نماز کے احکام

حدیث : 89
الْحَدِيثُ التٍاسِعُ والثٍمَانُونَ
عَنْ عبد اللَّه بن مالك ــ ابن بُحينة رضي الله عَنْه : «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إبْطَيْهِ».

[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب يبدي ضبعيه، ويجافي في السجود، برقم 390، بلفظه، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الاعتدال في السجود، ووضع الكفين على الأرض، ورفع المرفقين عن الجنبين، ورفع البطن عن الفخذين في السجود، برقم 495.]

معنی الحدیث:
حضرت عبداللہ بن مالک بن بحینه رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے ہاتھوں کو اتنا کشادہ کر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپکی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔

مفرداتُ الحدیث:
اِذَا صَلّٰى : جب نماز پڑھتے ۔
فَرَّجَ : کشادہ کرتے کھولتے، پھیلاتے ۔
بَيْنَ يَدَيْهِ : اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان ۔
حَتّٰى يَبْدُوَ : یہاں تک کہ ظاہر ہوتی ۔
بَيَاضُ اِبْطَيْهِ : آپکی بغلوں کی سفیدی ۔

مفہوم الحدیث:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی رغبت، چاہت اور دلچسپی سے نماز ادا کیا کرتے تھے سجدہ کی حالت میں دونوں بازوؤں کو اسطرح پھیلاتے کہ آپکی بغلوں کی سفیدی صاف دیکھائی دینے لگتی۔

احکام الحدیث:
1:سجدے کی حالت میں بازوؤں کو پیٹ کےساتھ ملانے کی بجائے انہیں پھیلائے ہوئے الگ رکھنا چاہیے اسطرح کہ کہنیاں اٹھی ہوئی ہوں زمین یا پیٹ کے ساتھ ملی ہوئی نہ ہوں۔
2:نماز ادا کرتے ہوئے دلچسپی، تغبت اور شوق کا مظاہرہ کیا جائے۔سستی، کاہلی اور دلی سے نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں