زلیــخا تو بہــت ہیں، تم یوســف بنو

آج کے نوجوانوں کے لیے زبردست تحریر –

والد صاحب نے فرمایا:
بیٹا …..!!! کبھی کسی کی عزت سے مت کهیلنا۔
کہیں ایسا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
کسی کی بیٹی تمہارے احساسات کے لیے رف کاپی ہو جائے۔

ایک ﺭﻭﺯ میں نے اپنے والد کی ان تمام نصیحتوں کا
جواب طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس طرح دیا کہ:

ان باتوں کا دور گزر گیا ہے۔ بابا جان ۔۔۔۔۔ !!!
آج کے دور کی لڑکیاں خود چل کر آتی ہیں۔
اور وہ تو خود ایسا چاہتی ہیں __

میرے والد نے میری آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر کہا:
بیٹا ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ تو بہت ﺯﯾﺎﺩﻩ ہیں۔
مگر ۔۔۔۔۔
آپ ” ﯾـﻮﺳـﻒ “ بن جاؤ ۔۔۔۔۔ !!!

جیسے ہی میں نے یہ جملہ سنا۔
میرے رونگھٹے کهڑے ہوگئے۔
قینچی کی طرح چلتی زبان بند ہو گئی۔
میرے پاس اب کوئی بھی جواب نہیں تها…
جو بابا جان کے سامنے پیش کر سکتا۔
ﻭﺍقعی وہ ﺣﻖ اور سچ کہہ رہے تهے۔

ہمیشہ ﺯﻟـﯿـﺨـﺎ ﺯﯾﺎﺩہ ہی رہی ہیں اور ہیں؛
مجهے چاہیئے کہ میں “ﯾـﻮﺳـﻒ “بنوں ۔۔۔۔۔
تیرے یـــــوســـــف بننے سے، زلیخـــــا بهی
ہوش و حواس میں آ جائے گی_ __

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں