قاضی عیسی کی 22 کروڑ کی فصل اور پھر کہتے ہیں کہ جرنیلوں کا احتساب ہونا چائیے ڈی ایچ اے کا احتساب ہونا چائیے

کون کہتا ہے بلوچستان میں ذراعت نہیں ہوتی؟
فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی کے مطابق اس نے لندن میں 22 کروڑ مالیت کی تین جائدایں اپنی فصلیں بیچ کر خریدیں یعنی “ذراعت” کی کمائی سے۔

یہ بتانے پر تیار نہیں کہ “فصل” کون سی بیچی تھی اور پیسے کیسے لندن بھجیے ؟
سرینا عیسی نے ججز سے سوال کیا کہ اگر کل آپ لوگوں سے سوال کیا گیا کہ دولت کہاں سے آئی تو کیا جواب دینگے ؟
جس کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ قاضی عیسی اور ان کی بیگم سے ان کی دولت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جائیگا۔

معاملے کا مختصر سا احوال پھر پیش خدمت ہے۔

تحقیقاتی اداروں نے فائز عیسی کی لندن میں خفیہ جائیدداوں کا انکشاف کیا۔
صدر مملکت نے
صدارتی آرڈیننس کے ذریعے “منی ٹریل” مانگا۔ فائز عیسی نے جواب میں فرمایا کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے،
میں نے پاکستان بنایا تھا اور میں عدلیہ کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوں۔
ان دلائل کو سپریم کورٹ نے “منی ٹریل” تسلیم کرتے ہوئے کیس خارج کر دیا بس اتنا کہا کہ “چلیں “منی ٹریل” نہ دیں اس خفیہ دولت پر ٹیکس جمع کرایا یا نہیں وہ ایف بی آر کو چیک کر لینے دیں۔”

ایف آبی آر نے کچھ تحقیقات کیں جس نے پتہ چلا کہ قاضی کی بیوی سرینا عیسی نے دوسرا شناختی کارڈ ذرینہ عیسی کے نام بھی بنوا رکھا ہے۔ ذرینہ نے سرینا کو پیسے بھیجے۔ شوہر کے ساتھ ملکر خفیہ اکاؤنٹ چلاتی رہیں جس میں نامعلوم ذرائع سے دولت آتی رہی۔
پاکستان سے کروڑوں روہے خفیہ طریقے سے باہر بھیجے گئے۔
جن پیسوں کا وہ آج بتا رہی ہے کہ جائدادیں خریدنے کے لیے بھیجے گئے تھے,

قاضی عیسی کی بیوی نے اس وقت کہا تھا بچوں کی پڑھائی کے لیے بھیج رہی ہوں۔
ایف بی آر نے قاضی عیسی اور اس کی بیوی کے اپنے ہی جمع کردہ کاغذات میں بہت بڑی جعل سازیوں کا انکشاف کیا ہے۔

فائز عیسی کو دوبارہ غصہ آیا اور سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اپنا پرانا فیصلہ پھر تبدیل کریں اور
“ہمیں ہر قسم کی تحقیقات سے متثنی قرار دیں۔”

سپریم کورٹ نے وجہ پوچھی تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ “پاکستان گٹر سے مشابہ ہے، میں شہید ہوا تو جنتی ہونگا،
عمران خان نے بال ٹمپرنگ کی تھی، میری ساس کا نام رخشندہ ہے، مجھے رخشندہ سے محبت ہے اور میری چھوٹی سالی بہت تکلیف میں ہے۔”

سپریم کورٹ ان ٹھوس دلائل سے متاثر ہوئی لیکن فیصلہ کن دلیل اس کی بیوی نے دی جب سپریم کورٹ کے ججز سے سوال کیا کہ اگر کل آپ سے حساب مانگا گیا تو ؟ ؟

اور سپریم کورٹ نے میاں بیوی کو ہر قسم کے سوال اور تحقیقات سے ماوراء قرار دے دیا۔

فائز عیسی نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ان کو حدیبیہ پیپر مل کی اربوں کی کرپشن سے نہ صرف نکال باہر کیا تھا بلکہ اس پر کوئی قانونی کاروائی تو کجا میڈیا میں بات کرنے پر بھی پابندی لگوا دی تھی۔
اس قسم کے فیصلوں کے بعد جب لندن میں اس کی دولت بڑھنے لگی تو آج سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا کہ
قاضی سے اس کی دولت کا حساب نہ مانگا جائے کہ کہاں سے آ رہی ہے !!!

اللہ اللہ خیر سلا ۔۔۔

سپریم کورٹ کا جج ہونے کے ناطے قاضی فائز عیسی ریٹائرڈ ہوگا تو عوام کے پیسوں سے اس کو ۔۔

ماہانہ 9 لاکھ 28 ہزار روپے پنشن ملے گی،
56 ہزار خصوصی پنشن،
68 ہزار گھر کا کرایہ،
55 ہزار ماہانہ میڈیکل الاؤنس،
ایک ملازم،
1800 سی سی گاڑی بمع ایک ڈرائیور،
24 گھنٹے کی مستقل سیکیورٹی،
600 لیٹر ماہانہ پٹرول،
2 ہزار فون کالز کہیں بھی،
لاکھوں روپے کی بجلی اور گیس عوام کے پیسوں سے بلکل فری۔

یہ تنخواہیں اور مراعات یہ ججز اپنے لیے خود طے کرتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی “ذرعی آمدنی” ان کے علاوہ اور ہر قسم کے سوالات سے بالاتر بھی قرار دے دیئے گئے۔

عدالتوں کو ٹھیک کیے بغیر پاکستان میں کوئی ایک بھی چیز ٹھیک نہیں کی جا سکتی اور اس کا آغاز ججوں کے احتساب اور جج بنانے کے طریقہ کار میں تبدیلی سے کیا جاسکتا ہے۔ خاص طور پر وکلاء کو جج بنانے کا عمل بند کرنا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں