے گلے میں غلامی اور ذلت کی علامت کے طور پر طوق پڑا ہوگا۔ پہننے کے لیے گندھک اور تارکول کے کپڑے ملیں گے جو دور ہی سے آگ کو پکڑلیں گے۔ یہ آگ ان کے چہرے اور جسم کو جھلسادے گی۔ وہ اذیت سے تڑپتے رہیں گے مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آئے گا نہ ان پر ترس کھائے گا۔ پھر ان کی جھلسی ہوئی جلد کی جگہ نئی جلد پیدا ہوگی جس سے انھیں شدید خارش ہوگی۔ یہ اپنے آپ کو کھجاتے کھجاتے لہو لہان کرلیں گے، مگر کھجلی کم نہ ہوگی۔ جب کبھی انہیں بھوک لگے گی تو انھیں کھانے کے لیے خاردار جھاڑیاں اور کڑوے زہریلے تھوہر کے درخت کے وہ پھل دیے جائیں گے جن پر کانٹے لگے ہوں گے۔ جبکہ پینے کے لیے غلیظ اور بدبودار پیپ، ابلتا پانی اور کھولتے تیل کی تلچھٹ ہوگی جو پیٹ میں جاکر آگ کی طرح کھولے گا اور پیاس کا عالم یہ ہوگا کہ یہ لوگ اس کو تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پینے پر مجبور ہوں گے۔ وہ پانی ان کی پیٹ کی انتڑیاں کاٹ کر باہر نکال دے گا۔

جہنم میں فرشتے انھیں بڑے بڑے ہتھوڑوں سے ماریں گے۔ جس سے ان کا جسم بری طرح زخمی ہوجائے گا۔ ان کے زخموں سے جولہو اور پیپ نکلے گی وہ دوسرے مجرموں کو پلائی جائے گی۔ پھر ان کو زنجیروں میں باندھ کر کسی تنگ جگہ پر ڈال دیا جائے گا۔ وہاں ہر جگہ سے موت آئے گی مگر وہ مریں گے نہیں۔ اس وقت ان کے لیے سب سے بڑی خوش خبری موت کی خبر ہوگی مگر وہاں انھیں موت نہیں آئے گی۔ وقفے وقفے سے یہ سارے عذاب وہ ہمیشہ بھگتتے رہیں گے۔‘‘ میں یہ تفصیلات سن کر لرز اٹھا۔ صالح نے مزید کہا: ’’اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرنے سے قبل یہاں اوپر لایا جائے گا اور انہیں جہنم کے اردگرد گھٹنوں کے بل بٹھادیا جائے گا۔ چنانچہ ان کے لیے سب سے پہلا عذاب یہ ہوگا کہ وہ اپنی آنکھوں سے سارے عذاب دیکھ لیں گے۔ پھر گروہ در گروہ اہل جہنم کو جہنم کی تنگ و تاریک جگہوں پر لے جاکر ٹھونس دیا جائے گا اور عذاب کا وہ سلسلہ شروع ہوگا جس کی تفصیل میں نے ابھی بیان کی ہے۔‘‘ ’’تو کیا سارے اہل جہنم کا یہی انجام ہوگا؟‘‘

’’نہیں یہ تو بڑے مجرموں کے ساتھ ہوگا۔ دوسروں کے ساتھ ہلکا معاملہ ہوگا مگر یہ ہلکا معاملہ بھی بہرحال ناقابل برداشت عذاب ہی ہوگا۔‘‘ پھر اس نے ایک اور سمت اشارہ کیا۔ تو میں نے دیکھا کہ وہاں بعض انتہائی بدہیبت اور مکروہ شکل کے لوگ موجود ہیں۔ صالح ایک ایک کرکے مجھے بتانے لگا کہ ان میں سے کون شخص کس رسول کا کافر اور مخالف تھا۔ میں نے خاص طور پر نمرود اور فرعون کو دیکھا کیونکہ ان کا ذکر بہت سنا تھا۔ انھی کے ساتھ ابوجہل، ابولہب اور قریش کے دیگر سردار موجود تھے۔ ان سب کی حالت ناقابل بیان حد تک بری ہوچکی تھی۔ وقت کے یہ سردار اس وقت بدترین غلاموں سے بھی بری حالت میں تھے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ سچائی آخری درجے میں ان کے سامنے آچکی تھی مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ خدا کے مقابلے میں سرکشی کی اور مخلوق خدا پر ظلم و ستم کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت صالح نے مجھے ایک بہت ہی عجیب مشاہدہ کرایا۔ اس کے توجہ دلانے پر میں نے دیکھا کہ ان سب کے وسط میں ایک بہت بڑا دیو ہیکل شخص کھڑا تھا۔ اس کے جسم سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے اور پورا جسم زنجیروں سے جکڑا ہوا تھا۔ وہ ان سب سے مخاطب ہوکر کہہ رہا تھا کہ دیکھو اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور جو وعدے میں نے کیے تھے وہ سب جھوٹے تھے۔ آج مجھے برا بھلا نہ کہو۔ میں تمھارے سارے اعمال سے بری ہوں۔ میری کوئی غلطی نہیں ہے۔ میرا تم پر کوئی اختیار نہ تھا۔ تم نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا۔ اگر تم نے میری بات مانی تو اس میں میرا کیا قصور۔ تم لوگ مجھے مت کوسو بلکہ خود کو ملامت کرو۔ آج نہ میں تمھارے لیے کچھ کرسکتا ہوں اور نہ تم میرے لیے کچھ کرسکتے ہو۔

مجھے اس گفتگو سے اندازہ ہوگیا کہ یہ موصوف کون ہیں۔ میں نے اپنے اندازے کی تصدیق کے لیے صالح کو دیکھا تو وہ بولا: ’’تم ٹھیک سمجھے۔ یہ ابلیس ہے۔ اللہ کا سب سے بڑا نافرمان۔ آج سب سے بڑھ کر عذاب بھی اسی کو ہوگا۔ مگر باقی لوگوں کو بھی ان کے کیے کی سزا ملے گی۔‘‘ میں اوپر کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں اپنے عظیم رب کی شکر گزاری کررہا تھا جس نے مجھے شیطان کے شر اور دھوکے سے بچالیا وگرنہ زندگی میں بارہا اس ملعون نے مجھے گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی عافیت میں رکھا۔ میرا ہمیشہ یہ معمول رہا کہ میں شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا تھا۔ سو میرے اللہ نے میری لاج رکھی۔ مگر جنھوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی اور شیطان کو اپنا دوست بنایا وہ بدترین انجام سے دوچار ہوگئے۔ اسی اثنا میں صالح میری طرف مڑا اور بولا: ’’عبد اللہ چلو تمھیں بلایا جارہا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا کیوں؟ ’’وہ بولا جمشید کو حساب کتاب کے لیے پیش کیا جانے والا ہے۔ تمھیں گواہی کے لیے بلایا جارہا ہے۔‘‘ ’’میری گواہی؟‘‘ ’’ہاں تمھاری گواہی۔‘‘ ’’میری گواہی اس کے حق میں ہوگی یا اس کے خلاف۔‘‘ ’’دیکھو اگر اللہ نے اسے معاف کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر وہ تم سے کوئی ایسی بات پوچھیں گے جس کا جواب اس کے حق میں جائے گا۔ اور اگر اس کے گناہوں کی بنا پر اسے پکڑنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ تم سے کوئی ایسی بات پوچھیں گے جو اس کے خلاف جائے گی۔ یا ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی اور معاملہ کریں۔ حتمی بات صرف وہی جانتے ہیں۔‘‘ میری حالت جو ٹھہری ہوئی تھی ایک دفعہ پھر دگرگوں ہوگئی اور میں لزرتے دل اور کانپتے قدموں کے ساتھ صالح کے ہمراہ روانہ ہوگیا۔

جمشید کو ابھی حساب کے لیے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ دو فرشتے اس کو عرش کے قریب لے کر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا جس پر دنیا کے پچاس ساٹھ برسوں کی دولتمندی کا تو کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا، لیکن حشر کے ہزاروں برس کی خواری کی پوری داستان لکھی ہوئی تھی۔ اس کے قریب جانے سے قبل میں نے اپنے دل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ۔ قریب پہنچا تو اس کے قریب کھڑے فرشتوں نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مگر صالح کی مداخلت پر انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ جمشید نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ وہ بے اختیار میرے قریب آیا اور میرے سینے سے لپٹ گیا۔ پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولا: ’’ابو میں اتنا رویا ہوں کہ اب آنسو بھی نہیں نکل رہے۔‘‘ میں اس کی کمر تھپتھپانے کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔ پھر اس نے آہستگی سے کہا: ’’ابو شاید میں اتنا برا نہیں تھا۔‘‘ ’’مگر تم بروں کے ساتھ ضرور تھے بیٹا !بروں کا ساتھ کبھی اچھے نتائج تک نہیں پہنچاتا۔ تم نے شادی کی تو ایسی لڑکی سے جس کی واحد خوبی اس کا حسن اور دولت تھی۔ خدا کی نظر میں یہ کوئی خوبی نہیں ہوتی۔ تم ہم سے الگ ہوگئے اور اپنے سسر کے ایسے کاروبار میں شریک ہوگئے جس کے بارے میں تمھیں معلوم تھا کہ اس میں حرام کی آمیزش ہے۔ مگر بیوی، بچوں اور مال و دولت کے لیے تم حرام میں تعاون کے مرتکب ہوتے رہے۔ یہی چیزیں تمھیں اس مقام تک لے آئیں۔‘‘

’’آپ ٹھیک کہتے ہیں ابو، مگر میں نے نیکیاں بھی کی تھیں۔ تو کیا کوئی امید ہے؟‘‘ میں خاموش رہا۔ میری خاموشی نے اسے میرا جواب سمجھادیا۔ وہ مایوس کن لہجے میں بولا: ’’مجھے اندازہ ہوگیا ہے ابو۔ اپنے بیوی بچوں اور ساس سسر کو جہنم میں جاتا دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوچکا ہے کہ آج کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ سارا اختیار اس رب کے پاس ہے جس کے احکام کو میں بھولا رہا۔ آج جس کا عمل اسے نہیں بچاسکا اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکے گی۔ میں ہزاروں برس سے اس میدان میں پریشان پھر رہا ہوں۔ میں ان گنت لوگوں کو جہنم میں جاتا دیکھ چکا ہوں۔ مجھے اب اپنی نجات کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت معافی مانگی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ آج معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ابو! اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کردیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میری آنکھوں سے آنسو نہ بہیں، مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں برسنے لگیں۔ اسی اثنا میں جمشید کا نام پکارا گیا۔ فرشتوں نے فوراً اسے مجھ سے الگ کیا اور بارگاہ ربوبیت میں پیش کردیا۔

وہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکاکر سارے جہانوں کے پروردگار کے حضور پیش ہوگیا۔ ایک خاموشی طاری تھی۔ جمشید کھڑاتھا مگر اس سے کوئی سوال نہیں کیاجارہا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کچھ فرشتوں کے ساتھ ناعمہ وہاں آگئی۔ اس کے ساتھ ہی صالح نے مجھے اشارہ کیا تو میں ناعمہ کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا۔ ناعمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی، مگر بارگاہ احدیت کا رعب اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ کچھ دیر میں جمشید سے سوال ہوا:’’مجھے جانتے ہو، میں کون ہوں؟‘‘ اس آواز میں اتنا ٹھہراؤ تھا کہ میں اندازہ نہیں کرسکا کہ یہ ٹھہراؤ کسی طوفان کی آمد کا پیش خیمہ ہے یا پھر مالک دو جہاں کے حلم کا ظہور ہے۔ ’’آپ میرے رب ہیں۔ سب کے رب ہیں۔ یہی میرے والد نے مجھے بتایا تھا۔‘‘

شان بے نیازی کے ساتھ پوچھا گیا: ’’کون ہے تمھارا باپ؟‘‘ جمشید نے میری طرف دیکھ کر کہا: ’’یہ کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے اس جملے کے ساتھ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہوچکا تھا کہ اب جمشید مارا گیا۔ کیونکہ میں نے اسے توحید کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں کی نصیحت کی تھی جن میں اس کا ریکارڈ اچھا نہیں تھا۔ اب مجھ سے یہی پوچھا جانا تھا کہ میں نے اسے کن باتوں کی نصیحت کی تھی اور میری یہی گواہی اس کی پکڑ کا سبب بن جاتی۔ مگر میری توقع کے بالکل برخلاف اللہ تعالیٰ نے مجھے گواہی کے لیے نہیں بلایا۔ انہوں نے جمشید سے ایک بالکل مختلف سوال کیا:’’ابھی تم اپنے باپ سے کیا کہہ رہے تھے۔۔۔ یہ کہ اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کردیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔‘‘

لمحہ بھر پہلے جو میری امید بندھی تھی وہ اس سوال کے ساتھ ہی دم توڑ گئی۔ جمشید کو بھی اندازہ ہوگیا کہ اس کی پکڑ شروع ہوچکی ہے۔ خوف کے مارے اس کا چہرہ سیاہ پڑگیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں لرزنے لگے۔ اس کے سان و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ جو دوسرے حساب کتاب میں مصروف تھے ساتھ ساتھ اس کی بات بھی سن رہے تھے۔ نہ صرف سن رہے تھے بلکہ اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے کا سبب بن گئے تھے۔ وہ بڑی بے بسی سے بولا: ’’جی میں نے یہ بات کہی تھی لیکن میرا مطلب وہ بالکل نہیں تھا جو آپ سمجھے ہیں۔‘‘ ’’تمھیں کیا معلوم میں کیا سمجھا ہوں؟‘‘ پوچھا گیا، مگر آواز میں ابھی تک وہی ٹھہراؤ تھا۔ ’’نہ۔۔۔ نہیں مجھے بالکل نہیں معلوم۔۔۔ آپ کیا سمجھے۔‘‘، جمشید نے لڑکھڑاتی زبان سے جواب دیا۔ اس سے مزید کوئی بات کہنے کے بجائے ناعمہ سے پوچھا گیا: ’’میری لونڈی یہ تیرا بیٹا ہے۔ اس نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا۔‘‘ ناعمہ بولی:

’’پروردگار! اس نے میرے ساتھ بہت نیک سلوک کیا۔ یہ بڑھاپے تک میری خدمت کرتا رہا۔ اس نے مال سے، عمل سے اور محبت سے میرے ساتھ بہت حسن سلوک کیا ۔ اس کی بیوی اسے ٹوکتی تھی لیکن یہ میری خدمت سے باز نہیں آیا۔ اس نے اپنا مال اور اپنی جان سب بے دریغ میرے لیے وقف کردی تھی۔‘‘ ناعمہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جمشید کے لیے اور بہت کچھ کہے، مگر اسے معلوم تھا کہ جو پوچھا گیا ہے اس سے ایک لفظ زیادہ کہنے پر اس کی اپنی پکڑ ہوجائے گی۔ اس لیے وہ مجبوراً اتنا کہہ کر خاموش ہوگئی۔ پروردگار نے فرشتے کی طرف دیکھ کر پوچھا: ’’کیا یہ عورت ٹھیک کہہ رہی ہے؟‘‘ فرشتے نے نامہ اعمال دیکھ کر کہا: ’’اس نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔‘‘ اس کے بعد جو کچھ ہوا ا س نے میرے دل کی دھڑکن تیز کردی۔ حکم ہوا اس کے اعمال ترازو میں رکھو۔ پہلے گناہ رکھے گئے۔ جن سے الٹے ہاتھ کا پلڑا بھاری ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد نیکیاں رکھی گئیں۔ ہم سب کے چہرے فق تھے۔ ایک ایک کرکے نیکیاں رکھی گئیں۔ مگر وہ گناہوں کے مقابلے میں اتنی کم اور ہلکی تھیں کہ میزان میں الٹے ہاتھ کا پلڑا بدستور بھاری رہا۔ آخر میں صرف دو نیکیاں رہ گئیں۔ بظاہر فیصلہ ہوچکا تھا۔ ناعمہ نے مایوسی اور بے کسی کے ملے جلے احساس کے ساتھ آنکھیں بند کرلیں۔ جمشید اپنا سر پکڑ کے بے بسی سے زمین پر گرگیا۔

میں جس وقت سے میدان حشر میں آیا تھا میں نے ایک دفعہ بھی عرش کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ مگر نجانے اس وقت پہلی بار بے اختیار میری نگاہیں مالک ذوالجلال کی طرف اٹھ گئیں۔۔۔ ایک لمحے سے بھی کم عرصے کے لیے۔۔۔ اس ساعت میرے دل سے وہی صدا نکلی جو زندگی کی ہرناگہانی اور مشکل پر میرے دل سے نکلاکرتی تھی۔لاالہ الااللہ۔پھر میری نظر اور سر دونوں فوراًجھک گئے۔ فرشتے نے پہلی نیکی اٹھائی۔ یہ ناعمہ کے ساتھ کیا گیا اس کا حسن سلوک تھا۔ حیرت انگیز طور پر سیدھے ہاتھ کا پلڑا بلند ہونا شروع ہوا۔ میں نے اپنے برابر کھڑی ناعمہ کو جھنجھوڑ کر کہا : ’’ناعمہ! آنکھیں کھولو۔‘‘ میری آواز جمشید تک بھی چلی گئی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ کھڑا ہوگیا۔اٹھتے پلڑے کے ساتھ اس کی آس بھی بن گئی۔لیکن ایک جگہ پہنچ کر سیدھے ہاتھ کا پلڑا ٹھہرگیا۔ الٹے ہاتھ کا پلڑا ابھی تک بھاری تھا۔ ہمارے دلوں میں جلنے والی امید کی شمع پھر بجھنے لگی۔ فرشتے نے آخری نیکی اٹھائی اور بلند آواز سے کہا۔ یہ توحید پر ایمان ہے۔ اس کے رکھتے ہی پلڑے کا توازن بدل گیا۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا۔ اللہ اکبر و للہ الحمد۔

اس کے ساتھ ہی مدھم لہجے میں آواز آئی: ’’جمشید تمھارے باپ نے تمھیں میرے بارے میں یہ بھی بتایا تھا کہ میں ماں باپ سے ستر ہزار گنا زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہوں۔ یہ تم تھے جس نے میری قدر نہیں کی۔ اسی لیے میدان حشر میں تمھیں اتنی سختی اٹھانی پڑی۔ میرا عدل بے لاگ ہوتا ہے۔ مگر میری رحمت ہر شے پر غالب ہے۔‘‘ فرشتے نے نجات کا فیصلہ تحریر کرکے نامۂ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا۔ جمشید کے منہ سے شدت جذبات میں ایک چیخ نکلی۔ اسے جنت کا پروانہ مل گیا تھا۔ ہزاروں سال پر مبنی اس طویل اور سخت دن کی اذیت سے اسے نجات مل گئی بلکہ ہر تکلیف سے اسے نجات مل چکی تھی۔ وہ بھاگتا ہوا آیا اور ہم دونوں سے لپٹ گیا۔ ناعمہ پر شادئ مرگ کی کیفیت طاری تھی۔ جمشید کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور میں اپنے وجود کے ہر رعشے کے ساتھ اس رب کریم کی حمد کررہا تھا جس کی رحمت کاملہ نے جمشید کو معاف کردیا تھا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں