درود شــریف کــی فضیلت

ایک مرتبہ حضرت شیخ محمد بن سلیمان جزولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وضو کرنے کے لئے ایک کنویں پر گئے مگر اُس سے پانی نکالنے کے لئے کوئی چیز پاس نہ تھی۔ شیخ پریشان تھے کہ کیا کروں؟ اتنے میں ایک اونچے مکان سے بچی نے دیکھا تو کہنے لگی: یاشیخ؛ آپ وہی ہیں نا جن کی نیکیوں کا بڑا چرچا ہے؟

اِس کے باوجود آپ پریشان ہیں کہ کنویں سے پانی کس طرح نکالوں۔ پھر اُس بچی نے کنویں میں اپنا لعاب (یعنی تھوک) ڈال دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں کنویں کا پانی بڑھنا شروع ہو گیا حتی کہ کناروں سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔

شیخ نے وضو کیا اور اُس بچی سے کہنے لگے: میں تمہیں تم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم نے یہ مرتبہ کیسے حاصل کیا؟

اُس بچی نے جواب دیا: میں رسول کریم، رئوف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود پاک پڑھتی ہوں۔ یہ سن کر حضرت شیخ سلیمان جزولی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیه نے قسم کھائی کہ میں دربار رسالت میں پیش کرنے کے لئے درود و سلام کی کتاب ضرور لکھوں گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں