لاہور انجیوز مافیا سکینڈل

لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں انجیوز کھل گئی ہیں جو مشہور و معروف نامور فنکاروں کے نام پر اور ان کی تصاویروں کو کیش کروا کر غریب اور مستحق لوگوں کی جھلکیاں دکھا کر ان کی آڑ میں مقروع دھندا کر رہے ہیں ان میں سے بیشتر ان انجیوز کو چلانے والے مڈل پاس بطور پریذیڈنٹ اور سی ای او ان سیٹوں پر براجمان ہیں آپ اندازہ لگائیں کے ایک مڈل پاس سی ای او یا پریسیڈینٹ کی سیٹ پر بیٹھ کر غریب اور مستحق لوگوں کا علاج کر رہا ہے اور اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلواتے ہوے بلکل بھی شرم محسوس نہیں کرتا اور سب پڑھے لکھے گوار اس کے پاس پندرہ سے بیس ہزار میں ملازمت کر رہے ہیں دراصل یہ لوگ بہروپیے ہیں بلکہ مداری ہیں آپ نے بچپن میں ڈرامہ دیکھا ہو گا ایک مداری اپنے ارد گرد کافی ہجوم اکھٹا کر کے تماشا دکھاکر لوگوں سے پیسے اکھٹا کرتا ہے اور بولتا ہے کہ بچہ گھوم جا ویسے ہی یہ مافیا سب کو گھوما رہا ہی ، دوزخ سے اپنا پیٹ بھر رہے ہیں اور اپنوں کو نواز رہے ہیں جس کا کوئ آڈٹ نہیں اور نہ ہی کوئ پرسان حال ہے کوی پوچھنے والا نہیں بیرون ملک سےکروڑوں روپے کی ڈونیشن اکھٹی کر کے ڈکار مار کے بیٹھے ہیں ان گھنونے کاروبار میں میڈیا کے جعلی اور بڑے عہدیدار بھی اپنی بلیک منی وائٹ کر رہے ہیں یہ ان کی نشاندہی کرنے کی بجاے ان کی پبلسٹی کرتے ہیں کے آو یتیم مسکینوں کا مال کھاؤ ان سب انجیوز کی نے اس مشکل گھڑی میں جب پاکستان کی عوام کووڈ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہے سفید پوش لوگ فاقہ کاٹ رہے ہیں رمضان المبارک کاُمہینہ ہے لوگ روزہ رکھ بھی کھانے پینے کی اشیاء خریدنے سے قاصر ہیں کووڈ کے مریضوں کیلیے کوی احسن اقدام نہیں کیا اس پاک مہینے میں کروڑوں روپے کی ایڈ اکھٹی کر کے اپنا پیٹ جہنم کی آگ سے بھر رہے ہیں میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ان انجیوز مافیا سے بچیں مشکل گھڑی میں اس مہلک بیماری میں لوگوں کی ڈائریکٹ مدد کریں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں