حـقـوق الـوالـدین

قرآن کریم نے اللہ کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے

قرآن کہتا ہے
وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا
اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ اللہ کے سواء کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو

اور ایک جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

واعبدو الله ولا تشركو به شيئا وبالوالدين إحسانا

اور تم اللہ کی عبادت کرو اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو
یہ بات یاد رہے کہ والدین سے نیکی کا حکم مطلقاً اور بلا قید ہے
یہ نہیں کہا گیا کہ والدین نیک ہوں تو ان کے ساتھ بھلائی کی جائے اور برے ہوں تو بھلائی نہ کی جائے ایسی کوئی شرط نہیں ہے والدین جاہے فاسق و فاجر اور گنہگار ہی کیوں نہ ہو اولاد کے لئے ان کا درجہ ایسا ہی ہے جیسا ایک متقی اور پرہیزگار والدین کا.
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ والدین کا ادب اور ان سے احسان کرتے وقت ان کی سیرت و کردار کو دیکھو بلکہ غیر مشروط طور پر والدین کے ساتھ نیکی سے پیش آنے کا حکم دیا.
سورة الاسرآء میں والدین سے نیکی اور بھلائیکا حکم دینے کے بعد ارشاد فرمایا

اما يبلغن عنك الكبر أحدهما اوكلاھما فلا تقل لهما اف ولا تنھرھما وقل لهما قولاً كريما:: واخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهما كما ربياني صغيرا

اگر تمھارے سامنے دونوں میں کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ،، اف ،، تک بھی نہ کہنا اور ان سے جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو : اور دونوں کے لئے نرم دلی عجز و انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور عرض کرتے رہو اے میرے ر ب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے ( رحمت وشفقت سے ) پالا تھا.
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اگر دونوں ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر انہیں اف تک کا کلمہ بھی کہنے کی ممانعت ہے خواہ تمہیں ان کی بات پسند آئے یا نہ آئے اور خواہ تمہاری طبیعت کو کتنی ہی ناگوار کیوں نہ گزرے خبردار ! تمہاری زبان سے ان کے لئے اف تک کا کلمہ نہ نکلے.
اف تک نہ کہنے کا معنی یہ ہے کہ تمہاری زبان تمھارے والدین کے بارے میں اس حد تک بند ہو جائیں کہ ان کی کسی بات پر خفگی اور ناراضگی کا اظہار نہ ہونے پائے

زندگی میں والدین کے حقوق
ان کا ادب و احترام کرنا

ان سے محبت کرنا

ان کی فرماں برداری کرنا

ان کی خدمت کرنا

ان کو حتی الامکان آرام پہچانا

ان کی ضرورت پوری کرنا

وقتاً فوقتاً ان سے ملاقات کرنا

انتقال کے بعد والدین کے حقوق

ان کے لئے اللہ تعالی سے معافی اور رحمت کی دعائیں کرنا

ان کے جانب سے ایسا اعمال کرنا جن کا ثواب ان تک پہنچے

ان کے رشتے دار دوست و متعلقین کی عزت کرنا

ان کے رشتے دار دوست و متعلقین کی حتی الامکان مدد کرنا

ان کی امانت و قرض ادا کرنا

ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا

کبھی کبھی ان کی قبر پر جانا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں