عام الحزن ۔۔۔ ابو طالب کی وفات

صحیح بخاری میں حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، وہاں ابوجہل بھی موجود تھا

آپ نے فرمایا : “چچا جان! آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجیے، بس ایک کلمہ جس کے ذریعے میں اللہ کے پاس آپ کے لیے حجت پیش کرسکوں گا۔”

ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا : “ابوطالب! کیا عبدالمطلب کی ملت سے رخ پھیر لو گے؟”

پھر یہ دونوں برابر ان سے بات کرتے رہے، یہاں تک کہ آخری بات جو حضرت ابو طالب نے لوگوں سے کہی

یہ تھی کہ ”عبد المطلب کی ملت پر” پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہوکر کہا : “میں وہ کلمہ کہہ دیتا، لیکن قریش کہیں گے کہ موت سے ڈر گیا۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “میں جب تک آپ سے روک نہ دیا جاؤں، آپ کے لیے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔”

اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

”نبی اور اہل ایمان کے لیے درست نہیں کہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں، اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ ان پر واضح ہوچکا ہے کہ وہ لوگ جہنمی ہیں..” ﴿١١٤﴾ (۹: ۱۱۳)

اور یہ آیت بھی نازل ہوئی:

”آپ جسے پسند کریں ہدایت نہیں دے سکتے۔” (۲۸: ۵۶) (صحیح بخاری، باب قصۃ ابی طالب ۱/۵۴۸)

یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ حضرت ابو طالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کس قدر حمایت وحفاظت کی تھی، وہ درحقیقت مکے کے بڑوں اور احمقوں کے حملوں سے اسلامی دعوت کے بچاؤ کے لیے ایک قلعہ تھے، لیکن وہ بذاتِ خود اپنے بزرگ آباء و اجداد کی ملت پر قائم رہے، اس لیے مکمل کامیابی نہ پاسکے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ اپنے چچا کے کیا کام آسکے؟ کیونکہ وہ آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کے لیے (دوسروں پر ) بگڑتے (اور ان سے لڑائی مول لیتے ) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “وہ جہنم کی ایک چھچھلی جگہ میں ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے گہرے کھڈ میں ہوتے۔”

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے چچا کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا: “ممکن ہے قیامت کے دن انہیں میری شفاعت فائدہ پہنچا دے اور انہیں جہنم کی ایک اوتھلی جگہ میں رکھ دیا جائے جو صرف ان کے دونوں ٹخنوں تک پہنچ سکے۔” (صحیح بخاری , باب قصۃ ابی طالب ۱/۵۴۸)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں