جج کا قتل اور قاتلوں کے تابعدار

پاکستان کے صوبہ
خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کو ان کی اہلیہ اور
خاندان کے دو افراد سمیت نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر قتل کر دیا.

یہ واقعہ اتوار کی شام چھ سے سات بجے کے درمیان موٹر وے پر ضلع صوابی کی حدود میں پیش آیا.

اب اس واقع سے بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں !!!!

ایک تو اس واقعہ کے ذمہ دار انجہانی جج سیٹھ وقار جیسے لوگ ہیں,
جو پشاور ہائی کورٹ میں بیٹھ کر صرف اس وجہ سے دہشتگردوں کو رہا کر دیتے تھے کہ یا تو وہ خفیہ اداروں نے پکڑے ہوتے تھے یا انہیں فوجی عدالتوں نے سزا دی ہوتی تھی.

سیٹھ وقار کے ہاتھوں رہا ہونے والے انہیں دہشتگردوں نے کئی اہم شخصیات کے قتل سمیت کئی اور دہشتگردانہ کاروائیوں میں حصہ لیا ۔

دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی گئی تھیں مگر انکے فیصلہ کرنے کی رفتار انتہائی سست ہے ۔
اور اگر یہ عدالتیں دہشتگردوں کو سزا دے بھی دیں,
تو ہائی کورٹ سے فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے اور دہشتگردوں کو رہا بھی کر دیا جاتا ہے,
اس کے بعد اگر کوئی واقعہ ہو جائے تو عدالتوں میں توہین آمیز ریمارکس دیتے ہوئے ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے.
اب آپ خود بھی سوچیں کہ کون کون ان دہشتگردوں کی معاونت کر رہا ہے, اور
کون کون ان دہشتگردوں کی تابعداری کر رہا ہے,
اللّٰہ شہید ہونے والے جج اور ان کے اہل خانہ کو جنت نصیب فرمائے۔آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں