جنگی مورچے سے اتمان خیل سپاھی ساجد اللہ کا خط وزیراعظم وزیر داخلہ اور آرمی چیف کے نام

جناب والا میں سب سے پہلے کچھ دنوں پہلے اپنی سات سالہ بیٹی میمونہ سے ہونے والی گفتگو آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ عصر کا وقت تھا نماز سے فارغ ہو کے مورچے میں بیٹھا تھا۔ گھر والوں سے فون پہ بات کی تو سات سالہ میمونہ نے سلام دعاء کے بعد پوچھا کہ

ابو جی!امی بتا رہی تھی کہ پچھلے دنوں آپ کا کوئی ساتھی شہید ہوا تھا اس کے بچے کتنے ہیں؟
میں:
میری جان اس کے بچے پانچ ہیں دو بیٹیاں تین بیٹے

میمونہ :
ان کے بچوں کی عمریں کتنی ہیں؟

میں :
بچے بڑے ہیں ایک چھوٹی بچی آپ کی عمر کا ہے۔

میمونہ :
ابو اسے کس نے مارا؟

میں :
دہشت گردوں نے…

میمونہ :
ابو یہ دہشت گرد کون ہیں؟ یہ آپ کے ساتھیوں کو کیوں مار رہے ہیں؟

میں :
وہ ہمارے ملک کے دشمن ہیں ہمارے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ہم انھیں ایسا کرنے نہیں دیتے اس وجہ سے لڑائی ہوتی ہے۔

میمونہ :
ابو جی آپ چھوڑ کے گھر کیوں نہیں آتے ؟

میں :
کیوں بیٹا چھوڑ کے کیوں!

میمونہ :
اگر آپ کو کچھ ہوگیا تم ہمارا کیا بنے گا؟

میں :
دیکھ میری بیٹی وہ ہمارے ملک کے دشمن ہیں بیٹیوں کی سکولوں کو بم سے اڑاتے ہیں۔ اگر ہم چھوڑ کے گھر آجائے تو وہ پورے ملک پہ قبضہ کرینگے۔ آپ کو بھی سکول جانے نہیں دینگے اسلیے میں نے قسم کھایا ہے انھیں ختم کرکے اپنے ملک کو ان کے مظالم سے بچائنگے ۔ آپ اور آپ کے دونوں بھائی خوب محنت کرکے پڑھو بڑا ہوکے آپ بھی اس ملک کی خدمت کرینگے اور اس ملک سے تمام دشمنوں کا صفایا کرینگے۔ اچھا میری بیٹی پڑھائی کیسی جارہی ہے؟

میمونہ :
ایک دم فرسٹ کلاس اچھا ابو جی پتہ ہے آپ کو آئندہ مجھے 2 ہزار کے بجائے پچیس سو روپے بھیجا کرے۔

میں :
چلو ٹھیک ہے مگر خیر تو ہے؟

میمونہ :
سکول انتظامیہ نے نیے تعلیمی سال کیلیے فیسوں میں 20 فیصد اضافہ کیا ہے۔

میں :
اچھا چلو ٹھیک ہے بیٹی۔
اتنے میں فائرنگ کی آواز آئی ہمارے پوسٹ پہ راکٹ حملہ ہوا۔

میمونہ نے پوچھا ابو جی یہ آواز کیسی ۔
میں نے جلدی سے کہا بیٹی یہ آسمانی بجلی گرنے کی آواز ہے ایسے وقت میں فون پہ بات نہیں کیا کرتے
چلو بعد میں بات کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے فون بند کرکے رائفل اٹھانے لگا تو میری نظر ایک اخبار پہ پڑی جسے کوئی دوست بازار سے لایا تھا وہ ادھر ایک میز پہ پڑا تھا۔ شہ سرخی میں لکھا ہوا تھا کہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ۔

میں اپنا رائفل لے کر جلدی سے ایک بنکر کی طرف گیا وہاں جاکے مقابلے کیلیے تیار بیٹھا رہا اس دوران اور فائرنگ نہیں ہوئی یہ کوئی باضابطہ حملہ نہیں تھا ایک فیکس راکٹ پوسٹ پہ داغا گیا تھا ہماری خوش قسمتی تھی کہ نشانہ چوک گیا۔
پھر انتظار میں بنکر میں بیٹھ کے مختلف خیالوں میں گم ہوں ایک طرف مہنگائی دوسری طرف بچوں کی فیسیں بڑھائی گئی ہیں۔ پھر اخبار والی بات پہ تھوڑی سی خوشی اور امید دل میں پیدا ہوئی کہ پچیس فیصد اضافے سے کافی کام ہوم ہوسکتا ہے۔
تھوڑی دیر بعد جب حالات نارمل ہوئے تو واپس آکے اخبار میں تفصیل دیکھنے لگا تو پتہ چلا کہ وہ اضافہ سول آرمڈ فورس کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ ان سول ملازمین کے لیے ہے جو تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
تب مجھ سمیت تمام ایف سی جوانوں کو دلی صدمہ ہوا کیونکہ ہم پاکستان میں وہ واحد فورس ہیں جب ملک کے لیے جان لینے اور دینے کی بات ہو تو ہم سب سے آگے ہوتے ہیں
مگر جب تنخواہ اور مراعات کی بات آجائے تو ہمارا سب سے کم ہے ۔
جنگی میدان میں ہم آرمی سے آگے، مرنے مارنے کی بات ہو آرمی سے آگے، ڈیوٹی آرمی سے سخت، ڈیوٹی کے لیے کمانڈ آرمی سے، جبکہ دفاعی بجٹ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔
تنخواہوں میں اضافہ سویلین کے ساتھ آرمی والوں کا بھی ہوتا ہے ہمارا نہیں۔ آپریشن ضرب غضب کو کامیاب ہم فرنٹیر کور والوں نے بنایا مگر ضرب غضب الاونس ہمیں نہیں دیا جاتا آخر کیوں؟

کیونکہ ہم باوفا ہیں ہم احتجاج نہیں کر سکتے ہم مورچے نہیں چھوڑ سکتے اگر مورچے چھوڑ دینگے تو میرے ملک کے عوام ، مائیں، بہنیں ، بچے اور بوڑھے سب دہشت گردوں کی زد میں آئنگے ۔ اسلیے اپنے تمام پاکستانی بہن بھائیوں سے گذارش ہے کہ آپ ہمارے لیے احتجاج کریں ہماری آواز کو حکامِ بالا تک پہنچائیے۔ خصوصا صحافی برادی اور ٹی وی اینکرز سے گزارش ہے کہ ہمارے لیے آواز اٹھائیے۔
اور وزیر داخلہ شیخ رشید صاحب ہم آپ کے فورس ہیں آپ ہمیشہ غریبوں کی باتیں کیا کرتے ہیں ابھی آپ سے گذارش ہے ہمارے لیے آواز اٹھا کر اپنی غریب پروری کا ثبوت دیں۔ اور یہ آپ کے لیے امتحان بھی ہے۔

آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب اور وزیراعظم عمران خان صاحب آپ سے صرف ایک ہی گذارش ہے کہ :
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی ۔

جناب والا اپنی تنخواہیں مراعات اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہ بڑھاتے وقت ملک بحران میں نہیں گیا صرف ہماری تنخواہوں سے ملک دیوالیہ ہوجائیگا¿¿¿

خدارا انصاف کیجیے ہمیں ہمارا دیجیے۔ کیا احتجاج نہ کرنا اور کیا ہماری وفاداری ہمارا قصور ہے؟ لہذا ہمیں ہمارا حق دیکر اس کے بعد انصاف کی بات کیا کریں ۔ شکریہ

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں