غزوہ وادی القری

رسول اللہ ﷺ خیبر سے فارغ ہوئے تو وادی القریٰ تشریف لے گئے

وہاں بھی یہود کی ایک جماعت تھی اور ان کے ساتھ عرب کی ایک جماعت بھی شامل ہوگئی تھی

جب مسلمان وہاں اترے تو یہود نے تیروں سے استقبال کیا

وہ پہلے سے صف بندی کیے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ کا ایک غلام مارا گیا

لوگوں نے کہا : اس کے لیے جنت مبارک ہو

نبی ﷺ نے فرمایا : ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے جنگ خیبر میں مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے اس میں سے جو چادر چرائی تھی وہ آگ بن کر اس پر بھڑک رہی ہے

لوگوں نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد سنا تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا : یہ ایک تسمہ یا دوتسمہ آگ کا ہے۔ ( صحیح بخاری ۲/۶۰۸)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں