مختلف وفود کی آمد

اہل مغازی نے جن وفود کا تذکرہ کیا ہے ان کی تعداد ستر سے زیادہ ہے، لیکن یہاں نہ تو ان کے اِستقصاء کی گنجائش ہے اور نہ ان کے تفصیلی بیان میں کوئی بڑا فائدہ ہی مضمر ہے، اس لیے ہم صرف انہی وفود کا ذکر کررہے ہیں جو تاریخی حیثیت سے اہمیت و ندرت کے حامل ہیں۔

قارئین کرام کو یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اگر چہ عام قبائل کے وفود فتح مکہ کے بعد خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہونا شروع ہوئے تھے، لیکن بعض بعض قبائل ایسے بھی تھے جن کے وفود فتح مکہ سے پہلے ہی مدینہ آچکے تھے، یہاں ہم ان کا ذکر بھی کررہے ہیں۔

۔ وفد عبد القیس

اس قبیلے کا وفد دوبار خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوا تھا، پہلی بار ۵ ھ میں یا اس سے بھی پہلے اور دوسری بار عام الوفود ۹ ھ میں، پہلی بار اس کی آمد کی وجہ یہ ہوئی کہ اس قبیلے کا ایک شخص منقذ بن حبان سامان تجارت لے کر مدینہ آیا جایا کرتا تھا، وہ جب نبی ﷺ کی ہجرت کے بعد پہلی بار مدینہ آیا اور اسے اسلام کا علم ہوا تو وہ مسلمان ہوگیا، اور نبی ﷺ کا ایک خط لےکر اپنی قوم کے پاس گیا، ان لوگوں نے بھی اسلام قبول کرلیا اور ان کے ۱۳ یا ۱۴ آدمیوں کا ایک وفد حرمت والے مہینے میں خدمتِ نبوی میں حاضر ہوا۔

اسی دفعہ اس وفد نے نبی ﷺ سے ایمان اور مشروبات کے متعلق سوال کیا تھا، اس وفد کا سربراہ الاشج العصری تھا، جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں دو ایسی خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتا ہے:
(۱) دور اندیشی اور (۲) بُردباری۔

دوسری بار اس قبیلے کا وفد جیساکہ بتایا گیا وفود والے سال میں آیا تھا، اس وقت ان کی تعداد چالیس تھی اور ان میں علاء بن جارود عبدی تھا جو نصرانی تھا، لیکن مسلمان ہو گیا اور اس کا اسلام بہت خوب رہا۔ ( شرح صحیح مسلم للنووی۱/۳۳، فتح الباری ۸/۸۵، ۸۶)

۔ وفد دَوس

یہ وفد ۷ ھ کے اوائل میں مدینہ آیا، اس وقت رسول اللہ ﷺ خیبر میں تھے، آپ پچھلے اوراق میں پڑھ چکے ہیں کہ اس قبیلے کے سربراہ حضرت طُفیل بن عَمرو دوسیؓ اس وقت حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تھے، جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے، پھر انہوں نے اپنی قوم میں واپس جاکر اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام مسلسل کیا، لیکن ان کی قوم برابر ٹالتی اور تاخیر کرتی رہی، یہاں تک کہ حضرت طفیل ان کی طرف سے مایوس ہوگئے، پھر انہوں نے خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ آپ قبیلہ دوس پر بد دعا کردیجیے، لیکن آپ نے فرمایا: اے اللہ! دوس کو ہدایت دے۔ اور آپ کی اس دعا کے بعد اس قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے اور حضرت طفیل نے اپنی قوم کے ستھر یا اسی گھرانوں کی جمعیت لے کر ۷ ھ کے اوائل میں اس وقت مدینہ ہجرت کی جب نبی ﷺ خیبر میں تشریف فرما تھے، اس کے بعد حضرت طفیل نے آگے بڑھ کر خیبر میں آپ کا ساتھ پکڑ لیا۔

۔ فروہ بن عَمْرو جذامی کا پیغام رساں

حضرت فَرْوَہ، رومی سپاہ کے اندر ایک عربی کمانڈر تھے، انہیں رُومیوں نے اپنے حدود سے متصل عرب علاقوں کا گورنر بنا رکھا تھا، ان کا مرکز معان (جنوبی اُردن ) تھا اور عملداری گرد وپیش کے علاقے میں تھی، انہوں نے جنگ مُوتہ ( ۸ ھ ) میں مسلمانوں کی معرکہ آرائی، شجاعت اور جنگی پختگی دیکھ کر اسلام قبول کرلیا اور ایک قاصد بھیج کر رسول اللہ ﷺ کو اپنے مسلمان ہونے کی اطلاع دی، تحفہ میں ایک سفید خچر بھی بھجوایا، رومیوں کو ان کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو انہوں نے پہلے تو انہیں گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا، پھر اختیار دیا کہ یا تو مرتد ہوجائیں یاموت کے لیے تیار رہیں، انہوں نے ارتداد پر موت کو ترجیح دی، چنانچہ انہیں فلسطین میں عفراء نامی ایک چشمے پر سولی دے کر ان کی گردن مار دی گئی۔( زادالمعاد ۳/۴۵)

۔ وفد طَی

اس وفد کے ساتھ عرب کے مشہور شہسوار زید الخیل بھی تھے، ان لوگوں نے جب نبی ﷺ سے گفتگو کی اور آپ نے ان پر اسلام پیش کیا تو انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور بہت اچھے مسلمان ہوئے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ سے عرب کے جس کسی آدمی کی خوبی بیان کی گئی اور پھر وہ میرے پاس آیا تو میں نے اسے اس کی شہرت سے کچھ کمتر ہی پایا، مگر اس کے برعکس زید الخیل کی شہرت ان کی خوبیوں کو نہیں پہنچ سکی اور آپ نے ان کا نام زید الخیر رکھ دیا۔

۔ وفد عذرہ

یہ وفد صفر ۹ ھ میں مدینہ آیا، بارہ آدمیوں پر مشتمل تھا، اس میں حمزہ بن نعمان بھی تھے، جب وفد سے پوچھا گیا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ تو ان کے نمائندے نے کہا: ہم بنو عذرہ ہیں، قُصّیِ کے اَخْیافی بھائی، ہم نے ہی قصی کی تائید کی تھی اور خزاعہ اور بنوبکر کو مکہ سے نکالا تھا، (یہاں) ہمارے رشتے اور قرابت داریاں ہیں، اس پر نبی ﷺ نے خوش آمدید کہا اور ملک شام کے فتح کیے جانے کی بشارت دی، نیز انہیں کاہنہ عورتوں سے سوال کرنے سے منع کیا اور ان ذبیحوں سے روکا جنہیں یہ لوگ (حالت شرک میں ) ذبح کیا کرتے تھے، اس وفد نے اسلام قبول کیا اور چند روز ٹھہر کر واپس گیا۔

۔ وفد بلی

یہ ربیع الاول ۹ ھ میں آیا۔ اور حلقۂ بگوش اسلام ہو کر تین روز مقیم رہا۔ دوران قیام وفد کے رئیس ابوالضبیب نے دریافت کیا کہ کیا ضیافت میں بھی اجر ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں! کسی مالدار یا فقیر کے ساتھ جو بھی اچھا سلوک کروگے وہ صدقہ ہے۔ اس نے پوچھا: مدت ضیافت کتنی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تین دن۔ اس نے پوچھا: کسی لاپتہ شخص کی گمشدہ بھیڑ مل جائے تو کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے ہے، یاپھر بھیڑیے کے لیے ہے، اس کے بعد اس نے گمشدہ اونٹ کے متعلق سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اس سے کیا واسطہ؟ اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پاجائے۔

۔ شاہانِ یمن کا خط

تبوک سے نبی ﷺ کی واپسی کے بعد شاہانِ حِمیر یعنی حارث بن عبد کلال، نعیم بن عبدکلال اور رعین، ہمدان اور معافر کے سربراہ نعمان بن قیل کا خط آیا، ان کا نامہ بر مالک بن مُرّہ رہادی تھا، ان بادشاہوں نے اپنے اسلام لانے اور شرک واہلِ شرک سے علیحدگی اختیار کرنے کی اطلاع دے کر اسے بھیجا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس ایک جوابی خط لکھ کر واضح فرمایا کہ اہلِ ایمان کے حقوق اور ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں، آپ نے اس خط میں معاہدین کے لیے اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ بھی دیا تھا، بشرطیکہ وہ مقررہ جزیہ ادا کریں، اس کے علاوہ آپ ﷺ نے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یمن روانہ فرمایا اور حضرت معاذ بن جبلؓ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔

۔ وفد ِ ہمدان

یہ وفد ۹ ھ میں تبوک سے رسول اللہ ﷺ کی واپسی کے بعد حاضرِ خدمت ہوا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ کر جو کچھ انہوں نے مانگاتھا عطا فرمادیا اور مالک بن نمطؓ کو ان کا امیر مقرر کیا، ان کی قوم کے جو لوگ مسلمان ہوچکے تھے ان کا گورنر بنایا اور باقی لوگوں کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لیے حضرت خالد بن ولیدؓ کو بھیج دیا، وہ چھ مہینے مقیم رہ کر دعوت دیتے رہے، لیکن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا، پھر آپ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو بھیجا اور حکم دیا کہ وہ خالدؓ کو واپس بھیج دیں، حضرت علیؓ نے قبیلۂ ہمدان کے پاس جاکر رسول اللہ ﷺ کا خط سنایا اور اسلام کی دعوت دی تو سب کے سب مسلمان ہوگئے، حضرت علیؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کی بشارت بھیجی، آپ نے خط پڑھا تو سجدے میں گرگئے، پھر سر اٹھاکر فرمایا؛ ہمدان پر سلام، ہمدان پر سلام۔

وفد بنی فَزَارہ-

یہ وفد ۹ ھ میں تبوک سے نبی ﷺ کی واپسی کے بعد آیا، اس میں دس سے کچھ زیادہ افراد تھے اور سب کے سب اسلام لاچکے تھے، ان لوگوں نے اپنے علاقے کی قحط سالی کی شکایت کی، رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور دونوں ہاتھ اٹھاکر بارش کی دعاکی، آپ نے فرمایا: اے اللہ! اپنے ملک اور اپنے چوپایوں کو سیراب کر، اپنی رحمت پھیلا، اپنے مردہ شہر کو زندہ کر، اے اللہ! ہم پر ایسی بارش برسا جو ہماری فریاد رسی کردے، راحت پہنچادے، خوشگوار ہو، پھیلی ہوئی ہمہ گیر ہو، جلد آئے، دیر نہ کرے، نفع بخش ہو، نقصان رساں نہ ہو، اے اللہ! رحمت کی بارش، عذاب کی بارش نہیں اور نہ ڈھانے والی، نہ غرق کرنے والی اور نہ مٹانے والی بارش، اے اللہ! ہمیں بارش سے سیراب کر اور دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں