سعد رضوی کی گرفتاری کے حقائق سامنے آ گئے

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے برعکس یہ حقیقت منظر عام پر آ چکی ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری حکومتی ایما کی بجائے پیر افضل قادری کی جانب سے جمع کروائی گئی ایف آئی آر کی بنا پر کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق پیر افضل قادری نے الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق ایف آئی آر میں درج کیا ہے کہ علامہ سعد رضوی نے غیر قانونی طور پر قبضہ گروپ قائم کر کے تحریک لبیک کے اثاثوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مزید برآں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سعد رضوی خافظ قرآن نہیں بلکہ نشہ کرتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے وہ تحریک لبیک کے سربراہ نہیں بن سکتے۔

ہمارے نمائندہ کے مطابق گزشتہ روز پیر افضل قادری نے ایف آئی آر درج کروانے کے بعد بعض اعلی سطح پر رابطے بھی کئے تھے جس کی وجہ سے گرفتار کا عمل ہوا۔ پیر افضل قادری نے مقدمات چوری اور فوجداری کی دفعات کے تحت جمع کروائے جنکا متن یہ تھا کہ سعد رضوی نے تحریک لبیک کے جتنے بھی اثاثے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کئے’ ان پر صرف تحریک لبیک کا حق ہے اور بطور بانی تحریک لبیک وہ اسکو چوری ہی گردانتے ہیں۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس مخالفت کی وجہ لاہور میں 200 ایکڑ پر قائم مدرسہ کی ایک زمین ہے جس پر پیر افضل قادری نے اپنا مدرسہ قائم کرنا چاہا تھا لیکن سعد رضوی نے منع کردیا۔

دوسری جانب تحریک لبیک کے ذرائع نے یہ دعوے کرنے کی کوشش کی ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری حکومتی ایما پر عمل میں آئی تاکہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملہ کو مزید موخر کیا جائے۔ تحریک لبیک کی سینئر قیادت جان بوجھ کر پیر افضل قادری کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کو چھپا رہی ہے تاکہ آپسی اختلافات عوام کے سامنے نا آئیں۔ البتہ پولیس ذرائع نے پیر افضل قادری کو شام تک ڈیڈلائن دے دی ہے کہ اگر آپ خود اپنی ایف آئی آر سامنے نا لائے تو شام تک یہ معاملہ پولیس کے ترجمان سامنے لے آئیں گے جس کے بعد تحریک لبیک کے مشتعل گروپوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے درج ہونگے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں