دشمن کو شکستِ فاش

مٹی پھینکنے کے بعد چند ہی ساعت گزری تھی کہ دشمن کو فاش شکست ہوگئی، ثقیف کے تقریباً ستر آدمی قتل کیے گئے اور ان کے پاس جوکچھ مال، ہتھیار، عورتیں اور بچے تھے مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔
یہی وہ تغیر ہے جس کی طرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے اس قول میں ارشاد فرمایا ہے :

”اور(اللہ نے ) حنین کے دن (تمہاری مدد کی) جب تمہیں تمہاری کثرت نے غرور میں ڈال دیا تھا، پس وہ تمہارے کچھ کا م نہ آئی اور زمین کشادگی کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگے، پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت نازل کی اور ایسا لشکر نازل کیا جسے تم نے نہیں دیکھا اور کفر کرنے والوں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔”

شکست کھانے کے بعد دشمن کے ایک گروہ نے طائف کا رخ کیا، ایک نخلہ کی طرف بھاگا اور ایک نے اوطاس کی راہ لی۔

رسول اللہﷺ نے ابو عامر اشعریؓ کی سرکردگی میں تعاقب کرنے والوں کی ایک جماعت اوطاس کی طرف روانہ کی، فریقین میں تھوڑی سی جھڑپ ہوئی، اس کے بعد مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے، البتہ اسی جھڑپ میں اس دستے کے کمانڈر ابو عامر اشعریؓ شہید ہوگئے۔

مسلمان شہسواروں کی ایک دوسری جماعت نے نخلہ کی طرف پسپا ہونے والے مشرکین کا تعاقب کیا اور دُرید بن صمہ کو جا پکڑا، جسے ربیعہ بن رفیع نے قتل کردیا۔

شکست کھاکر مالک بن عوف میدان سے فرار ہوا اور اثنائے راہ میں ایک گھاٹی میں وہ اپنے ہم قوم سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ رکا اور اس نے اپنے ہمراہیوں سے کہا کہ تم ذرا توقف کرو تاکہ ہم میں جو کمزور ہیں وہ اس مقام سے گزر جائیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بھی آملیں، یہ اتنی دیر وہاں ٹھہر گیا جتنی دیر کہ اس کی فوج کی شکست خوردہ جماعتیں جو اس کے پاس آگئی تھیں گھاٹی سے گزر گئیں۔ (طبری)

شکست خوردہ مشرکین کے تیسرے اور سب سے بڑے گروہ کے تعاقب میں جس نے طائف کی راہ لی تھی، خود رسول اللہ ﷺ مال غنیمت جمع فرمانے کے بعد ان کی طرف روانہ ہوئے، مالِ غنیمت یہ تھا۔

قیدی چھ ہزار، اونٹ چوبیس ہزار، بکری چالیس ہزار سے زیادہ، چاندی چار ہزار اوقِیہ (یعنی ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم، جس کی مقدار چھ کوئنٹل سے چند ہی کلو کم ہوتی ہے )

رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو جمع کرنے کا حکم دیا، پھر اسے جِعرانہ میں روک کر حضرت مسعود بن عمرو غفاریؓ کی نگرانی میں دے دیا اور جب تک غزوہ طائف سے فارغ نہ ہوگئے اسے تقسیم نہ فرمایا۔

قیدیوں میں شیماء بنت حارث سعدیہ بھی تھیں جو رسول اللہﷺ کی رضاعی بہن تھیں، جب انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور انہوں نے اپنا تعارف کرایا تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک علامت کے ذریعہ پہچان لیا، پھر ان کی بڑی قدر وعزت کی، اپنی چادر بچھا کر بٹھایا اور احسان فرماتے ہوئے انہیں ان کی قوم میں واپس کردیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں