غیر ملکی افواج،امریکی سفارتکاروں کے بھی انخلا کا فیصلہ ،طالبان کا خیر مقدم

افغانستان میں یکم مئی 2021 سے غیر ملکی افواج کے ساتھ ہی امریکی سفارتکاروں کے انخلا کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے, جس کا طالبان نے خیر مقد م کیا ہے۔ طالبان نے امریکی اور نیٹو فورسز کے
کمانڈر جنرل سکاٹ مِلر کی طرف سے کابل میں دیے گئے اس بیان کی پذیرائی کی ہے جس میں جنرل سکاٹ ملر نے کہا تھا کہ انخلا کا عمل یکم مئی سے شروع ہو جائے گا۔طالبان کی ویب سائٹ پر ایک آرٹیکل میں تحریر کیا گیا ہے کہ انخلا کا یہ اعلان قابل تعریف ہے۔ اس آرٹیکل میں مزید درج ہے ،افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی جنگ کی بنیادی وجہ ہے ۔ اب ہمیں یہ خوش امیدی ہوئی ہے
کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا تنازعہ ختم ہو جائے گا اور مستقبل میں افغان شہری پر امن طریقے سے زندگی گزار سکیں گے ، طالبان کی طرف سے سامنے آنے والے بیان کو امریکہ کے لیے ایک پیغام سمجھا جا رہا ہے ۔ جس میں طالبان ایک بار پھر امریکہ کو باور کرا رہے ہیں کہ دوحہ معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے,
خاص طور سے افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے طے شدہ وقت کی مکمل پابندی کی جانا چاہیے ۔امریکی چیئرمین آف دی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے نے کہا ہے کہ فوجی انخلا کے بعد افغانستان کے حالات کی پیشگوئی کرنا سردست ممکن نہیں، صورتحال مخدوش ہے ، انخلا کے کئی نتائج نکلیں گے جن میں سے کچھ بہت بدتر بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ افغان حکومت یا فوج کی ناکامی، خانہ جنگی اور انسانی بحران کا پیدا ہونا۔ انخلا کا ایک ممکنہ نتیجہ القاعدہ کا دوبارہ مضبوط ہونا بھی ہو سکتا ہے تاہم انخلا کے بعد بھی ہم القاعدہ پر نظر رکھیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کوئی اچھا معاہدہ بھی ہو سکتا ہے ۔
امریکی قانون سازوں نے افغانستان سے فوجی انخلا پر خواتین کے مستقبل پر خدشات کا اظہار کیا ہے ۔
دریں اثنا افغانستان میں سلامتی کی کشیدہ صورتحال کے باعث امریکی وزارت خارجہ نے کابل کے امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں