مسجد ضرار جلائی گئی

جب حضور اکرم ﷺ تبوک تشریف لے جارہے تھے تو اس وقت منافقین نے اسلام کے خلاف سازشیں کرنے اور باہر سے آنے والے دشمنان اسلام کے ٹھہرانے کے لئے مسجد کے نام سے ایک عمارت بنائی تھی، یہ عمارت مدینہ منورہ سے کچھ دور پر مسجد قباء کے قریب بنی سالم بن عود کے محلہ میں تھی، حضور ﷺ تبوک تشریف لے جا نے سے پہلے چند منافقین حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ” یا رسول اللہ! ہم نے بیماروں اور معذوروں کی آسانی کے خیال سے قباء میں ایک نئی مسجد بنائی ہے حضور ﷺ ایک مرتبہ تشریف لا کر نماز پڑھائیں تو ہمارے لئے برکت و سعادت کا باعث ہو” لیکن حضور ﷺ نے جنگی تیاریوں کی بدولت اس معاملہ کو موخر کردیا تھا، حضور ﷺ کی تبوک سے واپسی کے دوران اس نام نہاد مسجد کی حقیقت حضور ﷺ پر ظاہر فرما دی گئی کہ منافقین وہاں جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے ہیں، اسی لئے حضور ﷺ کو اس سے قطعاً بے تعلق رہنے کا حکم دیا گیا، مسجد ضرار کے متعلق حسب ذیل آیات نازل ہوئیں:

( ترجمہ )

” اور وہ لوگ جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی کہ نقصان پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالیں اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے اس سے پہلے لڑ چکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور اگر ان سے پوچھا جائے گا تو وہ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ ہم تو بھلائی چاہتے تھے، لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ (سورۂ توبہ : ۱۰۷)

جب آپ ﷺ مدینہ کے قریب پہنچے اور ایک گھنٹہ کا راستہ رہ گیا تو مالک بن دختم سالمی اور معن بن عدی عجلی کو حکم دیا کہ وہ قباء جائیں اور اس عمارت کو جو مسجد کے نام سے بنائی گئی ہے منہدم کر دیں، چنانچہ اس کو گرا کر آگ لگا دی گئی۔
( زرقانی بحوالہ سیرت طیبہ)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں