علماء کے معاشرتی علوم

معاشرے کیساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کے لیے علماء کرام کو ان طریقوں کو جاننا ضروری ہے جو جدید پڑھے لکھے طبقے میں رائج ہیں ۔ ان میں سے کوئی بات بھی خلاف شریعت نہیں بس جدید لوگ اسی زبان کے عادی ہیں لہذا علماء کرام کو ان کا جاننا ضروری ہے اور وہ کچھ یہ ہیں

عام معاشرے کی جدید اصطلاحات ۔ جیسے کالج اور یونیورستی میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ یونیورسٹی میں کتنے شعبے ہوتے ہیں ۔ انجیئنرنگ کے کتنے شعبے ہیں ۔ میڈیکل کے کتنے وغیرہ ۔ یہ بہت معمولی سی معلومات ہیں ۔ سمسٹر کیا ہوتا ہے ۔ بی ایس کیا ہے ۔ ایم ایس کیا ہے ایم فل کیا وغیرہ وغیرہ ۔

جدید ٹول یعنی علمی جدید آلات کا جاننا جیسے ایم ایس آفس کو کیسے استعمال کرتے ہیں ۔ ای میل کیسے ہوتی ہے اور اس کا فائدہ کیا ہے ۔ پرزنٹیشن کیا ہوتی ہے اور کیسے بناتے ہیں ۔ اس کا فائدہ کیا ہے وغیرہ ۔ پروجیکٹر کیا ہے اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں ۔

جدید اپلیکیشنز کو کیسے استعمال کرتے ہیں خاص طور پر جن کا تعلق تعلیمی چیزوں سے ہے ۔ جیسے زوم ، سکائپ ، گوگل کلاس روم ۔ وغیرہ

علم قانون کو بقدر ضرورت جاننا جیسے عائلی قوانین کیا ہیں ، فوجداری کیا ہیں ۔ حکومت کے کتنے شعبے ہوتے ہیں ۔

جدید طریقہ تحقیق ، اس کا طریقہ کار ۔ جنرل کیا ہوتا ہے کس طرح کے رسالے کو کہتے ہیں ۔ آرٹیکل کیا ہوتا ہے ۔

اگر اس کا نام علماء کی ضرورت کے معاشرتی علوم رکھ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا لیکن انہیں ایک تو یہ فائدہ ہوگا کہ ان کی بات سمجھنا آسان ہوجائے گا اور اپنی بات سمجھنانا بھی دوسرا کچھ لوگ جو زبردستی اپنے دنیاوی علوم کا رعب جھاڑنے کے لیے جدید الفاظ استعمال کرتے ہیں وہ بھی نہ رہے گا۔ تیسرا کچھ بھی اجنبی معلوم نہ ہوگا تو زیادہ خود اعتمادی سے دین کی بات کہہ سکیں گے ۔

اس پر کوئی ایک کتاب بھی لکھی جاسکتی ہے اور صرف دروس کا اہتمام بھی کیا جاسکتا ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں