ناموس رسول اللہ ﷺ کی حساسیت

کتاب اللہ میں حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کو مخاطب کیا تو اللہ نے واضح کہا :

يٰـاٰدَمُ ( اے آدم) ، يٰــنُوْحُ(اے نوح) ، يٰـاِبْرٰهِيْمُ(اے ابراہیم) علیھم السلام

وہیں جب رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرنے کا وقت آیا تو غیرت الہی نے گوارا نہ کیا کہ محبوب ﷺ کو نام اقدس سے مخاطب کیا جائے ، فرمایا :

يٰاَيُّهَا الرَّسُوْلُ( اے رسول!) ، يٰـاَيُّهَا النَّبِیُّ (اے نبی!) ، يٰـاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (اے کملی کی جھرمٹ والے!) ﷺ

شیخ السنہ ، جلالت العلم ، امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“پس یہ رسول اللہ ﷺ کے خصائص میں سے ہے کہ اللہ نے امت مسلمہ پر حرام کر ڈالا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نام اقدس سے مخاطب کرے بخلاف تمام انبیائے کرام علیھم السلام کے کہ ان کی امتیں ان کو نام سے مخاطب کرتی تھیں”
(الخصائص الکبری للسیوطی)

مالک کو تو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو امت نام مبارک سے مخاطب کرے اور کہاں اہل کفر کا یکجا ہو کر اہانت رسول اللہ ﷺ کرنا؟
نہ جانے محشر کس منہ سے اللہ کے حضور جانا ہے ۔ نماز و روزہ زکوۃ و حج تو اس کی رحمت میں چھپ جاوینگے ، یہاں کیا جواب دینگے؟
بخدا ہمیں اندازہ بھی نہیں کہ اللہ کے ہاں ناموس رسالت کا مسئلہ کتنا حساس ہے😢

نوٹ: وہ تمام روایات جن میں صحابہ رضی اللہ عنھم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نام مبارک سے مخاطب کیا ہے ، وہ ممانعت سے پہلے کی ہیں ، امام سیوطی نے اس پر بحث کی ہے!

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں