دو دوست

ایک شخص نے اپنے دوست سے کہا :
” تم جس دریا دلی سے غریبوں پر پیسہ خرچ کر رہے ہو ، کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ یہ دریا دلی کا رویہ تمہیں شرمندہ کرے گا اور کل خود تمہیں پیسے کی ضرورت پیش آئے گی؟

میرا خیال تھا کہ اس کا جواب ہوگا
“صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔ “
یا پھر
“خرچ کیجئے تاکہ تم پر خرچ کیا جائے۔”
لیکن میرے لیے اس کا جواب بالکل انوکھا اور حیرت انگیز تھا۔

وہ پورے وثوق سے بولا۔
” خرچ کرنے والے شہیدوں کی طرح ہیں”
{لا خوف عليهم و لا هم يحزنون}
” نہ انہیں مستقبل کا اندیشہ ہوتا ہے اور نہ ماضی پر ملال” ۔

میں نے فوراً قرآن مجید کھول کر تصدیق کرلی کہ کیا واقعی
{أن لا خوف عليهم و لا هم يحزنون}
کی بشارت ، شہداء اور مال خرچ کرنے والے دونوں قسم کے لوگوں کے لیے یکساں ہے؟

سورة البقرة میں مال خرچ کرنے والوں کے حق میں دو بار یہ آیت و بشارت آئی ہے.

{ اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّهِـمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ } ( البقرة : 274)

” جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن چھپا کر اور علانیہ خرچ کرتے ہیں ، ان کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر وثواب ہے، انہیں نہ مستقبل کا خوف ہوتا ہے نہ ماضی پر ملال۔”
اور فرمایا :

” اَلَّـذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَـهُـمْ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ثُـمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَا اَذًى ۙ لَّـهُـمْ اَجْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ” ( البقرہ: 262 )

” جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ تکلیف پہنچاتے ہیں، انہیں ان کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر وثواب ہے۔ نہ انہیں مستقبل کا خوف ہوتا ہے اور نہ ماضی پر افسوس۔”

جب کہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 170 میں شہداء کے بارے میں یہ بشارت آئی ہے
” وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّـذِيْنَ قُتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ اَمْوَاتًا ۚ بَلْ اَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ يُـرْزَقُوْنَ (169)
فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتَاهُـمُ اللّـٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَيَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّـذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِـهِـمْ مِّنْ خَلْفِهِـمْ
اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْـهِـمْ وَلَا هُـمْ يَحْزَنُـوْنَ” ( آل عمران : 170)

” جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے رب کے ہاں سے رزق دیا جاتا ہے ،اللہ نے اپنے فضل سے جو کچھ انہیں دیا ہے ، اس پر خوش رہتے ہیں اور ان کی طرف سے بھی خوش ہوتے ہیں جو ابھی ان سے آکر نہیں ملے۔ اس لیے کہ نہ انہیں مستقبل کا خوف ہوتا ہے اور نہ ماضی پر افسوس ۔”

یقیناً میری توجہ پہلی بار اس طرف گئی تھی کہ مال خرچ کرنے والے بھی شہداء کی طرح ہوتے ہیں۔
{ لا خوف عليهم و لا هم يحزنون }
(نہ انہیں اندیشہ ہوگا اور نہ ملال)

پہلی قسم کے لوگ وقت اور جان اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں تو دوسرے اپنا مال۔ دونوں اللہ کے ولی ہوتے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں