مخلصین کا جذبۂ ایثار

موسم سخت تھا اور قحط کا زمانہ تھا، حنین اور طائف کے میدانوں سے لوٹ کر آئے ہوئے کچھ زیادہ مدت نہیں گزری تھی، پھر مقابلہ بھی دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے تھا جس کی حدیں عرب سے قسطنطنیہ تک وسیع تھیں، مگر مخلص مسلمانوں نے جیسے ہی حضور اکرم ﷺ کی زبانِ مبارک سے جہاد میں شرکت کا پیام سنا تو مدینہ منورہ کی فضا لبیک یا رسول ﷲ! کی صداؤں سے گونج اُٹھی، جوانوں، بوڑھوں، بیماروں، تندرستوں، سواروں اور پیدلوں کے قافلے کے قافلے آنے شروع ہوگئے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جونہی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سنا کہ آپ ﷺ رومیوں سے جنگ کی دعوت دے رہے ہیں، جھٹ اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑے اور پوری تیز رفتاری سے لڑائی کی تیاری شروع کردی، قبیلے اور برادریاں ہر چہار جانب سے مدینہ میں اترنا شروع ہوگئیں اور سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری تھی، کسی مسلمان نے اس غزوے سے پیچھے رہنا گوار ا نہ کیا، البتہ تین مسلمان اس سے مستثنیٰ ہیں کہ صحیح الایمان ہونے کے باوجود انہوں نے غزوے میں شرکت نہ کی، حالت یہ تھی کہ حاجت مند اور فاقہ مست لوگ آتے، اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرتے کہ ان کے لیے سواری فراہم کردیں، تاکہ وہ بھی رومیوں سے ہونے والی اس جنگ میں شرکت کرسکیں اور جب آپ ﷺ ان سے معذرت کرتے کہ :

وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ (۹: ۹۲)

”میں تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا تو وہ اس حالت میں واپس ہوتے کہ ان آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پارہے ہیں۔”

اسی طرح مسلمانوں نے صدقہ وخیرات کرنے میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کی، حضرت عثمان بن عفانؓ نے ملک شام کے لیے ایک قافلہ تیار کیا تھا، جس میں پالان اور کجاوے سمیت دوسو اونٹ تھے اور دو سو اوقیہ (تقریباً ساڑھے انتیس کلو ) چاندی تھی، آپ نے یہ سب صدقہ کردیا، اس کے بعد پھر ایک سو اونٹ پالان اور کجاوے سمیت صدقہ کیا، اس کے بعد ایک ہزار دینار (تقریباً ساڑھے پانچ کلو سونے کے سکے) لے آئے اور انہیں نبی ﷺ کی آغوش میں بکھیر دیا۔ رسول اللہﷺ انہیں الٹتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے، آج کے بعد عثمان جو بھی کریں انہیں ضرر نہ ہوگا، اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے پھر صدقہ کیا اور صدقہ کیا، یہاں تک کہ ان کے صدقے کی مقدار نقدی کے علاوہ نوسو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تک جا پہنچی۔ (جامع ترمذی : مناقب عثمان بن عفان)

ادھر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ دو سو اوقیہ (تقریباً ساڑھے ۲۹ کلو ) چاندی لے آئے، حضرت ابوبکرؓ نے اپنا سارا مال حاضرِ خدمت کردیا اور بال بچوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سوا کچھ نہ چھوڑا، ان کے صدقے کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور سب سے پہلے یہی اپنا صدقہ لے کر تشریف لائے تھے، حضرت عمرؓ نے اپنا آدھا مال خیرات کیا، حضرت عباسؓ بہت سا مال لائے، حضرت طلحہ، سعد بن عبادہ اور محمد بن مسلمہ بھی کافی مال لائے، حضرت عاصم بن عدیؓ نوے وسق (یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو، ساڑھے ۱۳ ٹن ) کھجور لے کر آئے، بقیہ صحابہ بھی پے در پے اپنے تھوڑے زیادہ صدقات لے آئے، یہاں تک کہ کسی نے ایک مُد یا دو مد صدقہ کیا کہ وہ اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتے تھے، عورتوں نے بھی ہار، بازو بند، پازیب، بالی اور انگوٹھی وغیرہ جو کچھ ہوسکا، آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، کسی نے بھی اپنا ہاتھ نہ روکا اور بخل سے کام نہ لیا، صرف منافقین تھے جو صدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں پر طعنہ زنی کرتے تھے، (کہ یہ ریا کارہے) اور جن کے پاس اپنی مشقت کے سوا کچھ نہ تھا، ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (کہ یہ ایک دو مد کھجور سے قیصر کی مملکت فتح کرنے اٹھے ہیں)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں