مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی کی تحریک

اپکو یاد ہوگا کہ مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی کی تحریک چلی تھی پھر وہ تحریک کامیاب ہوئی اور اس وقت 2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی۔ پیپلز پارٹی کے دور میں افتخار چودھری ابھی بحال نہیں ہوا تھا تو نون لیگ سمیت دیگر جماعتوں نے بشمول تحریک انصاف،جماعت اسلامی لانگ مارچ کا اعلان کیا تب افتخار چودھری کو بحال تو کر دیا گیا لیکن افتخار چودھری گلے کی ہڈی بن گیا پیپلز پارٹی کے لئے۔ روزانہ سوموٹو ایکشن،روزانہ پیپلز پارٹی کے خلاف سماعت وہ الگ بات ہے کہ اسکے کئی فیصلوں سے پاکستان کو نقصان ہوا جیسے رینٹل پاور اور ریکوڈک جیسے کیس تھے۔ افتخار چودھری نے سوموٹو تو بہت لئے لیکن کسی بھی سوموٹو کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا۔
پھر افتخار چودھری نون لیگ کی آنکھوں کا تارا بن گیا اور 2013 الیکشن جسکو RO کا الیکشن کہا جاتا ہے جنرل کیانی سے ساتھ ملکر افتخار چودھری نے نون لیگ کو جتوایا۔
اب یہی معاملہ فائز عیسیٰ کے ساتھ ہو رہا ہے۔افتخار چودھری سرعام پیپلز پارٹی کے خلاف نہ تھا لیکن فائز عیسیٰ تو نفرت اور بغض سے بھرا ہوا انسان ہے اور یہ بندہ اب 2023 الیکشن میں تحریک انصاف کے لئے گلے کی ہڈی بنے گا۔ اگر تحریک انصاف جیت گئی جو بظاہر مشکل ہے کیونکہ ہر ادارہ تحریک انصاف کے خلاف ہے لیکن پھر بھی اگر جیت گئے تو فائز عیسیٰ کو 1 سال تک چیف جسٹس بنے گا وہ حکومت کے لئے مشکل ترین وقت ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں