میاں مشتاق اپنے ہی نوکروں کےلئے جلاد بن گیا

تفصیلات کے مطابق پولیس اسٹیشن مناواں کی حدود ایک غریب فیملی میاں مشتاق کے فارم ہاوس پر
کام کر رہی تھی محمد اشرف اور اس کی بیوی نسرین اور بچے کام کرتے تھے میاں مشتاق نے اشرف کی بیٹی چودا سالہ علیشبہ کے ساتھ ذیادتی کرنے کی کوشش کی فارم ہاوس پر تو علیشبہ اپنی عزت کو بچاتے ہوے اپنی ماں کے پاس بھاگ کر آگئی اور اپنی ماں کو بتایا کہ میاں مشتاق نے میرے بازو سے پکڑ کر مجھے میٹرس پر دھکہ دیا اور مجھ پر بری نیت سے لپٹنے لگا میں جلدی سے اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی جب بیٹی نے سب کچھ ماں کو بتایا تو ماں نے آکر میاں مشتاق سے کہا کہ میاں صاحب آپ ہمارے مالک ہیں آپ نے میری بیٹی کےساتھ ذیادتی کرنے کی کوشش کی ہے ہم تو آپ پر بہت بھروسہ کرتےہیں اتنی بات کرنے کی دیر ہی تھی میاں مشتاق نے بچی کی ماں نسرین پر تشدد کرنا شروع کردیا اتنا مارا کہ نسرین کا دانت بھی ٹوٹ گیا اور نسرین کے کپڑے بھی پھاڑ دئیے یہ انسان کی شکل میں چھپا درندہ صفت میاں مشتاق کافی دیر تک زمین پر روندتا رہا جب اشرف کو معلوم ہوا کہ میری بیوی پر میاں مشتاق نے تشدد کیا ہے تو اشرف نے 15 پر کال کردی مناواں پولیس موقع پر پہنچ گئی وقوع کی تصدیق کرنے کے بعد پولیس نے میڈیکل کروانے کے لئے ریفر کردیا اور ان لوگوں نے ایپلیکیشن دے دی ایپلیکیشن دینے کی وجہ سے میاں مشتاق نے بچے فارم ہاوس پر قید کر لیے اور کہتا ہے کہ آپ کے بچے میرے پاس ہیں ایپلیکیشن اٹھاو نہیں تو میں آپ کے بچے مار دوں گا.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں