غزوہ تبوک

غزوۂ فتح مکہ، حق وباطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا، اس معرکے کے بعد اہلِ عرب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا، اسی لیے حالات کی رفتار یکسر بدل گئی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوگئے، اس کا کچھ اندازہ ان تفصیلات سے لگ سکے گا جنہیں ہم وفود کے باب میں پیش کریں گے اور کچھ اندازہ اس تعداد سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو حجۃ الوداع میں حاضر ہوئی تھی، بہرحال اب اندرونی مشکلات کا تقریباً خاتمہ ہوچکا تھا اور مسلمان شریعتِ الٰہی کی تعلیم عام کرنے اور اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیے یکسو ہوگئے تھے، اب ایک ایسی طاقت کا رُخ مدینہ کی طرف ہوچکا تھا جو کسی وجہ جواز کے بغیر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی، یہ طاقت رومیوں کی تھی جو اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑی فوجی قوت کی حیثیت رکھتی تھی۔

حضور اکرم ﷺ نے تبلیغ اسلام کے لئے جو خطوط بادشاہوں اور مختلف قبائل کے سرداروں کے نام بھیجے تھے اُن میں ایک خط شہنشاہ روم کے نام بھی تھا، قیصرِ روم نے حضور ﷺ اور مسلمانوں سے متعلق حالات معلوم کروائے تھے اور اسے یقین ہوگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ ﷲ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں، مگر جب آپ ﷺ کا نامِ مبارک دیکھا جس میں دعوتِ اسلام دی گئی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ اسلام اور سلطنت میں سے اُسے کسی ایک چیز ہی کو منتخب کرنا پڑے گا تو اُس نے سلطنت کو ترجیح دی، اُسی زمانے میں حضور اکرم ﷺ نے ایک خط شام کے شاہِ غسّان کے نام بھی بھیجا تھا جس میں اُسے اسلام کی دعوت دی گئی تھی، لیکن شام کی سرحد پر وہاں کے حاکم شرحبیل بن عمرو غسّانی نے حضور اکرم ﷺ کے قاصد حضرت حارثؓ بن عُمیر ازدی کو قتل کردیا تھا، سفیر کا قتل ایک بڑا جرم تھا جس کی تنبیہ کے لئے حضور اکرم ﷺ نے تین ہزار صحابہ کرامؓ کی ایک جمعیت کو سرحدِ شام کی طرف روانہ کیا تھا، شرحبیل بھی اسلامی لشکر کے مقابلہ کے لئے ایک لاکھ شامی اور رُومی سپاہیوں کی فوج لے کر میدان میں آگیا تھا، نبی ﷺ نے اس کے بعد حضرت زید بن حارثہؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا تھا جس نے رومیوں سے سر زمین موتہ میں خوفناک ٹکر لی، مگر یہ لشکر ان متکبر ظالموں سے انتقام لینے میں کامیاب نہ ہوا، البتہ اس نے دور ونزدیک کے عرب باشندوں پر نہایت بہترین اثر ات چھوڑے۔

قیصر روم ان اثرات کو اور ان کے نتیجے میں عرب قبائل کے اندر روم سے آزادی اور مسلمانوں کی ہم نوائی کے لیے پیدا ہونے والے جذبات کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا، اس کے لیے یقینا یہ ایک ”خطرہ ” تھا جو قدم بہ قدم اس کی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا اور عرب سے ملی ہوئی سر حد شام کے لیے چیلنج بنتا جارہا تھا، اس لیے قیصر نے سوچا کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک عظیم اور ناقابل شکست خطرے کی صورت اختیار کرنے سے پہلے پہلے کچل دینا ضروری ہے تاکہ روم سے متصل عرب علاقوں میں ”فتنے” اور ”ہنگامے” سر نہ اٹھا سکیں۔

ان مصلحتوں کے پیش نظر ابھی جنگِ موتہ پر ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ قیصر نے رومی باشندوں اور اپنے ماتحت عربوں یعنی آلِ غسان وغیرہ پر مشتمل فوج کی فراہمی شروع کردی اور ایک خونریز اور فیصلہ کن معرکے کی تیاری میں لگ گیا۔

روم وغَسّان کی تیاریوں کی عام خبریں:

ادھر مدینہ میں پے در پے خبریں پہنچ رہی تھیں کہ روم مسلمانوں کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکے کی تیاری کر رہے ہیں، اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ہمہ وقت کھٹکا لگا رہتا تھا اور ان کے کان کسی بھی غیر مُعتاد آواز کو سن کر فوراً کھڑے ہوجاتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ رومیوں کا ریلا آگیا۔

ان حالات اور خبروں کا مسلمان سامناکر ہی رہے تھے کہ انہیں اچانک ملک شام سے تیل لےکر آنے والے نبطیوں (نابت بن اسماعیل علیہ السلام کی نسل، جنہیں ایک وقت پٹرا اور شمالی حجاز میں بڑا عروج حاصل تھا۔ زوال کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ معمولی کسانوں اور تاجروں کے درجہ میں آگئے) سے معلوم ہوا کہ ہرقل نے چالیس ہزار سپاہیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا ہے اور روم کے ایک عظیم کمانڈر کو اس کی کمان سونپی ہے، اپنے جھنڈے تلے عیسائی لخم وجذام وغیرہ کو بھی جمع کرلیا ہے اور ان کا ہراول دستہ بلقاء پہنچ چکا ہے، اس طرح ایک بڑا خطرہ مجسم ہوکر مسلمانوں کے سامنے آگیا۔

پھر جس بات سے صورت حال کی نزاکت میں مزید اضافہ ہورہا تھا وہ یہ تھی کہ زمانہ سخت گرمی کا تھا، لوگ تنگی اور قحط سالی کی آزمائش سے دوچار تھے، سواریاں کم تھیں، پھل پک چکے تھے، اس لیے لوگ پھل اور سائے میں رہنا چاہتے تھے، وہ فی الفور روانگی نہ چاہتے تھے، ان سب پر مستزاد مسافت کی دوری اور راستے کی پیچیدگی اور دشواری تھی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں