حضرت عدیؓ بن حاتم کا ایمان لانا

عدی بن حاتم کے ایمان لانے کا واقعہ ابن ہشام نے تفصیل سے لکھا ہے، اس کے بیان کے مطابق عدی کو آنحضرت ﷺ سے سخت نفرت تھی، وہ سردار قبیلہ تھے اور اپنی قوم کے ساتھ مرباع نامی مقام پر رہتے تھے، انہوں نے اپنے غلام چرواہے سے کہہ رکھا تھا کہ محمد ( ﷺ) کا لشکر آئے تو اطلاع دینا، جب وہ دن آ گیا تو انہوں نے اپنے متعلقین کو تیز رو سانڈنیوں پر سوار کیا اور عیسائیوں کے پاس ملک شام چلے گئے کیونکہ وہ خود بھی عیسائی تھے، ان کی بہن سفانہ پیچھے رہ گئی اور مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئی اور مدینہ روانہ کر دی گئی، ایک دن ان قیدیوں کی طرف حضور اکرم ﷺ کا گزر ہوا تو سفانہ نے عرض کیا:

’‘ میں بڑے باپ کی بیٹی ہوں چھڑانے والا بھاگ گیا، آپ مجھ پر احسان فرما کر چھوڑ دیجئے۔ “

حضور ﷺ نے دریافت فرمایا: تمہارا چھڑانے والا کو ن ہے؟ عرض کیا: عدی بن حاتم۔

آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جو اللہ اور رسول سے بھاگنے والا ہے، دو دن اسی طرح گزر گئے، تیسرے دن حضور ﷺ تشریف لائے، حضرت علیؓ بھی وہاں موجود تھے، انہوں نے کھڑے ہوکر بات کرنے کے لئے کہا، چنانچہ سفانہ نے پھر وہی درخواست کی جسے سن کر حضور ﷺ نے فرمایا کہ:

” میں نے احسان کیا اور تجھے آزاد کر دیا، لیکن جانے میں جلدی نہ کر، تیری قوم کا کوئی قابل اعتبار آدمی ملے تو اس کے ساتھ چلی جانا “

اتفاق سے قبیلہ قضاعہ کا ایک قافلہ مل گیا جو شام جارہا تھا، سفانہ نے اپنے بھائی عدی کے پاس جانے کا ارادہ ظاہر کیا، حضور ﷺ نے سواری خرچ اور کپڑے عطا فرمائے، اس طرح وہ اپنے بھائی عدی کے پاس پہنچی اور وہاں جاکر ان سے نہایت سخت سست الفاظ میں کہا کہ تم توصرف اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے آئے اور اپنی بہن کو تنہا چھوڑ دیئے، بہن کے ملامت کرنے پر عدی نادم ہوئے اور بہن سے مشورہ طلب کئے کہ اب کیا کرنا چاہئے؟ سفانہ نے کہا کہ اگر تمہیں اپنے قبیلہ کی سلامتی منظور ہے تو فوراً حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ جو تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

چنانچہ حضرت عدی مدینہ گئے اور مسجد نبوی میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضور ﷺ نے پوچھا کون ہو؟ عرض کیا: عدی بن حاتم۔ یہ سن کر حضور ﷺ انہیں اپنے گھر لے گئے، گھر جاتے ہوئے راستہ میں ایک بوڑھی عورت نے حضور ﷺ کو روک کر بڑی دیر تک اپنا حال سنایا اور آپ ﷺ سنتے رہے اور پھر اپنے گھر تشریف لائے اور حضرت عدی کو ایک چمڑے کے گدے پر اصرار کرکے بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گئے، حضرت عدی نے دل میں خیال کیا کہ یہ عمل بادشاہوں جیسا نہیں۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عدی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جس پر عدی ؓ نے کہا کہ وہ ایک دین کے ماننے والے ہیں، حضور ﷺ نے فرمایا: ” میں تمہارے دین کو تم سے بہترجانتا ہوں۔” حضرت عدی نے پوچھا: وہ کس طرح؟ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: کیا تو اپنی قوم کا سردار نہیں اور کیا تو لوٹ کے مال میں سے چوتھائی حصہ وصول نہیں کرتا؟ حضرت عدی نے کہا: ” برابر لیتا ہوں ” حضور ﷺ نے فرمایا: ” تمہارے دین میں یہ حلال نہیں ہے۔” حضرت عدی خاموش ہوگئے اور دل میں خیال کرنے لگے یہ بات صرف نبی ہی جان سکتا ہے۔

صحیح بخار ی میں حضرت عدیؓ سے مروی ہے کہ میں خدمت نبوی میں بیٹھا تھا کہ ایک آدمی نے آکر فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے آدمی نے آکر رہزنی کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: عدی! تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم دیکھ لوگے کہ ہودج نشین عورت حیرہ سے چل کر آئے گی اور خانہ کعبہ کا طواف کرے گی اور اسے ﷲ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم کسریٰ کے خزانے فتح کروگے اور اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم دیکھوگے کہ آدمی چلو بھر کر سونا یا چاندی نکالے گا اور ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے قبول کرلے تو کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ملے گا۔

یہ سن کر حضرت عدی نے اسلام قبول کرلیا اور مدینہ میں ایک انصاری کے مکان میں قیام کیا اور دن میں دو بار حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری دیتے رہے۔

حضرت عدیؓ بن حاتم کہتے ہیں کہ انہوں نے حضور ﷺ کی دو پیشن گوئیاں پوری ہوتی اپنے آنکھوں سے دیکھی اور تیسری بھی پوری ہو گئی، حضرت عدیؓ فتنہ ارتداد کے زمانہ میں ثابت قدم رہے اور اپنے قبیلہ کو بھی اس فتنہ سے روکے رکھا، نہایت طویل عمر پائی اور ۶۸ ہجری میں وفات پائی

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں