مسجد ضرار

اپنے ان ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لئے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے کے لئے ایک جگہ کا تعین کرکے منافقین نے مسجد کی شکل کا ایک ڈھانچہ تیار کیا اور حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:

یارسول ﷲ! ہم لوگوں نے بیماروں اور محتاجوں کے لئے نیز بارش اور سردی کی راتوں میں نماز کے لئے ایک مسجد بنائی ہے، ہماری خواہش ہے کہ آپ ﷺ اس مسجد میں تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، اس درخواست کے پسِ پشت منافقین کا یہ مقصد تھا کہ حضور ﷺ کے وہاں نماز پڑھنے کے بعد مسلمان اس میں آتے جاتے رہیں گے اور ان کے سایہ تلے منافقین اپنے ہمنواؤں کو اس جگہ محفوظ رکھ سکیں گے۔

چونکہ حضور اکرم ﷺ اس وقت غسّانیوں کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف تھے، اس لئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جنگ سے واپسی کے بعد وہاں نماز ادا فرمائیں گے، حضور ﷺ کے اس جواب نے منافقین کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا، ابن ہشام کے مطابق جن لوگوں نے یہ مسجد بنائی تھی وہ بارہ اشخاص تھے، جن کے نام یہ ہیں

خذام بن خالد۔ یہ بنو عبید بن زید کی شاخ بنو عمر و بن عوف کا ایک فرد تھا، اس کے گھر کے ایک حصہ میں یہ مسجد بنائی گئی تھی۔
ثعلبہ بن حاطب بنو اُمیہ بن زید کا آدمی تھا
معتب بن قشیر بنوضبیعہ بن زید سے تھا
ابوحبیبہ بن ازعر بنوضبیعہ بن زید سے تھا
عباد بن حنیف اخو سہل بن حنیف بن عمرو بن عوف سے تھا
جاریہ بن عامراور اس کے دو بیٹے
مجمع بن جاریہ
زید بن جاریہ
نبتل بن حارث بنوضبیعہ بن زید سے تھ
یخرج بنوضبیعہ بن زید سے تھا
بجاد بن عثمان بنوضبیعہ بن زید سے تھا
ودیعہ بن ثابت بنو اُمیہ بن زید سے تھا
(ابن ہشام)

(ترجمہ)

” اور انہوں نے کہا گرمی میں جنگ کے لئے نہ نکلو، آپ ﷺ کہہ دیجیے! جہنم کی آگ زیادہ گرم ہے، اگر وہ سمجھیں تو کم ہنسیں اور زیادہ روئیں، ان کرتوت کے بدلے میں جو وہ کرتے ہیں۔” (سورہ توبہ : ۸۲)

رسول ﷲ ﷺ کو خبر ملی کہ کچھ منافقین سویلم یہودی کے گھر میں جمع ہوکر غزوۂ تبوک میں شرکت کرنے سے لوگوں کو منع کررہے ہیں، آپ ﷺ نے طلحہؓ بن عبیدﷲ کو چند صحابہ کے ساتھ ان کی طرف بھیجا اور حکم دیا کہ سویلم کا گھر مع ان لوگوں کے جلادیں، طلحہؓ نے ایسا ہی کیا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں