روزہ ایک بڑے سفر کی تیاری ھے

روزے سے مراد یہ ہے کہ صبح سے شام تک آدمی کھانے پینے سے اور مباشرت سے پرہیز کرے۔ نماز کی طرح یہ عبادت بھی ابتدا سے تمام پیغمبروں کی شریعت میں فرض رہی ہے۔ پچھلی جتنی امتیں گزری ہیں سب اسی طرح روزے رکھتی تھیں جس طرح امت محمدیؐ رکھتی ہے ۔ البتہ روزے کے احکام اور روزوں کی تعداد اور روزے رکھنے کے طریقوں میں شریعتوں کے درمیان فرق رہا ہے۔ آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مذاہب میں روزہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور موجود ہے ، اگرچہ لوگوں نے اپنی طرف سے بہت سی باتیں ملا کر اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ :

یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ( البقرہ 183 )

’’اے مسلمانو! تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا‘‘۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنی شریعتیں آئی ہیں وہ کبھی روزے کی عبادت سے خالی نہیں رہی ہیں ۔

روزہ کیوں فرض کیا گیا ؟

غور کیجیے کہ آخر روزے میں کیا بات ہے جس کی وجہ سے نے اس عبادت کو ہر زمانے میں فرض کیا ہے ؟

مقصد ِ زندگی … اللہ کی بندگی

اسلام کا اصل مقصد انسان کی پوری زندگی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت بنا دینا ہے ۔ انسان عبد یعنی بندہ پیدا ہوا ہے اور عبدیت یعنی بندگی اس کی عین فطرت ہے ۔ اس لیے عبادت یعنی خیال و عمل میں اللہ کی بندگی کرنے سے کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو آزاد نہ ہونا چاہیے ۔ اسے اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہمیشہ اور ہر وقت یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کس چیز میں ہے اور اس کا غضب اور ناراضی کس چیز میں ۔ پھر جس طرف اللہ کی رضا ہو ادھر جانا چاہیے اور جس طرف اس کا غضب اور اس کی ناراضی ہو اس سے یوں بچنا چاہیے جیسے آگ کے انگارے سے کوئی بچتا ہے ۔ جو طریقہ اللہ نے پسند کیا ہو اس پر چلنا چاہیے اور جس طریقے کو اس نے پسند نہ کیا ہو اس سے بھاگنا چاہیے ۔ جب انسان کی ساری زندگی اس رنگ میں رنگ جائے تب سمجھو کہ اس نے اپنے مالک کی بندگی کا حق ادا کیا اور وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ کا منشا پورا ہو گیا ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں