فواد چودھری کو مرچیں کیوں لگیں۔۔۔۔؟؟

وفاقی وزیر فواد چودھری کی لاہور یونیورسٹی میں اعلانیہ بےحیائی کی حمایت کرنا اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ حکومت نے “ریاست مدینہ” کا نعرہ لگاکر دراصل عوام کو چونا لگایا تھا۔*

عمران کے علاوہ باقی تمام وزراء بالخصوص فواد چودھری پاکستانی معاشرے میں لبرل ازم کے فروغ کے بہت بڑے حامی بنے ہوئے ہیں۔

پہلے بھی کہا تھا اب بھی کہہ رہا ہوں بلکہ لکھ کے رکھ لیں میری یہ بات کہ
یہ فواد چودھری ایک دن عمران کو لے ڈوبے گا۔

عمران خان ریاست مدینہ کے نعرے لگاتا ہے یہ “ریاست بےحیائی” بنانا چاہتا ہے۔

ہر وہ کام جس سے “لبرل ازم” اس وطن میں پھیل سکے
یہ
فواد چودھری اسکی بھرپور حمایت کرتا ہے
اور ہر وہ کام جس سے ممکنہ طور پر “مذھبی طبقے” کے طاقتور ہونے کا خدشہ بھی ہو تو اسکی حوصلہ شکنی کروا کے ڈنڈے یا سیاسی چالوں سے روکتا ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے یہی
فواد چودھری عمران کابینہ میں سب سے بڑا لبرل بیغیرت اور
بےحیا انسان ہے۔

حال ہی میں
لاہور یونیورسٹی میں اعلانیہ ڈیٹنگ ہوئی تو یونیورسٹی انتظامیہ نے اسکے خلاف ایکشن لیا۔
فواد چودھری کو اس ایکشن پر فورا مرچیں لگ گئی کہ انتظامیہ نے کیونکر لبرل ازم کو یونیورسٹی میں پھلنے پھولنے سے روکا۔ اس
اس فواد چودھری کا بس چلے تو انتظامیہ کو جیلوں میں بند کر
دے.
اور
یونیورسٹیوں میں بوس و کنار کے مقابلے کروانا شروع کردے۔

جس کی رگ رگ میں لبرل ازم ہو، جو کبھی دین کے قریب سے بھی نہ گزرا ہو،
صرف وہی ایسی باتیں کر سکتا ہے۔
کوئی سچا مسلمان ایسی بات کبھی نہیں کر سکتا۔

کیا
اس فواد چودھری کے مسلمان ہونے کے بارے میں کسی کے پاس مصدقہ معلومات ہیں تو ضرور شیئر کرے،
اسکے لبرل ازم کی تصاویر وڈیوز بھی شیئر کریں
تاکہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بنی مملکت کی عوام
بالخصوص عمران خان اور انصافیوں کو اسکی اصلیت پتا چل سکے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں